ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    اسلام میں امن کی اہمیت





    اسلام میں امن کی اہمیت

    اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

     حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے دین میں امن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اسلام سلامتی سے اور ایمان امن سے مشتق ہے۔ اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حدیث ہے:

     عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  رضي الله عنه  قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم  : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ, وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ (وانظر صحيح الترمذي)

    ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے انسانیت اپنے جان ومال کے بارے میں مامون رہے۔ (ترمذی)

    حدیث میں الناس کا لفظ استعمال ہوا ہے جو مسلم وکافر سب کو شامل ہے۔

    واقعہ یہ ہے کہ انسانیت کو امن کی ضرورت کھانے ، پینے اور پہننے کی ضرورت  سے بھی بڑھ کر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا مانگی تو پہلے امن مانگا پھر روزی طلب کی۔ ارشاد ہے: ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾ البقرة: ١٢٦ (جب ابراہیم نے کہا: اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو پھلوں کی روزیاں دے۔)

    اگر امن نہ ہو اور ہر طرف خوف ودہشت کا غلبہ ہو تو کھانے پینے اور پہننے میں کوئی لذت نہ رہ جائے گی۔

    امن کی ضد خوف ہے جو  بلاؤں میں سب سے بڑی بلا ہے۔ خوف زدہ کو کہیں سکون وقرار نہیں ملتا، گھر میں نہ بازار میں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بلاؤں کا ذکر کیا تو خوف کو اول نمبر پہ رکھا۔ ارشاد ہے:

     ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ  وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾ البقرة: ١٥٥ (اور ہم کسی نہ کسی طرح تمھاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔)

     اگر راستے پرامن ہونے کے بجائے پرخطر ہوگئے تو لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کس طرح کریں گے؟ غلے اور خوراک کے سامان ایک شہر سے دوسرے شہر کس طرح منتقل ہوں گے؟ اسی لئے اللہ تعالی نے ڈاکؤوں کے لئے جو پرامن راستوں کو پرخطر بنادیتے ہیں سخت ترین سزا مقرر فرمائی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ  ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا  وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ المائدة: ٣٣ (جو اللہ تعالی اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردیئے جائیں، یا سولی چڑھادیئے جائیں ،یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں، یا انھیں جلاوطن کردیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔)

    اسلام نے پانچ چیزوں کی حفاظت کا خصوصی طور پر زبردست انتظام کیا ہے۔ (۱) دین وایمان (۲) جسم وجان  (۳) عقل وخرد  (۴) عزت وآبرو   (۵) مال وجائداد

    جو شخص ان پانچوں چیزوں میں سے کسی ایک پر ناحق حملہ کرے،اسلام نے ایسے حملے کو سخت ترین جرم قرار دیا ہے اور اس پر عبرتناک سزا مقرر کی ہے، اس سے قطع نظر کہ جس پر حملہ ہوا ہے یا جس نے حملہ کیا ہے  وہ کون ہے؟ مسلم ہے یا کافر معاہد ؟

    آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ غیر مسلم جو مسلمانوں کے عہد اور امان میں ہیں ان کو بھی اپنی جان ومال کے متعلق وہی حقوق حاصل ہیں جو ایک مسلمان کو حاصل ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾ التوبة: ٦ (اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امان تک پہنچادے)۔ نیز قتل خطا سے متعلق ارشاد ہے: ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ  فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ  وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ النساء: ٩٢ (اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم  میں اور ان میں عہد وپیمان ہےتو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی [ضروری ہے]، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے لگاتار صوم ہیں، اللہ تعالی سے بخشوانے کے لئے، اور اللہ تعالی بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)

    جب غلطی سے قتل ہوجانے پر یہ سزا ہے کہ دیت اور کفارہ مقرر کیا گیا ہے تو اگر جان بوجھ کر قتل کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہ زیادہ سنگین جرم ہوگا اور اس کا گناہ بھی زیادہ ہوگا۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کا ارشاد ہے:  عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ r قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا. (صحيح البخاري) (جو شخص کسی عہد وامان دیئے گئے کافر کو قتل کرے وہ جنت کی بو بھی نہ پائے گا حالانکہ جنت کی بو چالیس سال کی مسافت تک پائی جاتی ہے۔)

    آج جو لوگ امن کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ کسی بھی جگہ بم دھماکے کرتے ہیں۔ کبھی ریاض میں بم دھماکے کرتے ہیں اور کبھی الخبر میں اور کبھی کسی اور شہر میں، بے گناہوں کی جان لیتے ہیں، مال واسباب کو تباہ کرتے ہیں، عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرتے ہیں، یہ لوگ قرآن مجید کی اس آیت کے ضمن میں آتے ہیں، ارشاد ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ  وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ  فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ  وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ البقرة: ٢٠٤ – ٢٠٦ (بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کردیتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ دراصل وہ زبردست جھگڑالو ہے۔ جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہےاور اللہ تعالی فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناہ پر آمادہ کردیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہےاور یقینا ًوہ بدترین جگہ ہے۔)

    تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ فسادی اپنے اس مفسدانہ عمل اور تخریبی کارروائی کو جہاد کا نام دیتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ پر سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اللہ نے کبھی فساد کا حکم نہیں دیا۔

    فساد پر جہاد کا لیبل لگانا آج کوئی نئی بات نہیں۔ خوارج جو اس امت کا سب سے پہلا بدعتی گروپ ہے اور جس نے صحابۂ کرام کی تکفیر کی تھی اور خلفائے راشدین میں سےعثمان وعلی رضی اللہ عنہم جن کے جنتی ہونے کی بشارت اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دنیا ہی میں دے دی تھی کو قتل کیا تھا ۔ قتل صحابہ اور قتل خلفائے راشدین کو ان خوارج نے بھی جہاد کا نام دیا تھا۔ ہاں یہ جہاد ضرور تھا لیکن شیطان کی راہ میں تھا، اللہ کی راہ میں جہاد اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔

    بم دھماکہ کرنے والے نادان اسلام کی رسوائی کا سامان کررہے ہیں۔ دشمنان اسلام ان واقعات کے ذریعہ اسلام کو بدنام کررہے ہیں جب کہ ان واقعات سے سچے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ بعض احمق یہاں پر مملکت سعودی عرب میں ایسی تخریبی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں جب کہ الحمد للہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں پر اللہ کی شریعت اور اللہ کا قانون نافذ ہے ۔ یہاں شرک کے اڈے نہیں ہیں، نہ کوئی مندر ہے اور نہ کوئی گرجاگھر اور چرچ ہے جہاں پر غیراللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہاں قبے اور مزارات بھی نہیں ہیں جہاں علانیہ شرکیہ اعمال انجام دیئے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے اور اللہ سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنی فتنہ انگیزیوں سے باز آنا چاہئے۔

    واضح رہے کہ ان دھماکوں میں مسلمان بھی قتل ہوتے ہیں اور ایک مسلمان کا قتل شدید ترین گناہ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ النساء: ٩٣ (اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کرڈالے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالی کا غضب ہے، اسے اللہ تعالی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے۔)

    نیز نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   کا ارشاد ہے:  ((كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ)) (صحيح مسلم) (ایک مسلمان کی جان ومال اور عزت وآبرو سب کے سب دوسرے مسلمان پر حرام ہے)۔

    نیز ارشاد ہے: ((فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ)) (صحيح البخاري) (بے شک تمھارے خون اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح اس شہر (مکہ) کے اندر اس مہینہ (ذوالحجہ) میں یہ دن (یوم عرفہ یا یوم النحر) حرام ہے۔ یہ حکم تمھارے رب سے ملاقات تک باقی رہے گا)۔

    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين وصلى الله على نبينا وسلم.