ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم:میزانِ شریعت میں





     

    عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم:میزانِ شریعت میں

    مرتب : حافظ عبدالتواب محمدی ( فاضل جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    ایک بڑی ہی اہم حقیقت جوذیل کے جملہ میں سمیٹی گئی ہے اوّلاً اُس کوملاحظہ فرمائیں:

    ’’ایمان کی تکمیل کیلئے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضروری ہے لیکن حصول جنت کیلئے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہے۔‘‘

    جملہ ایک ہے مگراِس میں دو؍۲دعوے کئے گئے ہیں(۱)ایمان کی تکمیل کیلئے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضروری ہے۔(۲)حصول جنت کیلئے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہے۔

    اِن دونوں دعوؤں پردلائل پیش خدمت ہیں:

    *پہلے دعویٰ کی دلیل:’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:تم میں کاکوئی بھی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کے نزدیک اُس کے والد،اولاداورسارے لوگوں سے کہیں زیاد ہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ ‘‘(بخاری:۱۵)

    حدیث مذکور سے دعویٰ پردلیل قائم ہوگئی کہ جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارے لوگوں سے کہیں زیادہ بڑھ کرمحبت نہیں کریں گے ہم مومن نہیں ہوسکتے۔ نہ ہی ہماراایمان مکمل کہلائے گا۔دوسری اہم بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے والدکااوراُس کے بعداولادکاتذکرہ کیا۔وہ اِس لئے کہ عمومی طورپرہرانسان اپنے والدکے توسط سے اِس دنیامیں تشریف لاتاہے۔ایسانہیں ہوسکتاکہ اولادتوہولیکن والدنہ ہو(سوائے حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے)۔البتہ ایسی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں کہ اولادنہ ہوں۔

    *دوسرے دعویٰ کی دلیل:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میرے سارے امتی جنت میں داخل ہونگے سوائے اُس کے جوانکارکرے۔اصحاب کرام رضی اللہ عنھم نے کہا:اللہ کے رسول!(جنت میں جانے سے)کون انکارکرسکتاہے؟آپ نے فرمایا:جومیری اطاعت کرے گاوہ جنت میں جائے گااورجومیری نافرمانی کرے گاوہ(جنت میں جانے سے)انکارکرتاہے۔ ‘‘(بخاری:۷۲۸۰)

    دعویٰ بلادلیل مردودہے۔صرف زبانی دعویٰ کی کوئی اہمیت نہیں۔جب تک دعویٰ پردلیل نہ پیش کردی جائے اُس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ایک انتہائی گنہ گارشخص سے پوچھئے کہ کیاتوجنت میں جاناچاہتاہے؟وہ کہے گاکہ کیوں نہیں؟میں جنت میں جاناچاہتاہوں۔توکیااُس کے اِس طرح کہنے پراُسے جنت کاحقدارقراردیاجاسکتاہے؟نہیں۔ جب تک کہ وہ اپنے قول پرعملی ثبوت نہیں پیش کردیتااُس کی بات نہیں مانی جائے گی۔اِسی حقیقت کومذکورہ حدیث میں بیان کیاگیاہے۔ورنہ دنیامیں ایساکون ساشخص ہے جوزبانی طور پرجنت میں جانے سے انکارکرے گا؟ہرکوئی اقرارہی کرے گا۔جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکہ کچھ لوگ ہیں جوجنت میں جانے سے انکارکریں گے یعنی اُن کاعمل ایسا ہوگا جس کی بنیادپروہ جنت کے مستحق نہیں بن سکتے۔علااوہ ازیں ایک بڑااہم مسئلہ بھی اِس حدیث کی روشنی میں بآسانی حل ہوگیاوہ یہ کہ کچھ لوگ اسلام کومختلف فرقوں میں بانٹنے کے بعدیہ پوچھتے ہیں کہ اِن میں سے کون جنت میں جائے گا؟آسان ساجواب ہے۔جوبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کامتبع ہوگاوہ جنت میں جائے گا۔جس کاعقیدہ،عبادات اور معاملات زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع میں گزری،وہی درحقیقت جنت میں داخلے کامستحق ہے۔

    *محبت اوراطاعت کاراز:ماں کیلئے اپنے بچے کی پرورش بڑی مشکل ہوتی ہے۔دن بھرمختلف کام کاج کرکے تھکی ہوئی ماں جب آرام کیلئے بسترپرلیٹتی ہے توتھکاوٹ کی وجہ سے جلدہی گہری نیندکی آغوش میں چلی جاتی ہے۔معصوم اورنادان بچے کوکیاپتہ کہ اُس کی ماں کوکس قدرسخت آرام کی ضرورت ہے۔سردرات میں وہ قضائے حاجت کرکے رونے لگتاہے یابھوک کی وجہ سے آوازدیتاہے۔ آوازماں کے کانوں میں پڑتی ہے اوروہ گہری نیندسے فوراًبیدارہوکراُس کی گندگی صاف کرتی ہے،اُس کے کپڑے تبدیل کرکے یا اُس کی بھوک مٹاکرپیارکے ساتھ اُس کوسلا دیتی ہے۔کچھ دیربعدبچہ پھراُسے جگاتاہے۔وہ اٹھ کرپھرسے اُس کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ایساایک ہی رات میں کئی مرتبہ ہوتا ہے۔ اِس طرح کی راتیں اورگہری نیندسے بیداری کاعمل برسوں پرمحیط ہوتاہے۔اللہ نے ماں کے دل میں’’محبت‘‘ڈال دی جسے ممتاسے تعبیرکیاجاتاہے۔اِسے جذبے نے پرورش کے دشوارگزارمرحلے کوآسان بنادیا۔

    اِنھیں باتوں کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اوراطاعت سے جوڑ کردیکھاجائے توبات آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجائے گی۔اطاعت ایک پیمانہ ہے جس سے محبت کی حقیقت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ محبت جس قدرشدیدہوگی اُسی کے بقدراطاعت کامظاہرہ ہوگا۔صرف زبانی دعوے کے دم پرمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ثابت نہیں کی جا سکتی۔ اُس کیلئے اطاعت لازم ہے ۔۔۔ ’’ان المحب لمن یحب لمطیع‘‘یقینامحبت کرنے والااپنے محبوب کامطیع وفرمانبردارہوتاہے۔

    فرعون کے ظلم وستم سے آگاہ کون نہیں؟بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کاقاتل۔جس کے حکم پرہزاروں معصوم بچوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاگیاتھا۔معصوم بچوں کاقتل عام جاری تھاکہ اُسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوتی ہے۔ماں بچے کی پیدائش پرفکرمندتھی۔اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرف پیغام بھیجاکہ جب تک تم اُنھیں سنبھال سکتی ہو سنبھالو۔ جب سنبھالانہیں جاسکے گاتواُنھیں ہمارے حوالے کردیناہم اُسے سنبھالیں گے۔ماں نے اُنھیں اللہ کے حکم مطابق ایک صندوق میں رکھ کردریا کے حوالے کردیا۔وہ صندوق بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے آرکتا ہے۔ایک سفاک وبے رحم ہتھیارے کیلئے اپنے اقتدارکی بقاء کی خاطرایک اورمعصوم کاخون بہاناکوئی مشکل نہیں تھا۔لیکن اللہ نے اُس خونی کی بیوی حضرت آسیہ(جوبعدمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام پرایمان لائی تھیں) کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت ڈال دی ۔جس کی وجہ سے فرعون کواپنی بدنیتی سے بازآناپڑا۔اللہ فرماتاہے:(وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ)(سورہ طہ:۳۹)ترجمہ:’’اورمیں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پرڈال دی ۔ ‘‘ صرف محبت کے جذبے کاالقاء کرناتھاکہ قاتل رکھوالابن گیا۔یہ محبت کے جذبے کاکمال تھاکہ اِس قدرسفاک قاتل کے دل کوموم کرگیا۔

    *نبی کی ذات اوربات:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کی جائے لیکن بات کونہ ماناجائے توکیاایساطریقہ صحیح قراردیاجاسکتاہے؟نہیں۔اگرذات سے محبت کی بات کی جائے تومشرکین مکہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بڑی محبت کیاکرتے تھے ۔اختلاف تو بات پرتھا۔وہ آپ کوصادق وامین کہتے تھے۔اِس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کی وجہ سے اُن کی دشمنی کا عالم یہ تھاکہ ہجرت کے وقت جان کے دشمن بنے ہوئے تھے۔لیکن اِن سب کے بعدبھی وہ اپنی امانتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رکھوائے ہوئے تھے۔جن کی ادائیگی کیلئے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کومکہ میں روک دیاتاکہ وہ لوگوں کی امانتیں اُن کے حوالے کرکے مدینہ ہجرت کریں۔

    مشرکین مکہ کورسول کی ذات نہیں بلکہ بات سے اختلاف تھا۔اِس سچائی کوقرآن مجیدبیان کرتے ہوئے فرماتاہے:(قَدْنَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰ یَاتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ)(سورہ انعام:۳۳)ترجمہ:’’ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کواُن کے اقوال غمزدہ کردیتے ہیں،سویہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ یہ ظالم تواللہ کی آیتوں کاانکارکرتے ہیں۔‘‘

    اِس آیت کی تفسیرمیں جناب حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکفارکی طرف سے اپنی تکذیب کی وجہ سے جوغم وحزن پہنچتا،اُس کے ازالے اورآپ کی تسلی کیلئے فرمایاجارہاہے کہ یہ تکذیب آپ کی نہیں ۔(آپ کوتووہ صادق وامین مانتے ہیں)دراصل یہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے اوریہ ایک ظلم ہے۔جس کاوہ ارتکاب کررہے ہیں۔ترمذی وغیرہ کی ایک روایت میں ہے کہ ابوجہل نے ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہااے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)!ہم تم کونہیں بلکہ جوکچھ تم لے کر کے آئے ہواُس کوجھٹلاتے ہیں۔اِس پریہ آیت نازل ہوئی۔ترمذی کی یہ روایت اگرچہ سنداًضعیف ہے لیکن دوسری صحیح روایات سے اِس امرکی تصدیق ہوتی ہے کہ کفارمکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ودیانت اورصداقت کے قائل تھے،لیکن اُس کے باوجودوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پرایمان لانے سے گریزاں رہے۔آج بھی جولوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق،رفعت کردار اورامانت وصداقت کوتوخوب جھوم جھوم کربیان کرتے اوراِس موضوع پرفصاحت وبلاغت کے دریابہاتے ہیں لیکن اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ اقتباض محسوس کرتے آپ کی بات کے مقابلے میں فقہ وقیاس اوراقوال ائمہ کوترجیح دیتے ہیں،اُنھیں سوچناچاہئے کہ یہ کس کاکردارہے جسے اُنھوں نے اپنایاہوا ہے؟‘‘ (تفسیر احسن البیان:۳۵۱)

    مذکورہ دلائل کی روٗسے یہ سچائی کھل کرسامنے آگئی کہ محبت رسول کاحقیقی مظاہرہ اطاعت کے ذریعہ ہی کیاجائے گانہ کہ صرف زبانی طورپر۔یہی شیوہ صراط مستقیم کے سالکین کارہاہے۔ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی توایسی ہے کہ اغیاربھی تعریفوں کے پل باندھنے پرمجبورہیں۔لیکن یہ حصول جنت کیلئے کافی نہیں ۔جنت اُسی کوملے گی جس نے محبت کے ساتھ اپنی ہراداکومحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے سانچے میں ڈھالاہو۔اللہ رب العزت کویہی معیارمطلوب ہے۔زندگی کاایک ایک لمحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کی روشنی میں گزرے۔

    سوال یہ ہے کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کااظہارکرنے کیلئے غیروں کی نقالی کرتے ہوئے ’’برتھ ڈے‘‘یا’’جنم دِوس‘‘مناناجسے ’’عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ سے تعبیرکیاجاتاہے،صحیح ہے؟ پورے سال میں صرف ایک مرتبہ زبانی محبت کادم بھرلیاجائے اور اُس میں بھی جی بھرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کامذاق اُڑایاجائے۔ ناچ گانے اورڈھول ،ہرغیرشرعی امرکادھڑلے کے ساتھ اہتمام ۔کیایہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں؟نبی سے محبت کایہی اندازہے؟کیااللہ کوایسے مسلمان مطلوب ہیں؟ آئیے اِن ساری چیزوں کومیزان شریعت میں تول کردیکھتے ہیں،تب پتہ لگے گاکہ حقیقت کیاہے اورخرافات کیاہے؟

    *اگرآپ کسی بھی عالم سے پوچھیں گے کہ کیااسلام میں کسی کا’’برتھ ڈے‘‘یا’’جشن میلاد‘‘مناناجائزہے؟تووہ فوراًجواب دے گا۔۔۔نہیں ۔بات بالکل سیدھی سی ہے کہ اسلام میں اِس رسم بدکانہ کوئی وجودہے نہ تصور۔پھراِسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیوں جوڑدیاگیا؟

    *’’عیدمیلاد‘‘کوپہلے ’’بارہ وفات‘‘کے نام سے موسوم کیاجاتاتھا۔جب یہ اعتراض ہواکہ آپ تونبی کو’’فوت شدہ‘‘مانتے ہی نہیں توپھراُن کے لئے ’’بارہ وفات‘‘ کیوں منائی جاتی ہے؟تواعتراض سے بچنے کی خاطرنام تبدیل کیاگیالیکن بدعت کونہیں چھوڑا۔’’بارہ وفات‘‘کو’’عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کردیاگیا۔اِس سے تویہی پتہ چلتا ہے کہ ’’عیدمیلاد‘‘کاشریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔اِسے نام نہادمسلمانوں نے گھڑاہے اوراپنی مرضی سے اِس میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔جبکہ شریعت اللہ کے حکم سے رسول یانبی لاتاہے اوراُس میں اُسے بھی کمی وبیشی کرنے کاکوئی اختیارنہیں ہوتا۔چہ جائے کہ بندوں میں سے کسی کوکسی قسم کے رد وبدل کاکوئی اختیارملے۔

    *مسلمانوں کوسال بھرمیں دوہی عیدیں عطاکی گئی ہیں (۱)عیدالفطراور(۲)عیدالاضحی۔یہ دونوں شرعی عیدیں ہیں اِس لئے کہ اِنھیں شریعت اسلامیہ نے مقرر کیاہے ۔ اب یہ تیسری ’’عیدمیلاد‘‘کہاں سے آئی؟دین اسلام میں کہیں کسی جگہ اِس پرکوئی دلیل موجودہے؟کیانبی ،صحابہ،تابعین،تبع تابعین یااُن کے بعدکسی نے بھی اِس کااہتمام کیا؟ آخر اِس کاآغازکب سے ہوا؟جب اِن سارے سوالوں کے جواب کوتلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے توایک ہی نتیجہ سامنے آتاہے وہ یہ کہ اِس کاکہیں کوئی ثبوت نہیں۔پھر شریعت سازی کے جرم کاارتکاب کیوں کیاگیا؟جس کی ہلاکت خیزی کے بارے میں اللہ رب العٰلمین سخت اندازمیں کہتاہے:(اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ شَرَعُوْالَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ بِہِ اللّٰہُ وَلَوْلَاکَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ)(سورہ شوریٰ:۲۱)ترجمہ:’’کیااُن لوگوں نے ایسے(اللہ کے) شریک (مقررکررکھے ) ہیں جنھوں نے ایسے احکام دین مقررکردئیے ہیں جواللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔اگرفیصلے کے دن کاوعدہ نہ ہوتاتو(ابھی ہی)اُن میں فیصلہ کردیاجاتا۔ یقیناً(اِن)ظالموں کیلئے ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘

    اِس آیت کواوراُس کے ترجمہ کوباربارپڑھئے اورسمجھنے کی کوشش کیجئے کہ اللہ کے حکم کے بغیرکسی عمل کوکرنااوراُسے شریعت کے نام پرپیش کرناکس قدرسنگین جرم ہے۔اِس کو شرک سے تعبیرکیاگیاہے۔یہ جرم اتنابھیانک ہے کہ اگراللہ نے فیصلے کادن یعنی قیامت کوپہلے سے طے نہ کیاہوتاتوایسے مجرموں کومہلت ہی نہیں دی جاتی بلکہ گناہ کرتے ہی اُن پر سزاکانفاذہوجاتا۔

    پہلوں نے شریعت سازی کے جرم کاارتکاب کیاتوہم کیوں اُن کی غلط راہ پرچل کراپنی آخرت کوتباہ کریں؟حقیقت کاعلم ہوجانے کے بعدبھی پھراُسی غلطی کودہرانادانش مندی نہیں کہلاتی۔اِسے حماقت سے تعبیرکیاجاتاہے۔پہلے سے لوگ کرتے آرہے ہیں یااکثریت کررہی ہے،اِتنے بڑے بڑے علماء کیسے غلط ہوسکتے ہیں؟یہ صرف جملہ بازی ہے ۔ دین اِس طرح کی فضول باتوں اوربیجاخیالات کانام نہیں ہے۔کسی بھی عمل کیلئے قرآن وحدیث کے دلائل موجودہوناچاہئے۔لوگوں کی کثرت وقلت کسی چیزکے کرنے یانہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتی۔

    *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ۶۳مرتبہ آپ کی پیدائش کادن آیا۔اگراِس کی واقعی شرعی حیثیت ہوتی تواِس دن جشن کااہتمام کیاجاتا۔اصحاب کرام رضی اللہ عنھم جونبی کے ایک اشارے پراپناسب کچھ قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہاکرتے تھے وہ کیسے پیچھے رہتے؟نہ ہی اِ س کااہتمام نبی نے کیانہ صحابہ نے۔نہ ہی اُن کے بعد اسلاف میں سے کسی نے۔یہ وہ تھے جواسلام کوسب سے بہترطورپرسمجھتے اورعمل کرتے تھے۔اللہ اُن سے راضی اوروہ اللہ سے راضی تھے۔کیاکچھ لوگ یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ نبی اورصحابہ سے کہیں زیادہ اسلام کی تعلیمات کوسمجھتے ہیں؟ جسے نبی اورصحابہ نہیں سمجھ پائے اُسے اِن نادانوں نے سمجھ لیا؟

    میلادسے متعلق کچھ دلائل کاجائزہ

    (۱)’’دیگرقومیں جب اپنے بڑوں کابرتھ ڈے مناتی ہیں جیساکہ کرسچن(عیسائی) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا توہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاکیوں نہیں مناسکتے؟ جبکہ آپ اُن سب سے کہیں زیادہ اِس بات کے مستحق ہیں۔‘‘     

    جواب:مسلمان کسی دوسری قوم کی پیروی نہیں کرتا۔ اصل مسلمان وہ ہوتاہے جواللہ اوراُس کے رسول کے کہے کے مطابق چلے۔ اگردوسروں کی تقلیدکرناہی ہے توپھر ذیل کی حدیث کبھی نہ پڑھی ہوگی تواب پڑھ لیجئے:

    ’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیارکی تووہ اُنھیں میں سے ہے۔‘‘(ابوداؤد: ۴۰۳۳) ہمیں غیروں کی نقالی نہیں بلکہ دوسروں کیلئے نمونہ بنناہے،اسلام کی تعلیمات پرعمل کرکے اورپہنچاکر۔اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام ہی پرعمل کرکے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے،اغیارکی مشابہت اختیارکرکے نہیں۔اگردوسروں کی تقلیدہی کرناتھی توپھراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کورسالت کی ذمہ داری دی کیوں گئی؟ غیروں کی نقل میں ’’عید میلاد‘‘ منانے والے کیایہ نہیں سوچتے کہ اِس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بڑھنے کی بجائے گھٹتی ہے۔ اِس طرح تویہی ثابت کیاجاتاہے کہ ’’عیدمیلاد‘‘مناناچاہئے لیکن آپ نے نہیں منایا۔اِس کے دوہی مطلب نکلتے ہیں(۱)آپ کواِس کاعلم تھالیکن امت کونہیں بتایا۔نعوذباللہ۔ یہ تو خیانت ہے،جس سے ہمارانبی بالکل پاک وصاف ہے۔(۲)آپ کو اِس کاعلم نہیں تھا۔توسوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاآپ کے زمانے دین مکمل نہیں ہواتھاکہ جوبعدمیں آنے والے کسی شخص نے پوراکیا؟ایک طرف تویہ دعویٰ کیاجاتاہے کہ آپ ’’ عالم الغیب‘‘تھے،تودوسری طرف اِن سب باتوں کاعلم نہ ہوناکس جانب اشارہ کرتاہے؟۔۔۔لوآپ اپنے دام میں صیادآگیا۔

    (۲)’’حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’پیرکے دن روزہ رکھنے کی بابت سوال کیاگیا‘‘توآپ نے فرمایاکہ:یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اوراِسی دن مجھے نبی بنایاگیایایہ کہ مجھ پرقرآن کانزول ہوا۔‘‘(مسلم:۲۸۰۴)

    حدیث مذکورسے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی ولادت کے دن کی خوشی تھی۔اِسی لئے ہمیں بھی خوشی منانی چاہئے۔اِس طرح کے استدلال پراستادمحترم ’’دکتورفضل الرحمٰن صاحب مدنی حفظہ اللہ ‘‘(مفتی جامعہ محمدیہ منصورہ،مالیگاؤں ورکن رابطہ عالمی اسلامی،مکہ مکرمہ)اللہ رب العٰلمین سے دعاہے کہ اُنھیں بخیر وعافیت رکھے،صحت وتندرستی دے اوراُن کے ذریعہ امت مسلمہ کوبھرپوراستفادہ کی توفیق دے۔آمین۔کاایک جملہ یادآتاہے جووہ ’’فقہ‘‘کی تدریس کے وقت ایسے استدلال کے بارے میں کہاکرتے تھے جواحمقانہ ہواکرتے تھے ’’دنیاگول ہے اِس لئے کہ چاول سفیدہے۔‘‘بھلابتائیے!دنیاکے گول ہونے اورچاول کے سفیدہونے میں کیانسبت ہے؟ ایسے ہی مذکورہ حدیث سے مزعومہ ’’عیدمیلاد‘‘کوثابت کرنابھی ہے۔آپ لوگوں کے سامنے چاراہم باتیں پیش کی جارہی ہیں جس سے بخوبی علم ہوجائے گاکہ بدعتی حضرات جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کادم بھرتے ہیں وہیں آپ کی بات کے ساتھ کس قدربراسلوک کرتے ہیں۔وفاداری کانام صرف زبانوں پرہی ہوتاہے کردارہرجائی ہوا کرتے ہیں۔(۱) حدیث میں جس خوشی کااظہارکیاگیاہے وہ سال میں قریب پچاس مرتبہ آتی ہے۔یعنی پیرکادن۔اوربدعتی حضرات سال میں صرف ایک مرتبہ خوشی مناتے ہیں۔ تذکرہ دن کا کیاجارہاہے اوریہ اُسے تاریخ سے جوڑرہے ہیں۔دن اسلامی کیلنڈرکے مطابق سال بھرمیں قریب پچاس مرتبہ آتاہے۔جبکہ تاریخ صرف ایک مرتبہ۔سوچئے ایک اور پچاس میں کتنافرق ہوتاہے۔ (۲)شریعت کاواضح اصول ہے کہ جب کسی عمل کے کرنے کاحکم دیتی ہے تواُس کاطریقہ بھی بتاتی ہے،مثلاًنمازکے پڑھنے کاحکم دیاگیاتواُس کی مکمل کیفیت بھی بتادی گئی۔ایسانہیں ہے کہ عمل کاحکم توہولیکن اُس کاطریقہ نہ سکھایاگیاہو۔ایک مرتبہ حدیث کوپھرسے پڑھئے ۔خوشی مناناایک عمل ہے اوراُس کاطریقہ ہے روزہ رکھنا۔ روزہ رکھناتونفس کیلئے بڑادشوارتھا،حقیقت بھی یہی ہے کہ جورمضان المبارک کے روزے نہیں رکھتے وہ بھلاہرپیرکوکیسے رکھتے؟جس طرح عام زندگی میں ’’سستی نجات کے عقیدے ‘‘ پر زوروشورکے ساتھ عمل کیاجاتاہے کہ چادرچڑھاؤ،نذرونیازکرواورلنگربانٹ دو،اِن سب سے جنت بڑی آسانی کے ساتھ مل جائے گی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی طرح جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اِسی طرح یہاں بھی چوردروازہ تلاش کرہی لیاگیا۔کیاضرورت ہے کہ ہرپیرکے دن روزہ رکھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہارکرنے کیلئے بس اتناہی کافی ہے کہ غیروں کی نقالی کرکے سال میں صرف ایک مرتبہ ’’سنت بولہبی‘‘پرعمل کرتے ہوئے جشن ’’عیدمیلاد‘‘منالیاجائے۔اتناہی کافی ہے۔ مفت میں عاشق رسول بننے کاسنہری موقع جوہاتھ لگتاہے۔محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہارکی حقیقی صورت یہی ہے کہ آپ کی اتباع میں ہرپیرکے دن روزہ رکھاجائے۔ اورابولہب کی سنت یہ ہے کہ آپ کی پیدائش کے دن خوشی منائی جائے۔جس پر نبی،صحابہ اوراسلاف میں سے کسی نے عمل نہیں کیا۔فیصلہ خودکیجئے!آپ کی اتباع میں ہرپیرکے دن روزہ رکھنے والے کی محبت صحیح ہے یاتوپھرابولہب کے طریقے پرچل کرسال میں صرف ایک مرتبہ ’’عیدمیلاد‘‘منانے والے کی؟(۳)شریعت سازی کرنے والوں کازبردست رد اِس حدیث میں پایا جاتاہے۔وہ اِس طرح کے عیدکے دن توروزہ رکھنامنع ہے جبکہ آپ تواِس دن روزہ رکھاکرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بذات خودیہ ثابت کردیا کہ جس دن میری پیدائش ہوئی وہ عیدکانہیں بلکہ عبادت کادن ہے۔جس دلیل کومیلادمنانے والوں نے اپنے حق میں استعمال کرناچاہاوہی اُن کے خلاف ہوگئی۔اور ویسے بھی اسلام میں صرف دوہی عیدیں ہیں،تیسری کسی عیدکاتصورموجودنہیں۔۔۔اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ دوانے کام نہ کیا(۴)اِس حدیث میں ولادت کے ساتھ بعثت (یعنی رسول بنائے جانے )کابھی ذکرہے۔مطلب واضح ہے کہ آپ کوجس طرح اپنی ولادت کے دن پرخوشی تھی اُسی طرح اُس دن کی بھی خوشی تھی جس دن آپ کورسول بنایاگیا۔ رسول بنائے جانے والے دن کی اہمیت،ولادت کے دن سے بڑھ کرہے۔اِس لئے کہ اُس دن سے آپ محمدبن عبداللہ سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن گئے تھے۔اگرحدیث رسول سے اتنی ہی محبت تھی توبعثت والے دن کوکیوں فراموش کردیاگیا؟

    (۳)صحیح بخاری کے حوالے سے ابولہب سے متعلق ایک خواب بیان کیاجاتاہے کہ حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب ابولہب کی موت واقع ہوگئی تواُس کے بعض رشتے دار نے خواب میں اُسے انتہائی بری حالت میں دیکھاتوپوچھاکہ کیامعاملہ پیش آیا؟تواُس نے کہاکہ صرف اِتنی راحت ملی کہ اِس(اُنگلی سے)حضرت ثویبہ کوآزادکرنے کی وجہ سے کچھ پلادیاجاتاہے۔

    اِس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ابولہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی حضرت ثویبہ رضی اللہ عنھاکوآزادکردیاجس کی وجہ سے اُسے جہنم میں کچھ راحت مل جاتی ہے۔صحیح بخاری کے اِس واقعے کومیزان شریعت میں تول لیاجائے توبہترہوگاتاکہ حقیقت کاصحیح علم ہوجائے۔(۱)یہ صرف خواب ہے حدیث نہیں۔لہٰذااِس سے کوئی دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔اوراِس خواب کے واقعے کوامام بخاری رحمہ اللہ نے بغیرکسی سندکے نقل کیاہے۔یونہی خوابوں سے دلیل پکڑی جانے لگے تو امت میں روزانہ ہرکوئی شخص خواب دیکھتاہے توکیاہرکسی کے خواب کوشریعت کوحصہ بنادیاجائے؟(۲)جہنم سراسرپریشانیوں کامسکن ہے۔وہاں سکون وراحت کی امیدکیونکرکی جا سکتی ہے؟(۳)جہنم میں پانی توپلایاجائے گامگرکیااُس سے راحت ملے گی؟قرآن پڑھئے!اللہ فرماتاہے:(وَسُقُوْامَآءً حَمِیْماًفَقَطَّعَ اَمْعَآءَھُمْ)(سورہ محمد:۱۵)ترجمہ: ’’ اور جنھیں گرم کھولتاپانی پلایاجائے گاجواُن کی آنتوں کوٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔‘‘اِس آیت اوراُس کے ترجمہ کوپڑھنے کے بعدکون کہے گاکہ ابولہب کوپانی سے راحت ملتی ہے؟ (۴) قرآن مجیدنے خاص کرابولہب کے ہاتھ کوٹارگیٹ کیاہے۔اللہ فرماتاہے:(تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبََّّ)(سورہ لہب:۱)ترجمہ:’’ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اوروہ تباہ ہوگیا ۔ ‘‘اُنگلیاں توہاتھوں میں ہی ہوتی ہیں ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن نے جس کے تباہ وبربادہونے کی بات کہی ہے اُسی سے ابولہب کوجہنم میں راحت ملے؟ (۵)ابو لہب وہ تھا جس نے اپنی لونڈی کواِس خوشی میں آزادکردیاتھاکہ اُس نے اُس کے فوت شدہ بھائی عبداللہ کے یہاں بیٹاہونے کی خوشخبری دی،لیکن اِسی ابولہب نے اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدیدمخالفت کی جب آپ نے اللہ کے حکم پرسب سے پہلے کوہ صفاپراعلانیہ اﷲ کی وحدانیت کی دعوت کاآغازکیاتھا۔یہ آپ کوکہتاہے:’’محمدصلی اللہ علیہ وسلم تیرا برا ہو ۔ کیاتونے اِسی لئے ہم سب کویہاں جمع کیاہے؟معلوم یہ ہواکہ ابولہب نے میلادکی خوشی تومنائی لیکن نبی اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم کی دعوت پرپتھربرسائے۔اِس کے بر خلاف حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲعنہ نے میلادتونہیں منایالیکن آپ کی دعوت کوسینے میں بسایااورزندگی کی آخری سانس تک جی جان سے پھیلایابھی۔اگرآپ کوابولہب سے پیارہے تو میلاد منائیے اورحضرت ابوبکررضی اﷲعنہ سے محبت کرتے ہوتورسول اللہ صلی اﷲعلیہ وسلم کامیلادمنانے کی بجائے آپ کی دعوت پرخودبھی عمل کیجئے اوراُسے دوسروں تک پہنچائیے۔

    اِن سب کے علاوہ بھی قرآن کی کچھ آیات ہیں جن سے کھینچ تان کرمیلادکوثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے ادنیٰ سی سمجھ رکھنے والابندۂ مومن آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ۔۔۔اِس دیوارکے کےٖلے کواُس دیوارمیں ٹھونکنے کی بیوقوفی کی جارہی ہے۔

    (۴)صحیح تاریخ ولادت کیاہے؟:اِس ضمن میں مؤرخین نے الگ الگ تحقیقات پیش کی ہیں۔مشہورتویہی کیاگیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت ۱۲؍ ربیع الاوّل ہے اوریہی تاریخ وفات بھی ہے۔کچھ لوگ ۸؍ربیع الاوّل کوولادت کی تاریخ مانتے ہیں۔مولاناصفئ الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ نے سیرت پرلکھی ہوئی اُن کی شہرۂ آفاق کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ میں مشہورماہرفلکیات’’کمال پاشا‘‘کی تحقیق کے حولے سے ثابت کیاہے کہ آپ کی تاریخ ولادت ۱۲؍ ربیع الاوّل نہیں بلکہ ۹؍ ربیع الاوّل ہے۔

    تاریخ ولادت پراختلاف ہے لیکن تاریخ وفات پرسبھی کااتفاق ہے کہ وہ ۱۲؍ ربیع الاوّل ہی ہے۔غورطلب امریہ ہے کہ آپ کی تاریخ ولادت کیاہے؟اِس بارے میں اصحاب کرام رضی اللہ عنھم نے کبھی نبی سے سوال کیااورنہ ہی کسی اورسے۔اِس سے تویہی پتہ چلتاہے کہ جس امرپرصحابہ جیسی مقدس جماعت نے پوچھ تاچھ نہیں کی اورنہ ’’عیدمیلاد‘‘ منائی تو ہم کیوں اُس معاملے میں پڑیں؟ہمیں اصحاب کرام رضی اللہ عنھم کی طرح ایمان لانے کاحکم دیاگیاہے۔اللہ فرماتاہے:(فَاِنْ آمَنُوْابِمِثْلِ مَآاٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِاھْتَدَوْا) (سورہ بقرہ:۱۳۷)ترجمہ:’’اگروہ تم جیساایمان لائیں توہدایت پائیں۔‘‘

    شیطان بھی کس قدرکائیاں ہے کہ نبی کی محبت کے نام پرہی مسلمانوں سے وفات نبی پرخوشی منواتاہے!۱۲؍ ربیع الاوّل کوجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اُس دن اصحاب کرام رضی اللہ عنھم کیونکرخوشی مناسکتے ہیں؟وہ تواُن کیلئے غموں میں ڈوباہوادن تھا۔جب اُنھوں نے ۱۲؍ ربیع الاوّل کومیلادنہیں منایاتواُن کے نقش قدم پرچلنے والے کس لئے منائیں ؟

    (۵)ربیع الاوّل یاربیع النور؟:چندسال قبل ایک نئی بدعت(بدعت تویوں بھی نئی ہی ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس کاوجودنہیں ہوتا۔لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ بدعت پہلے کے بدعتیوں میں نہیں پائی جاتی تھی ،اِس لئے نئی بدعت لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔) کوعوام میں متعارف کرنے کی کوشش جاری ہے اوروہ ہے ’’ربیع النور‘‘ نامی بدعت۔اِس کی وضاحت سے قبل ابلیس کی عیاری اورنام نہادمسلمانوں کی بیوقوفی کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:

    ’’انسان نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘یہ سوچ مشرکوں کی رہی ہے اوراِسی کونادان مسلمانوں نے بھی بڑے شوق کے ساتھ اپنالیاہے۔اِس بارے میں مشرکین اورنام نہادمسلمانوں میں اتفاق رائے پائی جاتی ہے۔جب کوئی اللہ کانبی دعوت پیش کرتاتواُس کی دعوت کویہ کہہ کرٹھکرادیاجاتاتھاکہ یہ توایک انسان ہے۔ نبی نہیں ہوسکتا۔وہ نبی کوانسان یعنی بشری مخلوق مانتے تھے لیکن نبی تسلیم نہیں کرتے تھے۔اللہ فرماتاہے:(فَقَالُوْآاَبَشَرٌیَّھْدُوْنَنَافَکَفَرُوْا)(سورہ تغابن:۶)ترجمہ:’’اُنھوں نے کہہ دیاکہ کیاانسان ہماری رہنمائی کرے گا؟پس انکارکردیا۔‘‘یہ تواُس وقت کی بات تھی جب نبی کی دعوت کوماننے والے بالکل نہیں یابہت کم تھے۔لیکن جب ماننے والوں کی تعدادبڑی توابلیس نے دودھاری تلوار کا رخ تبدیل کردیاکہ یہ نبی توہیں لیکن انسان نہیں۔پہلے نبی کوانسان ماناجاتاتھالیکن نبی نہیں اوراب نبی ماناجاتاہے لیکن انسان نہیں۔نبی کوبشری نہیں بلکہ ’’نوری مخلوق‘‘باور کرانے کی جستجوکی جارہی ہے۔حالانکہ اِس امرکوبہت ہی واضح طورپرقرآن نے بیان کردیا ہے جس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔اللہ فرماتاہے:(قُلْ اِنَّمَآاَنَابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ)(سورہ کہف:۱۱۰)ترجمہ:’’آپ کہہ دیجئے کہ میں توتم جیساہی ایک انسان ہوں۔(ہاں)میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبودصرف ایک ہی ہے۔‘‘آپ لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی ہوگی کہ ابلیس کس طرح صراط مستقیم سے لوگوں کوبھٹکادیتاہے اورعوام سمجھ بھی نہیں پاتی۔مشرکین مانتے تھے کہ نبی ہوتا ہے لیکن وہ انسان نہیں ہوسکتااورمسلمانوں کاایک طبقہ نبی کومانتاہے لیکن اُس کے بشر ہونے کاانکارکرتاہے۔اب آپ ہی سوچئے کہ دونوں میں فرق کیاہے؟

    ایک تونبی کے نوری مخلوق ہونے کاباطل عقیدہ،اُس پرطرفہ تماشہ یہ کہ شریعت سازی کاتباہ کن جرم۔یعنی شریعت نے جس مہینے کانام ’’ربیع الاوّل‘‘رکھاتھااب اُس کو تبدیل کرکے ’’ربیع النور‘‘بنادیاگیاہے۔یعنی نورکی پیدائش کامہینہ۔استغفراللہ۔کیاایسے لوگوں کواِس سنگین غلطی کاعلم بھی ہے کہ اُنھوں نے کتنے بھیانک جرم کاارتکاب کیاہے؟ شریعت کوتبدیل کرنے کی بدترین کوشش کی ہے۔جس کی سزاانتہائی سخت ہے۔

    (۶)’’عیدمیلاد‘‘کی ابتداکب ہوئی؟:۳۴۱ھ تک کسی کے خواب وخیال میں بھی ’’عیدمیلاد‘‘کاتصورموجودنہیں تھا۔امام المقدسی کی کتاب’’الباعث علی البدع والحوادث‘‘کے محقق ’’بشیرمحمدعیون‘‘نے لکھاہے کہ اربل کے حکمراں الکوکبری کے دورسے اِس کاآغازہوا۔اِس سے تویہ ثابت ہوہی گیاکہ’’عیدمیلاد‘‘بدعت ہے۔جسے نہ ہی نبی نے منایا،نہ اصحاب کرام نے اورنہ ہی ۳۴۱ھ تک کسی مسلمان نے ۔ہرمسلمان خودغورکرے کہ کیاجسے نبی اورصحابہ نے نہیں کیاوہ نیکی یادین کاحصہ کہلاسکتی ہے؟اُسے صرف اور صرف بدعت سے تعبیرکیاجائے گا۔بدعتی وہ ہوتاہے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کاباغی ہوتاہے اُسے ’’عاشق رسول‘‘نہیں کہتے۔ایسے لوگوں کاانجام کبھی بہترنہیں ہوتا۔

    ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں حوض کوثرپرتمھارامےٖرکارواں رہوں گا۔جومیرے پاس آئے گاوہ (اُس حوض میں سے ) پئے گااورجوپئے گااُسے(پھر)کبھی پیاس نہیں لگے گی،میرے پاس حوض پرکچھ لوگ آئیں گے جنھیں میں پہچان لوں گااوروہ مجھے پہچان لیں گے(کہ یہ میرے امتی ہیں اور میں اُن کارسول ہوں)پھراُن کے اورمیرے درمیان کچھ (پردہ وغیرہ)حائل کردیاجائے گا۔میں کہوں گاکہ یہ مجھ سے ہیں (یعنی میرے امتی ہیں )توکہاجائے گاکہ آپ نہیں جانتے تھے کہ اِنھوں نے آپ کے بعدنئے کام(یعنی بدعت)انجام دئے۔تب میں کہوں گا:دورہوجاؤ،دورہوجاؤ،جس نے میرے بعد(دین میں)تبدیلی کی۔‘‘(مسلم:۶۱۰۹- ۶۱۰۸)

    یہ ’’عیدمیلاد‘‘کی حقیقت بیانی پرایک مختصرتحریرہے جس میں قرآن وحدیث کے دلائل کو عام لوگوں تک’’محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کاصحیح پیغام پہنچانے کے مقصد سے جمع کیاگیاہے۔اِس موضوع پراوربھی بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں ۔جنھیں تفصیل مطلوب ہووہ اُن کتابوں کامطالعہ کرے۔خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی محبت کسی ایک یا خاص دن کی محتاج نہیں۔بلکہ جب تک سانس چلتی رہے گی آپ کی اتباع کی جاتی رہے گی جومحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی علامت ہے۔غیروں کی نقالی کرکے اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے۔جس طرح اصحاب کرام رضی اللہ عنھم نے اتباع کی اُسی طریق پرچل کرحقیقی مسلمان ہونے کاثبوت دیں۔یہی فلاح کی راہ ہے۔

    الٰہ العٰلمین سے دعاہے کہ احقاق حق اورابطال باطل کی اِس کاوش کولوگوں کی ہدایت کاذریعہ بنائے۔شرکیات،بدعات،خرافات اورگمراہی سے امت کومحفوظ رکھے۔اور اِس کتابچہ کو مرتب اورجملہ معاونین کی مغفرت ونجات اخروی کاذریعہ بنائے ۔آمین۔