ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    دردِسر کے علاج سے متعلق دو حدیثوں کی تحقیق





    دردِسر کے علاج سے متعلق دو حدیثوں کی تحقیق

    از قلم:

    حافظ اکبر علی اختر علی سلفی

    اسلامک انفارمیشن سینٹر ، اندھیری، ممبئی

     

    نظر ثاني:

    فضيلة الشيخ عبد الشكور عبد الحق المدني

     

    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین ، اما بعد!

     

    محترم قارئین! سیدنا عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے جسم میں ہو رہے درد کی شکایت کی جو انہیں اس وقت سےتھا جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:تمہارے جسم میں جس جگہ درد ہوتا ہے ، وہاں تم اپناداہنا ہاتھ رکھو اور تین (3) بار بسم اللہ پڑھو اور سات (7) بار یہ کہو :"أَعُوذُ بِعِزَّةِ  اللہِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" "میں اس چیز کے شر سے جو میں (اپنے جسم میں)پاتا ہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے، اللہ تعالی کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں"۔

    پھر صحابی رسول -ﷺ- کہتے ہیں :"فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ بِي، فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ" "پھر میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالی نے میرے درد کو دور کر دیا ۔ تب سے میں اپنے گھر والوں اور دوسروں کو یہ دم بتاتا آرہا ہوں"۔  (صحیح  مسلم:2202 وسنن ابی داود  بتحقیق الالبانی :3891و سنن ابن ماجہ بتحقیق الالبانی :3522)

    اس حدیث سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ یہ دعاء ،جسم میں ہو رہے ہر درد کا علاج ہے۔ اگر کسی کا سر درد ہو رہا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا داہنا ہاتھ اپنے سر کے اس حصے پر رکھے جہاں اسے درد ہو رہا ہے ، پھر تین بار بسم اللہ پڑھے ، اور سات بار "أَعُوذُ بِعِزَّةِ  اللہِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" پڑھے ۔ ان شاء اللہ العزیز ،اللہ اسے دردِ سر سے نجات دے گا۔

    لیکن کتب حدیث میں درد سر سے نجات کے لئے ایک خاص حدیث مروی ہے جو کہ سخت ضعیف ہے ۔

     

     تفصیل پیش خدمت ہے:

    🔶 امام احمد بن محمد الدینوری ،المعروف بابن السنی رحمہ اللہ (المتوفی:364ھ) فرماتے ہیں:

    "أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحِ بْنِ عَمِيرَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي نَبِيهٍ النُّمَيْرِيِّ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ادَّهَنَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِحَاجِبَيْهِ، فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِالصُّدَاعِ - أَوْ يَمْنَعُ الصُّدَاعَ"۔

     

    [ترجمہ] قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی تیل لگائے تو اپنی بھوؤں سے ابتداء کرے کیونکہ یہ دردِ سر کو ختم کرنے والا ہے یا دردِ سر کو روک دیتا ہے۔

     

    [تخریج] عمل اليوم والليلة بتحقیق الشیخ سلیم بن عید الہلالی :1/226، ح:176 و غیرہ۔

     

    [حکم حدیث] ہذا حدیث مرسل واسنادہ ضعیف جدا  (یہ حدیث مرسل ہے اور اس کی سند سخت ضعیف ہے ) ۔

     

    [سبب] روایت ہذا میں چار (4) علتیں ہیں:

     

    (1) بقیہ بن ولید بن صائد الحمیری رحمہ اللہ : آپ ثقہ صدوق راوی ہیں لیکن مجہول ،ضعیف ، متروک اور کذاب راویوں سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے ۔

     

    ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:

    🔵 امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ  (المتوفی:748ھ):"ثقة في نفسه، لكنه يدلس عن الكذابين" "فی نفسہ ثقہ ہیں لیکن کذاب راویوں سے تدلیس کرتے تھے "۔(ديوان الضعفاء بتحقیق حماد  الأنصاري،ص:50،ت:619)" ثقة في نفسه، يأتي بالعجائب عن المتروكين والمجهولين ويدلس الأسماء ويغرب كثيراً عن الثقات" "فی نفسہ ثقہ ہیں ، متروکین اور مجہولین سے عجیب عجیب روایتیں بیان کی ہیں ، ناموں میں تدلیس کرتے تھے اور ثقات سے بکثرت غریب روایتیں بیان کی ہیں"۔ (ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين بتحقیق حماد بن محمد الأنصاري، ص:25، ت:81) "وثقه الجمهور فيما سمعه من الثقات" "جمہور ائمہ نے ان کی توثیق کی ہےان حدیثوں میں جو انہوں نے ثقات سے براہ راست سنی ہیں"۔  (الكاشف بتحقیق محمد عوامة وغیرہ :1/273، ت:619)

    🔵 امام ابو سعید صلاح الدین خلیل بن کیکلدی العلائی رحمہ اللہ  (المتوفی:761ھ) : "مشهور به(ای :بالتدلیس) مكثر له عن الضعفاء يعاني التسوية" "آپ تدلیس میں مشہور تھے ، ضعیف راویوں سے زیادہ تدلیس کرتے تھے، نیز تدلیس تسویہ کے بھی مرتکب تھے"۔(جامع التحصيل في أحكام المراسيل بتحقیق حمدی السلفی:105)

      🔵 امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ):"صدوق كثير التدليس عن الضعفاء" "صدوق ہیں، ضعیف راویوں سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے"۔ (تقريب التهذيب بتحقیق محمد عوامة ،ص:126، ت:734) "وكان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين" " آپ ضعفاء اور مجہولین سے کثرت سے تدلیس کرتے تھے"۔ (تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس بتحقیق الدکتور عاصم ، ص :49 ، ت:117)

    مزید اقوال کے لئے دیکھیں:  تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزی بتحقیق بشار عواد:4/192، ت:738و غیرہ۔

    اور روایت ہذا میں انہوں نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔

     

    (2) ابو نبیہ النمیری : اس کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا ۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"لم أجد له ترجمة، فالظاهر أنه من مشايخ بقية المجهولين" "میں اس کا ترجمہ نہیں پاسکا ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بقیہ بن ولید کے مجہول اساتذہ میں سے ہے"۔(الضعیفۃ:5/240، تحت الحدیث :2212)

     

    (3)  خلید بن دعلج ابو حلبس السدوسی: یہ ضعیف راوی ہے-

     

    ائمہ کرام کے اقوال پیش خدمت ہیں:

    🔵 امام ابو زکریا  یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفی : 233ھ):"ليس بشيء"(تاريخ ابن معين (رواية الدوري) بتحقیق احمد محمد :4/432، ت: 5150) "ضعيف الحديث" (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقیق المعلمی :3/384، ت:1759واسنادہ صحیح)

    🔵 امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ  (المتوفی :241ھ):"ضَعِيف الحَدِيث"(العلل ومعرفة الرجال بتحقیق وصي الله بن محمد عباس :3/56 ، ت:4150)

    🔵 اما م ابو حاتم محمدبن ادریس الرازی رحمہ اللہ(المتوفی:277ھ):"صالح ليس بالمتين في الحديث، حدث عن قتادة أحاديث بعضها منكرة" "یہ صالح ہے لیکن حدیث میں مضبوط نہیں ہے ، اس نے قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ سے کئی احادیث روایت کی ہیں ، ان میں سے بعض احادیث منکر ہیں"۔ (الجرح والتعديل لابن ابی حاتم بتحقیق المعلمی :3/384، ت:1759)

    🔵 امام ابو عبد الرحمن احمد بن شعيب النسائی رحمہ اللہ (المتوفی : 303ھ) :"ليس بثقة" "یہ ثقہ نہیں ہے"۔(الضعفاء والمتروكون بتحقیق محمود إبراهيم زايد،ص:36 ، ت:175)

    🔵 امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی ،المعروف بابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:354ھ):"كَانَ كثير الْخَطَأ فِيمَا يَرْوِي عَن قَتَادَة وَغَيره يُعجبنِي التنكب عَن حَدِيثه إِذَا انْفَرد" "یہ قتادہ اور ان کے علاوہ سے روایت کرنے میں کثرت سے خطا کرنے والا ہے ، جس حدیث کو یہ بیان کرنے میں منفرد ہو ،تومیرے نزدیک یہ ہے کہ اس حدیث سے بچنا چاہیے"۔(المجروحين بتحقیق محمود إبراهيم:1/285، ت:310)

    🔵 امام ابو احمد بن عدي الجرجانی رحمہ اللہ (المتوفی : 365ھ):"وعامة حدیثه يتابعه عليه غيره وفي بعض حديثه إنكار وليس بالمنكر الحديث جدا" "اس کی اکثر وبیشتر احادیث کی دوسرے رواۃ متابعت کرتے ہیں اور اس کی بعض احادیث میں نکارت ہے لیکن سخت منکر الحدیث نہیں ہے"۔ (الكامل في ضعفاء الرجال بتحقیق عادل أحمد ورفقاءہ :3/489، ت:606)

    🔵 امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمہ اللہ  (المتوفی:748ھ):"مُحَدِّثٌ، بَصْرِيٌّ، ضَعِيْفٌ" "محدث بصری ہیں اور ضعیف ہیں"۔ (سير أعلام  النبلاء بتحقیق مجموعة من المحققين :7/195، ت:71)

      🔵 امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی : 852ھ):"ضعيف" (تقريب التهذيب بتحقیق محمد عوامة ،ص:195، ت:1740)

    مزید اقوال کے لئے دیکھیں:  تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزی بتحقیق بشار عواد:8/307، ت:1716و غیرہ۔

     

    (4) قتادہ بن دعامہ بن قتادہ السدوسی رحمہ اللہ  :  یہ ثقہ حافظ العصر ،تابعی ہیں اور ڈائریکٹ اللہ کے نبی ﷺ سے روایت کر رہے ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔

     

    [تنبیہ ] زیر بحث روایت مسند الفردوس میں، امام ابن السنی رحمہ اللہ کے طریق سے ہی ہے لیکن اس میں قتادہ رحمہ اللہ اور نبی کریم ﷺ کے درمیان انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہےجس کے متعلق :

    (1) علامہ احمد بن محمد الغماری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ومن طريقه أخرجه الديلمى في مسند الفردوس فوصله عن أنس، فهو زيادة منه إما سهوًا وإمَّا عمدًا" "اور اسی طریق سے امام دیلمی رحمہ اللہ نے بھی مسند الفردوس میں اس کو ،انس رضی اللہ عنہ سے موصولا روایت کیا ہے اور یہ زیادتی ان کی جانب سے سہوا ہے یا عمدا "۔(المداوي :1/275، ح:369)

    (2) علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"فذكر أنس فيه خطأ من بعض من دون ابن السني عنه. والله أعلم" "مسند الفردوس میں انس رضی اللہ عنہ کا ذکر امام ابن السنی -رحمہ اللہ - سے جو نیچے راوی ہیں ، ان میں سے کسی کی جانب سے غلطی ہے۔ واللہ اعلم"۔(الضعیفۃ:5/240، تحت الحدیث :2212)

    راقم کہتا ہے کہ اگر کوئی اسے راوی کی غلطی نا مانے تو اس کی خدمت میں باادب عرض ہے کہ اگر اسے مرفوع مان بھی لیا جائے ، تب بھی یہ سند کے لئے نفع بخش نہیں ہےکیونکہ اس صورت میں بھی سند میں چار (4) علتیں ہوںگیں۔ تین علتیں تو وہی ہیں جو گزشتہ سطور میں گزر چکی ہیںاور چوتھی علت یہ ہوگی کہ امام قتادہ رحمہ اللہ تیسرے طبقے کے مشہور مدلس ہیں اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔

     

    [فائدہ] امام علی بن الجعد الجوہری البغدادی رحمہ اللہ (المتوفی : 230ھ)فرماتے ہیں:

    "حَدَّثَنَا عَمِّي، نا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُكْنَى أَبَا صَالِحٍ عَلَى بَابِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: دَهْنُ الْحَاجِبَيْنِ أَمَان مِنَ الصُّدَاعِ" ۔

    [ترجمہ] قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں بھؤوں کو تیل لگانا ، دردِ سر سے بچنے کا باعث ہے۔

    [تخریج] مسند ابن الجعد بتحقیق عامر أحمد حيدر ،ص:160، ح:1025۔

    [حکم حدیث] اسنادہ ضعیف  ( اس کی سند ضعیف ہے ) ۔

    [وجہ ضعف] روایت ہذا کی سند میں ایک راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ہے ،صرف اس کی کنیت بیان کی گئی ہےاور مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون ہے ؟ واللہ اعلم.

    نیز اس میں ایک اور علت ہے لیکن اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

     

    [خلاصۃ التحقیق] زیر بحث روایت سخت ضعیف ہےلہذا اس پر عمل نہ کیا جائے ۔ صحیح مسلم کی روایت اس سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ و الحمد للہ علی ذلک.

     

    وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.

     

    1439ھ-محرم -02

    23-SEP-2017