ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    شرک ظلم عظیم ہے





    شرک ظلم عظیم ہے

    مرتب : حافظ عبدالتواب محمدی ( فاضل جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    نظر ثانی : مولانا ابو رضوان محمدی ( استاد جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ رب العٰلمین سے ایک دعاکی تھی جس کی اہمیت کے پیشِ نظراُسے قرآن جیسی تاقیامت باقی رہنے والی کتاب کاحصہ بنادیاگیاتاکہ ہرمسلمان اُسے اللہ سے مانگاکرے:

    (رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَاالْبَلَدَاٰمِناًوَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَالْاَصْنَامَ)(سورہ ابراہیم:۳۵)

    ترجمہ:’’اے میرے پروردگار!اِس شہر(یعنی مکہ)کوامن والابنادے،اورمجھے اورمیری اولادکوبُت پرستی سے پناہ دے۔‘‘

    حضرت یعقوب علیہ السلام جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں،اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کوبلاکرکیاکہتے ہیں اُسے قرآن میں نقل کیاگیاہے:

    (اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْحَضَرَیَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْقَالَ لِبَنِیْہِ مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْانَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآءِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰھاًوَّاحِداًوَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ)(سورہ بقرہ:۱۳۳)

    ترجمہ:کیا(حضرت)یعقوب (علیہ السلام)کے انتقال کے وقت تم موجودتھے؟جب اُنھوں نے اپنی اولادکوکہاکہ میرے بعدتم کس کی عبادت کروگے؟توسب نے جواب دیاکہ آپ کے معبوداورآپ کے آباء واجدادابراہیم(علیہ السلام)اوراسمٰعیل(علیہ السلام)اوراسحٰق(علیہ السلام)کے معبود کی، جوایک ہی ہے اورہم اُسی کے فرمانبرداررہیں گے۔‘‘

    اِسی سلسلے کی اگلی کڑی حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کونصیحت کرنابھی ہے:

    (وَاِذْقَالَ لُقْمَانُ لِابْنِہٖ وَھُوَیَعِظُہٗ ٰیبُنَیَّ لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ)(سورہ لقمان:۱۳)

    ترجمہ:’’اورجب کہ لقمان نے وعظ کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے فرمایاکہ میرے پیارے بچے !اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنابیشک شرک بڑابھاری ظلم ہے۔‘‘

    باپ اپنی اولادکاسب سے بڑاخیرخواہ ہوتاہے۔اِس حقیقت سے توسبھی آگاہ ہیں،لیکن سب سے بڑی خیرخواہی کیاہے؟کیاہرکوئی اِس سے بھی باخبرہے؟مذکورہ تینوں آیات پرغورکیاجائے تومعلوم یہ ہوتاہے کہ سب سے بڑی خیرخواہی ایک باپ کی اپنی اولادکے حق میں یہ ہے کہ اُسے شرک سے خبردارکرے۔اوراُس سے بچنے بچانے کی ساری تدبیروں کواختیارکیاجائے۔یہ وہ گناہ عظیم ہے جس کی بابت قرآن کاکھلااعلان ہے:(اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُمَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ)(سورہ نساء:۴۸)ترجمہ: ’’یقینااللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کونہیں بخشتااوراُس کے سواجسے چاہے بخش دیتاہے۔‘‘اللہ کی ذات سب سے بڑھ کرہے،لہٰذااُس کے ساتھ اگرکوئی گناہ کیاجائے تواُس کی سنگینی بڑھ جائے گی۔اِ س اعتبارسے شرک سب سے بڑاگناہ ہے جوخالق ومالکِ کائنات کے ساتھ کیاجاتاہے اورمشرک سب سے بڑاگناہ گارہوتاہے۔

    آئیے ہم اِس عظیم گناہ کوسمجھنے کی کوشش کریں تاکہ خودبھی اُس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں اورہماری اولاداوردیگرلوگوں کوبھی اِس سے بچانے کی جدوجہدکرسکیں۔

    *شرک کیاہے؟:شرک لغت میں ’’آمیزش (ملاوٹ)کرنا‘‘یا’’دوآدمیوں کاایک چیزمیں حصے دارہونا‘‘کوکہتے ہیں۔اوراصطلاح شریعت میں ’’اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یااللہ کے حقوق میں یااُس کی عبادت میں مخلوق میں سے کسی کوشریک،ساجھی داراورحصے دارسمجھناشرک کہلاتاہے۔دوسرے الفاظ میں اللہ کے حقوق میں سے کوئی بھی حق یاعبادت ،غیراللہ کی طرف پھیرناشرک ہے۔‘‘اِس حقیقت کوذیل کی آیت کے ذریعہ واضح طورپرسمجھاجاسکتاہے۔اللہ فرماتا ہے:

    (قُلِ ادْعُوْاالَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَایَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَافِی الْاَرْضِ وَمَالَھُمْ فِیْھِمَامِنْ شِرْکٍ وَّمَالَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ)(سورہ سبا:۲۲)ترجمہ:’’کہہ دیجئے!کہ اللہ کے سواجن جن کاتمھیں گمان ہے (سب)کوپکارلو،نہ اُن میں سے کسی کوآسمانوں اورزمینوں میں سے ایک ذرہ کااختیارہے نہ اُن کااُن میں کوئی حصہ ہے نہ اُن میں سے کوئی اللہ کامددگارہے۔‘‘

    اِس آیت میں شرک کی مکمل نفی کردی گئی ہے۔ملکیت،ساجھے داری اورتعاون۔اِن تینوں شکلوں سے غیراللہ کوپاک وصاف قراردیاگیاہے۔اللہ رب العٰلمین کے سوانہ ہی کوئی اِس کائنات کے ایک ذرہ کامالک ہے،نہ ہی ساجھی داراورنہ ہی کائنات کے بنانے یاچلانے میں اللہ کا مددگارہے۔

    *کیاامت محمدیہ شرک نہیں کرے گی؟افسوس ہوتاہے کہ یہ جھوٹادلاسہ وہ لوگ دیتے ہیں جومعمولی معمولی اختلاف پرکفروشرک کے فتوے بانٹتے پھرتے ہیں۔کہیں نکاح ٹوٹ جاتاہے توکہیں اسلام کے باہرکردیاجاتاہے۔پڑھئے قرآن کیاکہتاہے:(وَمَایُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّاوَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ)(سورہ یوسف:۱۰۶) ترجمہ: ’’اُن میں سے اکثرلوگ باوجوداللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔‘‘

    رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے کئی موقعوں پرارشادفرمایاکہ:تم اپنوں سے پہلے لوگوں کی ہوبہوپیروی کروگے۔(بخاری:۳۴۵۶)اورقرآن نے بتایاکہ پہلے کے لوگوں ،اہل کتاب نے جبت اورطاغوت کی عبادت کی،مختلف قسم کے شرک اورکفرکاارتکاب کیا۔سوفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اِ س امت میں بھی بالکل ایسی ہی گمراہیاں حتیٰ کہ شرک وکفرہونگے۔

    *شرک کی ابتداکیسے ہوئی؟:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما(سورہ نوح میں ذکرکئے گئے ’’ودّ،سُواع،یغوث،یعوق اورنسرکی تفسیرکرتے ہوئے)فرماتے ہیں کہ:’’یہ پانچوں قوم نوح علیہ السلام کے نیک آدمیوں کے نام تھے،جب یہ مرگئے توشیطان نے اُن کے عقیدت مندوں کوکہاکہ اُن کی تصویریں بناکرتم اپنے گھروں اوردکانوں میں رکھ لوتاکہ اُن کی یادتازہ رہے اوراُن کے تصوّرسے تم بھی اُن کی طرح نیکیاں کرتے رہو،جب یہ تصویریں بناکررکھنے والے فوت ہوگئے توشیطان نے اُن کی نسلوں کویہ کہہ کرشرک میں ملوث کردیاکہ تمھارے آباء تواِن کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمھارے گھروں میں لٹک رہی ہیں،چنانچہ اُنھوں نے اُن کی پوجاشروع کردی۔(بخاری:۴۹۲۰)یہاں سے شرک کی ابتدا ہوئی اوراُس کی وجہ تھی عقیدت مندی میں’’غلو‘‘۔نیک لوگوں کی محبت اوراُن کی طرح عبادت کاجذبہ دل میں رکھناچاہیئے،لیکن اُس میں غلوکرنے سے بچاجائے۔ورنہ یہی غلو،شرک تک پہنچانے کاآسان ذریعہ ثابت ہوگا۔افسوس ہوتاہے کہ قرآن اورحدیث کی اِس قدرصاف وشفاف تعلیم کے باجودبھی امت محمدیہ کی ایک بڑی تعدادانبیاء ورُسل علیھم السلام اوربزرگوں کی عقیدت مندی میں غلوکاشکارہوکرشرک میں ملوث ہوچکی ہے۔تکلیف اُس وقت دوچندہوجاتی ہے جب اُنھیں اِس طرح کی بدعقیدگیوں سے روکاجاتاہے تومصلحین کوہی سبّ وشتم کانشانہ بناتے ہیں۔شرک میں ڈوبے ہوئے یہ حضرات بجائے اِس کے کہ شرک کی حقیقت سے آگاہ ہوں اوراُس سے بچیں،اُلٹامصلحین پرہی’’شرک‘‘کافتویٰ ٹھونک دیتے ہیں۔قرآن وحدیث کامعمولی سابھی علم رکھنے والااِس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ سارے ہی انبیاء ورُسل علیھم السلام کی بنیادی دعوت عقیدۂ توحیدتھی اورشرک سے روکنا۔سورہ ہودوغیرہ میں یہ ساری باتیں بالتفصیل بیان کی گئی ہیں۔

    سورہ یونس کے اخیرمیں اِس امرکی بہت ہی شانداروضاحت کرتے ہوئے اللہ فرماتاہے:(وَلَاتَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَایَنْفَعُکَ وَلَایَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذاًمِّنَ الظّٰلِمِیْنَ*وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّفَلَاکَاشِفَ لَہٓٗ اِلَّاھُوَوَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍفَلَارَادَّلِفَضْلِہٖ یُصِیْبُ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ)(سورہ یونس:۱۰۷-۱۰۶)ترجمہ:’’اوراللہ کوچھوڑکرایسوں کی عبادت نہ کرناجوتجھ کونہ کوئی نفع پہنچاسکے اورنہ کوئی ضررپہنچاسکے۔پھراگرایساکیاتوتم اِس حالت میں ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔اوراگرتم کواللہ کوئی تکلیف پہنچائے توبجزاُس کے اورکوئی اُس کودورکرنے والانہیں ہے اوراگروہ تم کوکوئی خیرپہنچاناچاہے تواُس کے فضل کوکوئی ہٹانے والانہیں،وہ اپنافضل اپنے بندوں میں سے جس پرچاہے نچھاورکردے اوروہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والاہے۔‘‘

    *شرک کی قباحت بتانے والی ایک حدیث:’’حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)حضرت سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ:اگرمیں نے کسی(غیر)مردکواپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لیاتواُس (مرد)کوتلوارکے دھاروالے حصے سے(جگہ پر)ماردونگا۔اُن کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی توآپ نے فرمایا:کیاتمھیں سعدکی غیرت پرحیرت ہورہی ہے؟اللہ کی قسم !میں سعدسے کہیں زیادہ غیرت مندہوں اوراللہ مجھ سے بھی کہیں زیادہ غیرت مندہے۔‘‘(صحیح بخاری:۶۸۴۶)

    اِس حدیث کاشرک سے کیاتعلق ہے؟آئیے!اِس کوسمجھ لیتے ہیں۔شوہرکی نظرمیں اُس کی اپنی بیوی کی بڑی وقعت ہوتی ہے۔وہ اُس کیلئے وسعت بھرکپڑے،کھانے اوردیگرضروریات زندگی کاخیال رکھتاہے۔فطرتِ انسانی کی بنیادپراُس سے کچھ خطائیں یاکوتاہی ہوجائے تونظراندازبھی کردیتاہے،لیکن اُس کی بیوی کسی غیرمردکے ساتھ کوئی تعلق رکھے ،اُس کی غیرت یہ کبھی گوارانہیں کرسکتی۔وہ اپنی بیوی میں کسی غیرکی شراکت کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ایساکرنایہ اُس کی غیرت کے خلاف ہے۔سوچئے!جب ایک انسان یامرداپنی بیوی کو سال میں چندجوڑے کپڑے،تین وقت کاکھانااوردیگرضروریاتِ زندگی پوراکرکے اُس کے ساتھ کسی غیرمردکودیکھ لے تواُس کی غیرت قطعاًگوارانہیں کرتی۔ وہ اللہ جواپنے بندے کاخالق، مالک اورحاکم ہے۔بندہ ایک ایک سانس اورلمحے کیلئے اللہ کامحتاج ہے۔اللہ کی زمین پرچلے۔اُس کے آسمان کے نیچے رہے۔اُس کی عطاپرزندگی کے مزے لے اورعبادت غیراللہ کی کرے۔اللہ رب العزت جوسب سے زیادہ غیرت مندہے وہ اِسے کیسے گوارا کرے گا؟مردکی غیرت اُس کی اپنی بیوی میں شراکت کوگوارا نہیں کرسکتی توپھر رسول اپنی رسالت میں اوراللہ اپنی عبادت میں کسی کی شراکت کیونکرگوارا کریں گے؟

    *اعمال کی بربادی:شرک کے ہوتے ہوئے کسی بھی نیک عمل کے قبولیت کی امیدنہیں کی جاسکتی۔اِس حقیقت کوبڑے ہی واضح اندازمیں انبیاء ورُسل کے خطاب کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔اللہ فرماتاہے:(وَلَوْاَشْرَکُوْالَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْایَعْمَلُوْنَ)(سورہ انعام:۸۸)ترجمہ:’’اوراگر(بالفرض)یہ حضرات بھی شرک کرتے توجو کچھ یہ اعمال کرتے تھے سب اکارت ہوجاتے۔‘‘قرآن میں یہ جوبات بیان کی گئی ہے وہ اٹھارہ انبیائے کرام علیھم السلام کاذکرکرنے کے بعدکہی گئی ہے۔جبکہ انبیائے کرام علیھم السلام سے شرک کاصدورتوناممکنات میں سے تھا۔بتانے کامقصدیہ ہے کہ شرک وہ سنگین جرم ہے جس پربخشش کی امیدنہیں کی جاسکتی۔چہ جائے کہ وہ انبیائے کرام علیھم السلام کی جماعت ہی کیوں نہ ہو۔پھردیگرلوگوں کی کیاوقعت رہ جاتی ہے۔اِس ضمن میں امت محمدیہ کوخبردارکرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کے تناظرمیں اللہ کافرمان ہے:(وَلَقَدْاُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ)(سورہ زُمر:۶۵)ترجمہ:’’یقیناتیری طرف بھی اورتجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں)کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگرتونے شرک کیاتوبلاشبہ تیراعمل ضائع ہوجائے گااوربالیقین توزیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔‘‘اِس آیت کی تفسیرکے ضمن میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ فرماتے ہیں:’’اگرتونے شرک کیا‘‘کامطلب ہے،اگرموت شرک پرآئی اوراُس سے توبہ نہ کی۔خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جوشرک سے پاک بھی تھے اورآئندہ کیلئے محفوظ بھی۔کیونکہ پیغمبراللہ کی حفاظت وعصمت میں ہوتاہے،اُن سے شرک کاکوئی امکان نہیں تھا،لیکن یہ دراصل امت کیلئے تعریض اوراُس کوسمجھانامقصودہے۔‘‘ (احسن البیان:۱۳۱۰)

    معاملہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ شرک کے ہوتے ہوئے کسی بھی عمل کے قبولیت کی امیدنہیں رکھی جاسکتی۔اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط شرک سے بچنایعنی عقیدۂ توحیدکاحامل ہوناضروری ہے۔ہاں یہ بات واضح رہے کہ شرک اکبرہوتواُس سے سارے اعمال بربادہوجاتے ہیں ۔آدمی اسلام سے نکل جاتاہے لیکن شرک اصغر،جیسے ریاکاری ، غیراللہ کی قسم وغیرہ صرف اُس عمل کوبربادکرتاہے جس میں یہ داخل ہوجائے اوریہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑاگناہ ضرورہے لیکن اِس سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

    *نبی کی شفاعت سے محرومی:بروزِقیامت جب آخری عدالت قائم کی جائے گی ،اُس موقع پرنبی کی شفاعت کی کیااہمیت ہوگی اوراُس کے حقدارکون لوگ ہونگے وہ ذیل کی حدیث سے معلوم کرلیجئے:

    ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہرنبی کیلئے ایک مقبول دعا(خاص)تھی(جسے ردنہیں کیاجاتا)۔پس ہرنبی نے اُس دعاکے (مانگنے میں)جلدی کی(یعنی اُسے دنیامیں ہی استعمال کرلیا)۔(جبکہ)میں نے اپنی دعاکو(بڑی حفاظت کے ساتھ )قیامت کے دن میری امت کی شفاعت کیلئے سنبھال کررکھاہے۔اِن شاء اللہ وہ میرے ہراُس امتی کوکام آئے گی جس نے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیاہوگا۔‘‘(صحیح مسلم:۵۱۲)

    اگرزندگی کاخاتمہ عقیدۂ توحیدنہیں بلکہ شرک پرہوتاہے توآخرت کی سب سے بڑی محرومی ہاتھ لگنے والی ہے اوروہ ہے نبی کی شفاعت کامستحق خودکوثابت نہ کرپانا۔علاوہ ازیں اِس حدیث سے چنداہم باتیں اورمعلوم ہوتی ہیں(۱)نبیوں کی کچھ دعائیں ردبھی کردی جاتی ہیں۔مثلاًجب حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کے عذاب کی شکل میں طوفان آنے کے بعداپنے کافربیٹے کیلئے دعامانگی تواُسے اللہ نے ردکردیااورحضرت ابراہیم علیہ السلام نے کافرباپ کے حق میں دعاکی تواُسے بھی ردکردیاگیا۔(۲)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے بارے میں فکرکہ اتنی اہم دعاکوخاص طورپراُس وقت کیلئے بچاکررکھاہے جب پوری امت کواُس کی سخت ضرورت ہوگی۔(۳)یہ دعامستجاب ہے یعنی اُس کو ردنہیں کیاجائے گا۔لیکن یہ دعااُسے ہرگزفائدہ نہیں پہنچائے گی جس نے شرک سے ذرہ برابربھی وابستگی رکھی ہوگی۔اوربناتوبہ کے مرگیاہو۔

    *نبی اورمسلمانوں کی دعائے مغفرت سے محرومی:اگرکوئی مسلمان اِس دنیاسے انتقال کرجائے تواُس کیلئے مغفرت کی دعا کرنے کاحکم ہے۔نمازِجنازہ میں پڑھی جانے والی اوردیگردعاؤں سے اِس بات کاثبوت ملتاہے۔کوئی شخص اِس حالت میں اِس دنیاسے جاتاہے کہ اُس کا دامن شرک سے پاک نہیں ہوپایا تھا توپھرایک بڑی بدنصیبی اُسے یہ حاصل ہوگی کہ نبی اورمسلمان اُس کے حق میں مغفرت کی دعانہیں کریں گے۔ذیل کی آیت اُسی امرکی تفصیل بیان کررہی ہے:(مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآاَنْ یَسْتَغْفِرُوْالِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْکَانُوْآاُولِیْ قُرْبیٰ مِنْ بَعْدِمَاتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ)(سورہ توبہ:۱۱۳)ترجمہ:’’پیغمبرکواوردوسرے مسلمانوں کوجائزنہیں ہے کہ مشرکین کیلئے مغفرت کی دعامانگیں اگرچہ وہ رشتہ دارہی ہوں اِس امرکے ظاہرہوجانے کے بعدکہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔‘‘

    *صحیح بخاری کی روایت سے اِس آیت کاشان نزول یہ معلوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کی وفات کے وقت کہاتھاکہ جب تک مجھے روک نہیں دیاجاتامیں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتارہوں گا،تب یہ آیت نازل ہوئی ۔جس سے یہ بات کھل کرسامنے آگئی کہ کوئی کتنابھی قریبی رشتہ دارہویااسلام اورمسلمانوں سے ہمدردی رکھے اگراُس کی موت شرک پرہوتی ہے توپھروہ ہماری دعائے مغفرت کامستحق نہیں رہ جاتا۔

    *شرک کاچوردروازہ:سماعِ موتیٰ یعنی قبرمیں مدفون مُردہ ،زندوں کی آوازسُن کراُن کی فریادرسی کرتاہے،ضرورت پوری کرتاہے اورمددکرتاہے۔اِسی چوردروازے سے امت محمدیہ کی ایک بڑی تعداد شرک کی راہ پرچل پڑی ہے۔معاملے کوبالکل اُلٹ دیاگیاہے۔مُردہ ہماری دعائے مغفرت کامحتاج ہوتاہے نہ کہ زندہ شخص کسی مُردہ کامحتاج ہوتاہے۔کسی کی بھی فریادرسی کیلئے تین بنیادی باتیں بہت اہم ہیں (۱)سُننا(۲)سمجھنااور(۳)مرادپوری کرنے کی طاقت رکھنا۔زندہ انسان کے سننے کی ایک حدہوتی ہے،اُس کے آگے کی آوازوہ نہیں سن سکتا۔دیواریاکوئی اورچیزرکاوٹ بن جائے توقریب کی باتیں بھی نہیں سن سکتا۔یہ حال زندہ کاہے تومردہ کاحال کیاہوگا؟جس کے بارے میں قرآن مجیدنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوخطاب کرکے کہتاہے:(اِنَّکَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَاوَلَّوْمُدْبِرِیْنَ)(سورہ نمل:۸۰)ترجمہ:’’بیشک آپ نہ مُردوں کوسناسکتے ہیں اورنہ بہروں کواپنی پکارسناسکتے ہیں،جبکہ وہ پیٹھ پھیرے روگرداں جارہے ہوں۔‘‘قابلِ غوربات یہ ہے کہ قرآن نے ایک ہی جگہ پرمُردہ اوربہرہ کواکٹھاکردیا۔آخراِس اندازِبیاں کی کیاضرورت ہے؟دراصل قرآن کایہ طرزِاستدلال بڑاہی حسین اورعقل کواپیل کرنے والاہے۔ذراتوجہ فرمائیں کہ ایک شخص جوزندہ ہے،کھاتاپیتاہے،دیکھتاہے اورچلتاپھرتابھی ہے۔ایک عام آدمی کی طرح سب کچھ کرلیتاہے لیکن فرق صرف اتناہے کہ وہ بہرہ ہے،سن نہیں سکتا۔اب آپ اُس کے سامنے لاکھ آوازیں لگائیں اورچیخیں چلائیں وہ کبھی بھی کسی کی آوازنہیں سن سکتاتوپھرجواب کیونکردے گا؟توجوشخص مکمل طورپرمرچکاہووہ کسی کی آوازکیسے سنے گا؟مُردہ جب سنے گاہی نہیں تو جواب کیسے دے گا؟قربان جائیے قرآن کے اِس حسین اندازپر۔اِس قدرواضح فرمان کے بعدبھی اگرکوئی مردیاعورت کسی قبرپرجاکراہل قبورسے کچھ مانگتے ہیں تویہی سمجھاجائے گاکہ ایسوں کی عقل ہی مُردہ ہوچکی ہے۔دوسری جگہ پرقرآن مجیدپھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوخطاب کرکے کہتاہے:(وَمَآاَنْتَ بِمُسْعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)(سورہ فاطر:۲۲) ترجمہ:’’اورآپ اُن لوگوں کونہیں سناسکتے جوقبروں میں ہیں۔‘‘ مردہ پرستی کاجڑسے خاتمہ کرتے ہوئے اللہ فرماتاہے:(وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْامِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّایَسْتَجِیْبُ لَہٓ ٗ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَھُمْ عَنْ دُعَآءِھِمْ غٰفِلُوْنَ*وَاِذَاحُشِرَالنَّاسُ کَانُوْالَھُمْ اَعْدَآءً وَّکَانُوْابِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ)(سورہ احقاف:۶-۵)ترجمہ:’’ اوراُس سے بڑھ کرگمراہ اورکون ہوگا؟جواللہ کے سواایسوں کوپکارتاہے جوقیامت تک اُس کی دعانہ قبول کرسکیں بلکہ اُن کے پکارنے سے بالکل بے خبرہوں۔اورجب لوگوں کوجمع کیاجائے گاتویہ اُن کے دشمن ہوجائیں گے اوراُن کی پرستش سے صاف انکارکردیں گے۔‘‘

    شرک کاسب سے بڑاچوردروازہ بزرگوں کی عقیدت میں غلوکرنا،جس کاایک نتیجہ قبرپرستی ہے،جہاں صرف غیراللہ کاوسیلہ لگاکراللہ سے کچھ مانگاجائے ،ایسا نہیں ہے بلکہ شرک کے اوربھی بہت سارے امورانجام دئے جاتے ہیں۔مثلاًقبروں کے سامنے سجدہ ریزہونا،اُن سے دعامانگنا،منّت ماننااورنذرماننا،وہاں ذبح وقربانی کرنا،تبرک حاصل کرنا،تعظیم کے ایسے اعمال اختیارکرناجوصرف اللہ کاحق ہے،صاحبِ قبرکواللہ کی طرح سننے والا،حاجت رواسمجھنا۔ اِن سب کے علاوہ اخلاق کاجنازہ اُٹھالیاجاتاہے۔ایساتوہوناہی تھااِس لئے کہ یہ سب شرک کے برگ وبارہیں۔شریعت اسلامیہ کی واضح تعلیمات کے بالکل خلاف مردوزن کابے ڈھنگااختلاط ،بے پردگی اورحیاسوزمعاملات یہ سب بالکل عام باتیں ہیں۔اِن سب پرطرفہ تماشہ یہ کہ ’’جنتی دروازہ‘‘سے گزرنے کا’’سنہری موقع‘‘؟ایک مرتبہ جوگزرجائے اُس کیلئے جنت سمجھ لوکہ واجب ہوگئی ۔حیرت ہوتی ہے کہ جس جنتی دروزاے کاپتہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ کوچل سکا،نہ اصحاب کرام کواورنہ ہی اسلاف کرام کو،اُس کاپتہ اِنھیں کیسے چلا؟صرف پتہ ہی نہیں چلابلکہ یہاں اٹھابھی لائے۔مکہ ومدینہ جیسے بابرکت شہروں میں اِس کاوجودنہیں تویہاں کیسے؟شیطان بھی بڑاچالاک ہے کہ اتنے سارے شرکیہ کام کروالینے کے بعد’’جنت کے چوردروازے‘‘کی بھی سیرکروادیتاہے!!!

    ایک شبہ لوگوں میں یہ پھیلایاگیاہے کہ شرک صرف وہی ہے جوبُتوں کی عبادت کے نام پرکیاجاتاتھا۔قبرپرجانااوروہاں صاحبِ قبرکاوسیلہ لگاکراللہ سے کچھ مانگناشرک نہیں ہے۔مانگاتوصرف اللہ ہی سے جاتاہے۔توپھریہ کیسے شرک ہوسکتاہے؟اولاًتویہ بات سمجھ لی جائے کہ شرعی اعتبارسے وسیلے کی جائزشکلیں صرف تین ہیں۔جس کایہاں اجمالی ذکرکیاجارہاہے۔(۱)اللہ کے اسماء حسنیٰ کاوسیلہ:اللہ فرماتاہے:(وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا)(سورہ اعراف:۱۸۰)ترجمہ:’’اوراللہ ہی کیلئے اچھے اچھے نام ہیں سواُن ناموں سے اللہ کوپکاراجائے۔‘‘(۲)اپنے نیک اعمال کاوسیلہ:امام بخاری رحمہ اللہ نے بنی اسرائیل کے تین افرادکے متعلق ایک طویل روایت نقل کی ہے،جسے ’’حدیثِ غار‘‘سے موسوم کیاجاتاہے۔مختصراًیہ کہ تین افرادبارش سے بچنے کیلئے ایک غارمیں پناہ لیتے ہیں،ایک چٹان اُس کے دہانے کوآکربندکردیتی ہے،تب وہ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ لگاکراللہ سے دعاکرتے ہیں اوراُن کونجات مل جاتی ہے۔(بخاری:۲۲۷۲)(۳)زندہ نیک آدمی سے دعاکی درخواست:مشہورروایت ہے کہ دیہات سے آئے ہوئے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب آپ خطبہ ارشادفرمارہے تھے یہ کہاکہ آپ اللہ سے بارش کیلئے دعاکیجئے۔آپ نے دعاکی اوراللہ نے خوب پانی برسایا۔ (بخاری:۱۰۱۳)

    اب لوگوں میں جس وسیلے کومتعارف کرالیاگیاہے وہ ’’شرعی‘‘نہیں بلکہ ’’شرکیہ‘‘ہے۔ایک مُردہ کے وسیلے سے دعاکرنا۔جو ہماری آوازسن نہیں سکتاہے اور بالفرض سن لے تودعانہیں کرسکتاہے۔قرآن وحدیث میں اِس طرح کے شرکیہ وسیلے کاکہیں کوئی ثبوت نہیں۔نہ ہی کسی جگہ اِس بات کاکوئی ثبوت ہے کہ کسی کی شخصیت،جاہ ومرتبے اورحق ، صدقے اورطفیل سے ہی دعاقبول کی جائے گی۔بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدآپ کاوسیلہ لگانایاکسی صاحب قبرکا،تواِس پرکوئی بھی ثبوت نہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اوردیگرائمہ نے اورعلماء سلف نے بھی اسے حرام کہاہے۔

    وسیلے کی حقیقت سمجھ لینے کے بعدآیت مذکورہ کاترجمہ غورسے پڑھ لیں تومسئلہ بڑی آسانی کے ساتھ حل ہوجائے گاکہ قرآن کہتاہے’’۔۔۔جواللہ کے سواایسوں کوپکارتا ہے۔۔۔‘‘اللہ کے سواجوکوئی بھی ہو،اُس کے بارے میں کہاجارہاہے۔چاہے وہ نبی ہو،رسول ہو،فرشتہ ہویااورکوئی بھی۔سب ’’اللہ کے سوا‘‘میں داخل ہیں۔معلوم یہ ہواکہ اللہ کے سواجس کسی کوبھی جیسے اللہ کوپکاراجاناچاہئے،پکاراگیاتووہ شرک کے ہی زمرے میں آئے گا۔

    اگرآٹھ دس آدمی بیک وقت کسی کے سامنے کچھ کہنے لگیں تووہ سب کی آواز تو سن سکتاہے لیکن سمجھ نہیں سکتا۔علاوہ ازیں ایک پیچیدہ مسئلہ توباقی رہ ہی جاتاہے زبان کا۔ایک آدمی کسی صاحب قبرکی قبرپرجاکرجوکہ عربی یااُردوجاننے والاہو،مراٹھی،تمل،گجراتی یاتیلگومیں کچھ کہتاہے ،بالفرض مان بھی لیاجائے کہ قبروالاسنتاہے توکیاوہ اُس کی بات کوسمجھ پائے گا؟اِس کے بعدکامرحلہ توسب سے اہم ہے کہ مطالبات کیسے پورے کرے گا؟جوخودزندوں کی دعاکامحتاج ہو،کیاایسامُردہ کسی زندہ کی مددکرسکتاہے؟دراصل ایسی صفات کاحامل صرف اللہ رب العٰلمین ہی ہے،جیساکہ ذیل کی حدیث جوکہ طویل ہے اُس کے ایک حصے سے دلیل دی جارہی ہے:

    ’’حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہیں،اللہ فرماتاہے:۔۔۔۔اے میرے بندو! اگرتمھارے پہلے اورپچھلے اِنس وجن سب ایک کھلے میدان میں جمع ہوکر مجھ سے سوال کریں اورمیں ہرایک کواُس کے سوال کے مطابق عطاکردوں تواُس سے میرے خزانوں میں اُتنی ہی کمی واقع ہوگی جتنی کمی سوئی کوسمندرمیں ڈال کرنکالنے سے سمندرکے پانی میں ہوتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم:۶۷۳۷)

    *مشرکینِ مکّہ کاشرک:جس طرح آج کے نام نہادمسلمانوں نے وسیلے کے نام پراصحاب قبورکے درپرجاکرمنت اوردعامانگتے ہیں اوریہ عذرلنگ پیش کرتے ہیں کہ ہم اُن کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اُن کے وسیلے سے اللہ تک پہنچتے ہیں ،دراصل شرک کایہ چوردروازہ مشرکین مکہ بھی استعمال کرچکے ہیں۔پڑھئے قرآن کیاکہتاہے:(وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَایَضُرُّھُمْ وَلَایَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُ لَآءِ شُفَعَآءُ نَاعِنْدَاللّٰہِ قُلْ اَتُنَبِّؤُنَ اللّٰہَ بِمَالَایَعْلَمُ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَلَافِیْ الْاَرْضِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّایُشْرِکُوْنَ)(سورہ یونس:۱۸) ترجمہ:’’اوریہ لوگ اللہ کے سواایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جونہ اُن کونقصان پہنچاسکیں اورنہ فائدہ اوریہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔آپ کہہ دیجئے کہ کیاتم اللہ کوایسی چیزکی خبردیتے ہوجواللہ تعالیٰ کومعلوم نہیں،نہ آسمانوں میں اورنہ زمین میں،وہ پاک اوربرترہے اُن لوگوں کے شرک سے۔‘‘

    وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم اُن کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اللہ کے یہاں اُن کوسفارشی مانتے ہیں،اُن کے اِس دعوے کے باوجودقرآن نے اُنھیں مشرک ہی گردانا۔یہی حکم آج کے نام لیوامسلمانوں پربھی لاگوہوتاہے۔قرآن کریم نے مسئلہ صاف کردیاہے کہ اِس طرح مُردوں کاوسیلہ لگاناکھلاہواشرک ہے ۔اِس میں کوئی دورائے نہیں۔

    *غیرشرعی وسیلہ کے جوازکی ناکام کوشش:لوگوں کویہ مثال دی جاتی ہے کہ جس طرح بادشاہ تک پہنچنے کیلئے درباریوں کی اورچھت تک پہنچنے کیلئے سیڑھی کی ضرورت پیش آتی ہے اِسی طرح اللہ کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے کیلئے رسول،پیر،ولی،بزرگ اوراماموں کے وسیلے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔یہ ہماری بات اللہ تک پہنچاتے ہیں۔پہلے تویہ سمجھ لیاجائے کہ اللہ رب العزت کیلئے اِس طرح کے دنیاوی معاملات والی سوچ رکھنا ہی بیوقوفی ہے۔اللہ نے فرمایاہے:(فَلَا تَضْرِبُوْالِلّٰہِ الْاَمْثَالَ)(سورہ نحل:۷۴)ترجمہ:’’پس اللہ تعالیٰ کیلئے مثالیں مت بناؤ۔‘‘کہاں وہ مالک وحاکمِ کائنات جس کاایک لفظ ’’کُنْ‘‘ (ہوجا)نکلتاہے’’فَیَکُوْنُ‘‘(پس وہ چیزہوجاتی ہے)،وہ اول وآخرہے،ہرچیزکاخالق ومالک ہے اورکہاں یہ دنیاکے چھوٹے سے حصے کے وقتی بادشاہ۔جن کی حکومت ،وزراء اورمعاونین کے دم سے قائم رہتی ہے۔کب یہ ختم ہوجائیں یااِن کی حکومت ،کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا۔یہ اپنی رعایاکے مطالبات ماننے پرمجبورہیں ورنہ اِن کی حکومت خطرات کی زدمیں آجائے گی۔

    دنیاکاجوبھی بادشاہ ہو وہ آپ کی حقیقت وضرورت کاعلم نہیں رکھتااِس لئے کسی اورکے بتانے پروہ آپ کی حقیقت کاادراک کرتاہے اورپھرجوضرورت ہواُس کوپوراکرنے کی کوشش کرتاہے۔کیایہی حال اللہ رب العزت کابھی ہے؟نہیں۔وہ تواتناباخبرہے کہ دل کی دھڑکنوں اورسینوں کے رازکوبھی جانتاہے۔اورمالک اتنابڑاکہ اگرسارے انس وجن بیک وقت اپنی ساری خواہشات پیش کردیں تواُن کے سننے اورپوراکرنے پرقادرہے۔

    چھت پرچڑھنے کیلئے سیڑھی کی ضرورت پیش آتی ہے،اِس لئے کہ چھت آپ سے دورہے۔کیااللہ بھی ہم سے دورہے؟نہیں۔وہ توہم سے بہت ہی قریب ہے۔توپھراللہ تک پہنچنے کیلئے کسی سیڑھی(وسیلے)کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔وہ خودکہتاہے:(وَاِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِ نِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوۃَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ)(سورہ بقرہ:۱۸۵)ترجمہ:’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں توآپ کہہ دیں کہ مَیں بہت ہی قریب ہوں ہرپکارنے والے کی پکارکوجب وہ مجھے پکارے قبول کرتاہوں۔اِس لئے لوگوں کوبھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیاکریں اورمجھ پرایمان رکھیںیہی اُن کی بھلائی کاباعث ہے۔‘‘

    *شرک کی اقسام:شرک کی دوقسمیں ہیں(۱)شرک اکبر:اللہ کی ذات،صفات اسی طرح اُس کے افعال اوراُس کی عبادت میں یاعبادت کے کسی حصہ میں کسی غیراللہ کوشریک کرنا۔چنانچہ ہرعقیدہ یاقول یاعمل وہ ظاہری ہو(جیسے ذکر،دعا،نماز،قربانی ،نذرمانناوغیرہ)یاباطنی (جیسے خشوع خضوع،خشیت،محبت،خوف،رجاء وغیرہ)جس کے بارے میں یہ ثابت ہوکہ شارع نے اِس کے کرنے کاحکم دیاہے اُسے اللہ وحدہ لاشریک کیلئے انجام دیناتوحید،ایمان اوراخلاص ہے۔اوراُسے غیراللہ کیلئے پھیردیناکفروشرک ہے۔یہ شرک اکبرکاایساضابطہ ہے جس سے توحیدربوبیت،توحیداسماء وصفات اورتوحیدالوہیت یعنی ہرقسم کی توحیدکے مخالف کوئی عقیدہ ،کوئی عمل یاکوئی چیزخارج نہیں ہوسکتی۔اِس کامرتکب دائرہ اسلام سے باہرہوجاتاہے اوردائمی طورپرجہنم میں رہے گا۔(۲)شرک اصغر:ہراُس وسیلہ اورذریعہ کوکہتے ہیں جس سے شرک اکبرتک پہنچاجائے۔جیسے وہ ارادے،اقوال اورافعال جوعبادت کے مرتبہ تک نہ پہنچیں۔اِس کامرتکب دائرہ اسلام سے باہرنہیں ہوتاالبتہ گناہ کبیرہ کی وجہ سے وہ جہنم میں جاسکتاہے تاہم اللہ کی مشےئت پرہوگاجب تک چاہے بطورسزاکے جہنم میں رکھے یاپھراپنی رحمت سے معاف کردے۔اِس کی تفصیل کیلئے دیکھئے ’’القول السدیدفی مقاصدالتوحید:عبدالرحمٰن السعدی‘‘۔شرک اصغرکی بہت سی شکلیں ہیں جیسے تعویذگنڈاپہننا۔اگراِسے محض ذریعہ سمجھاجائے توشرک اصغرہے اوراگراُسے بذات خودنافع یانقصان سے بچانے والا،شافی ماناجائے توشرک اکبرہوگا۔بعض اقوال شرک اصغرہیں جیسے جواللہ چاہے اورجوتم چاہوگے۔ڈاکٹرنے جان بچالی۔اللہ کی نعمت کوغیراللہ کی طرف پھیرناجیسے فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وغیرہ۔

    *شرک اکبرکی بعض شکلیں اور اُن کے دلائل:(۱)نیت وارادہ کاشرک:اللہ فرماتاہے:(مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَاوَزِیْنَتَھَانُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَاوَھُمْ فِیْھَالَایُبْخَسُوْنَ*اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّاالنَّارُوَحَبِطَ مَاصَنَعُوْافِیْھَاوَبٰطِلٌ مَاکَانُوْایَعْمَلُوْنَ)(سورہ ہود:۱۶۔۱۵)ترجمہ:’’جوشخص دنیاکی زندگی اوراُس کی زینت پرفریفتہ ہواچاہتاہوہم ایسوں کواُن کے کُل اعمال (کابدلہ)یہیں بھرپورپہنچادیتے ہیں اوریہاں اُنھیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں سوائے آگ کے اورکچھ نہیں اورجوکچھ اِنھوں نے یہاں کیاہوگاوہاں سب اکارت ہے اورجوکچھ اُن کے اعمال تھے سب بربادہونے والے ہیں۔‘‘

    (۲)اطاعت کاشرک:اللہ فرماتاہے:(اِتَّخَذُوْٓااَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباًمِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَآاُمِرُوْٓااِلَّالِیَعْبُدُوْٓااِلٰھاًوَّاحِداًلآاِلٰہَ اِلَّاھُوَسُبْحٰنَہٗ عَمَّایُشْرِکُوْنَ)(سورہ توبہ:۳۱)ترجمہ:’’اُن لوگوں نے اللہ کوچھوڑکراپنے عالموں اوردُرویشوں کورب بنالیاہے اورمریم کے بیٹے مسیح کو،حالانکہ اُنھیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کاحکم دیاگیاتھاجس کے سواکوئی معبودنہیں وہ پاک ہے اُن کے شریک مقررکرنے سے۔‘‘

    (۳)ذات میں شرک:اللہ فرماتاہے:(اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌوَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیءٍ وَّھُوَبِکُلِّ شَیءٍ عَلِیْمٌ)(سورہ انعام:۱۰۱)ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ کواولادکہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اُس کی کوئی بیوی توہے نہیں اوراللہ تعالیٰ نے ہرچیزکوپیداکیااوروہ ہرچیزکوخوب جانتاہے۔‘‘

    یہودونصاریٰ نے اپنے اپنے نبی کواللہ کی اولادٹھہراکراللہ کی ذات میں شرک کاارتکاب کیا۔مشرکین مکہ نے فرشتوں کواللہ کی بیٹیاں بناکرتوامت محمدیہ کے نام نہاد مسلمانوں نے ایک من گھڑت روایت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ عقیدہ بنالیاکہ آپ ’’نورمن نوراللہ‘‘(اللہ کے نورکاایک حصہ)ہیں۔استغفراللہ۔

    (۴)عبادت میں شرک:اللہ فرماتاہے:(وَاعْبُدُوْااللّٰہَ وَلَاتُشْرِکُوْابِہٖ شَیْئاً)(سورہ نساء:۳۶)ترجمہ:’’اوراللہ تعالیٰ کی عبادت کرواوراُس کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرو۔‘‘

    عبادت اوراُس سے متعلق ہرعمل اللہ کیلئے خاص ہے۔روزہ،نماز،حج،زکوٰۃ،قربانی،سجدہ،رکوع اورنذرونیازوغیرہ سب عبادت ہیں۔اِن میں سے کسی کوبھی غیراللہ کیلئے کیاگیاتووہ شرک کہلائے گا۔

    *شرک اصغرکی بعض شکلیں اوراُس کے دلائل:(۱)ریاکاری:’’حضرت محمودبن لبیدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:تمھارے بارے میں مجھے جن چیزوں کاسب سے زیادہ خوف ہے وہ ہے شرک اصغر۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!شرک اصغرکیاہے؟آپ نے فرمایا:ریاکاری۔‘‘(مسنداحمد)

    (۲)غیراللہ کی قسم کھانا:’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غیراللہ کے نام پرکھائی جانے والی ہرقسم شرک ہے۔‘‘(الجامع الصغیر:۸۶۹۶)

    (۳)تعویذگنڈالٹکانا:’’حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس نے تعویذ(گنڈا)لٹکایااُس نے شرک کیا۔‘‘(الجامع الصغیر:۱۱۳۴۰)

    امت محمدیہ شرک کوسمجھے اوراُس سے محفوظ رہے اِس کی خاطرقرآن واحادیث کے یہ چنددلائل آپ کے پیش خدمت کئے گئے ہیں۔اللہ رب العزت سے دعاہے کہ اِسے عامۃ المسلمین کیلئے نافع بنائے ۔مرتب اورجملہ معاونین کیلئے صدقۂ جاریہ اورآخرت کی نجات کاذریعہ بنائے۔آمین۔