ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    عذابِ قبر اور اس سے نجات کی راہ





    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عذابِ قبر اور اس سے نجات کی راہ

    بقلم : عبدالکریم محمد عمر سنابلی  

    نظر ثانی: ابو عبداللہ عنایت اللہ سنابلی مدنی حفظہ اللہ وتولاہ

              اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کا مقصد اپنی عبادت کو بتلایاہے اور مومن کے ہر اعمال کوعبادت سے جوڑ کر ٗبندہ کی کامیابی کی راہ کو مزید ہموار کیا۔اور انسان کی زندگی کو اعمالِ صالحہ کی زمین قرار ردیا ہے‘ جن میں سے کچھ کبھی الرَّبٗ الرحمن کی رحمتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور بعض‘  بُرے اعمال کی بدولت اپنی زندگی ہی میں برزخ اور جہنم کے مناظر دیکھتے اور آلام محسوس کرتے ہیںاور موت کے بعد کی برزخی زندگی کی دشواریوں میں بھی اضافہ کر بیٹھتے ہیں۔ اس بنا پر بحیثیت ِمومن ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے اعمال سے بچیں جن سے دنیا ہی میں غضب ِ الٰہی کا سامنا کر پڑے یاموت کے بعد عذاب قبرکی سزا بھگتنی پڑے، اہل السنۃ والجماعۃ عذاب ِقبرکو نصوص ِ شریعت کی روشنی میں یقینی مانتے ہیں، یہ نہ کوئی تمثیل ہے اور نہ ہی کوئی مجاز۔بلکہ ہر خطاکارکو اس کا سامنا کرنا ہے سوائے اس کے جسے اللہ بخش دے۔حالانکہ اس کی سزائیں جسم وروح کو تڑپانے ، کرب والم میں مبتلا کرنے اور دنیاوی لذتوں کو توڑنے والی ہیں، انسان حواس باختہ ہو کر رہ جائے اور اسے قرار نصیب نہ ہو سکے، ایسے دل دہلا دینے والی سزائیں بعد کی برزخی زندگی میں ہیں، جس کا گناہ گار میت سامنا کرسکتی ہے۔ یہ قبر کی زندگی کا خوف ہی تھا کہ ذوالنورین وداماد رسول، خلیفۂ ثالث حضرت عثمان بن عفا ن رضی اللہ عنہ جنت وجہنم کے ذکر پر اس قدر نہیں روتے تھے جتنا کہ قبر کو یا د کر کے روتے تھے اور پھر حدیثِ رسول (ﷺ) بیان کیا کہ ’’بلا شبہ قبر‘ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے،  لہٰذااگر اس سے کسی نے نجات پا لیا تواس کے بعد مرحلے ومنزلے اس سے زیادہ آسان ہیں اور اگر اس سے نجات نہیں ملی تو اس کے بعد کے مرحلے اس سے زیادہ سخت ہوں گے۔[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ]فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:’’قبر سے زیادہ سخت،خوفناک وبری جگہ میں نے نہیں دیکھی‘ ‘ ۔ (ترمذی:۲۳۰۸،وحسنہ الألبانی)

    مندرجہ ذیل سطور میں کچھ منصوص عذابِ قبر نکات کی شکل میں‘حالات کی شدت سمجھنے کے لئے بیان کئے جاتے ہیں:

              ٭’’اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دوگے تو میں ضرور اللہ سے دُعا کرتا کہ وہ تمہیںقبر کا عذاب سناتا۔‘‘(صحیح مسلم: ۲۸۶۸)

              ٭’’بے شک قبر (میت) کو دبوچتی ہے۔اگر اس سے کوئی محفوظ رہتا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ضرور محفوظ رہتے۔‘‘ (صحیح الجامع الصغیر:۲۱۸۰)

              ٭قبر کے دبوچنے کے بنا پر پسلیاں مل جائیں گی ،یہ عذابِ قبر کافروں ومنافقوں پر ہوتارہے گایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ بندوں کوزندہ فرمائے۔            (حسن فيصحیح الترغیب والترہیب:۳۵۶۰)

              ٭ جنتی اور دوزخی پر صبح وشام ہر ایک کا مقام جنت وجہنم میںسے پیش کیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری:۱۳۷۹)

              ٭کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے اس قد رزور سے ماراجائے گا کہ جن وانس کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے۔ (صحیح البخاری:۱۳۷۴)

              ٭کافر کی روح جب آسمان سے لو ٹا کر جسم میں داخل کر دی جائے گی، اسے بٹھا کر منکر نکیر سوال کریںگے اور جواب نہ دینے پر آسمان سے ایک نداء آتی ہے    اس کے لئے(۱) جہنم کا بستر بچھا دو، (۲)جہنمی لباس پہنا دو، (۳)جہنم کا دروازہ کھول دو، (۴)جہنم کی گرم ہوا آتی ہے، (۵)جہنم سے بدبو آتی ہے،                    (۶)قبراس کے لئے اتنی تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں۔(۷) پھر اس بُری میت کے پاس ایک بدصورت،قبیح وگندے لباس والا، بدبودارشخص آکر اللہ کے بھیانک سزا اور قائم ہونے والے عذاب کی مبارک بادی دیتا ہے۔تو وہ میت اُسے پلٹ کر بُرائی کی مبارک بادی دیتی ہے اور         دریافت کرتی ہے تو کون ہے؟ وہ کہتاہے میں تمہارا خبیث وبرا عمل ہوں،تم اللہ کی اطاعت میں سُست اور معصیت ونافرمانی کے کاموں میں تیز تھے سو اللہ     تمہیں برا بدلہ دے (۸) پھر اللہ اس میت پراندھے،گونگے ، بہرے کو مسلط فرماتا ہے،جس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ ہوتی ہے جس کی چوٹ سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے ـتو اُسے مارتا ہے ـتو وہ مٹی ہوجاتا ہے پھر اللہ اُسے پہلی حالت پر لوٹاتا ہے اور سزا کو اس پر دوہراتا ہے جس کی چیخ سوائے انس وجن کے ہر          کوئی سنتا ہے۔پھرجہنم کا دروازہ کھول کر ،قبر میں اُس کے لئے آگ کا بستر بچھا دیاجاتا ہے۔ ( صحیح في صحیح الترغیب والترہیب:۳۵۵۸،ملخصاً)  نیز جانور وبہائم قبر میں دیئے جانے والے اس عذاب کو سنتے ہیں۔ (صحیح مسلم:۱۳۴۹)

              ٭’’ ایک شخص تکبرسے اپنی چادر (ٹخنوں سے نیچے) گھسیٹ رہا تھا، اسی دوران اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ تو وہ قیامت تک زمین ہی میں دھنستا رہے      گا۔‘‘ (صحیح بخاری:۳۴۸۵)

              ٭ آپ (ﷺ) نے خواب میںدیکھا کہ آپ کو دو آدمی ارض مقدسہ لے گئے ،وہاں ایک شخص کوبیٹھا ہواپایا اور اس کے پاس ایک آدمی لوہے کے ٹیڑہا نکیلا        آلہ لئے ہوئے تھا، اس کے ذریعے اس کے ایک جبڑے میں داخل کرکے اس کی گدی تک لے جاتا۔پھر دوسرے جبڑے کے گدی کو بھی ایسے ہی کھینچتا اور          پھردونوں کو ملادیتا۔پھر اس کے اپنی پہلی حالت پر پلٹ آنے کے بعد سزا کا یہ عمل پھر دُہرایا جاتا۔ چنانچہ آپ نے ایک اور آدمی کو دیکھا جو اپنی گدی کے بل          لیٹا ہوا ہے اور اس کے          قریب ایک آدمی بڑا پتھر لئے کھڑا تھا، وہ اس کے ذریعہ اس کا سر کچل رہاتھا۔پتھر لڑھک کر دور جاتاجب تک وہ اُسے لاتا ، سَر پھر جُڑ   جاتا اور اس طرح یہ عمل بھی جاری رہتا۔پھر آپ نے اس کی تفصیل بتلائی کہ جس کی گدی کو چیرا جارہاتھا، یہ وہ شخص تھا جو جھوٹ بولاکرتا تھا اور لوگ اس سے اِس جھوٹ کو دُور دور تک پھیلاتے۔قیامت تک اسے عذاب دیا جاتا رہے گا۔دوسرا وہ شخص تھا جس نے قرآن سیکھ کر غفلت برتی، راتوں کو سویا رہتااور دن     میںاس پرعمل بھی نہیں کرتاتو اُسے بھی قیامت تک یہ عذاب دیا جاتا رہے گا۔(صحیح بخاری :۱۳۸۶)

              ٭دوسروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرنے والے‘ غیبت کرنے والے اپنے چہرے اور سینے کو تانبے والے ناخون سے نوچیں گے۔(سنن ابوداود:                    ۴۸۷۸’’صحیح‘‘)٭چوری کی گئی چیز کے ساتھ جلایا جانا، خیبر میں رفاعہ نامی شخص نے مال غنیمت سے چادرچُرا لی تھی،نبی (ﷺ) نے فرمایا :’’وہی چادر اس      پر آگ بھڑکا رہی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری:۶۷۰۷) ٭’’قبر کا زیادہ تر عذاب پیشاب کے چھینٹوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (صحیح ابن ماجہ :۲۷۸) وغیرہا۔

    عذابِ قبر سے نجات کی راہ:

               انسان کے اعمال دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں: (۱)قلبی ۔   (۲)جسم کے اعضاء وحرکات۔

              (۱) دل کے اعمال میں سب سے پہلے ایمان اور عقیدہ داخل ہے،اگر اس دل میں صحیح وصاف عقیدہ نہیںاوردل شرک وبدعات نیز شخصیات کے سلسلہ میں غلو سے خالی نہیں‘تو ایسا دل واجبی طور پرعذاب ِ قبر کامستحق ہوگا۔ دل کتنا مسلمان ہے؟جو شریعت کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہے؟ نیز قلبی اعمال میںبھائی چارہ، الفت ومحبت، انسانی ہمدردی، احساس ذمہ داری،ایمانداری ودیانتداری ، وفاداری وغیرہ مثبت اعمال ہوتے ہیں، یہ نجات کی راہ میں معاون ہیں تو اس کے بالمقابل حسد، کینہ،نفرتیں اپنی مختلف صفات وجنسیات کے ساتھ،دھوکہ دہی، غفلت، بے ایمانی وخیانت وکفر ونفاق وغیرہ دل کے منفی اعمال ہیں اور ایسے صفات ہیں جو عذابِ الٰہی کی راہ ہموار کرتی ہے۔نعوذباللہ من ذلک، آمین

              (۲)اعضاء وحرکات: دل کے بعد ہاتھ ، پیر ، زبان وغیرہ کے ذ ریعہ اعمال انجام دیئے جاتے ہیں۔ان کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے،چنانچہ مذکورہ بالاروایات میںاسباب کے ساتھ عذابِ قبر کا ذکر موجود ہے کہ انسان طہارت یعنی پیشاب کے چھینٹوں میں لاپرواہی کرتا ہے یاچوری و خیانت کرتا ہے تو عذاب قبر کا سامنا کرتا ہے وغیرہ ۔لہٰذا انسان‘ خصوصاً مسلمان عمل کرنے کے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ اس سے کہیں ایسے اعمال صادر نہ ہوں جو عذاب کا موجب ہوں۔ صادر ہونے اعمال صالحہ قبر میں اس کی طرف سے دفاع کا کام انجام دیں گے، حدیث رسول (ﷺ) ہے: ’’میت کو قبر میں رکھ کر لوگ پلٹ کر جاتے ہیں ، صاحب قبر ان کے جوتے کی آوازکو سنتا ہے، اگر وہ مومن ہے تو صلاۃ (نماز) اس کے سر کے پاس آتی ہے، صِیام (روزہ) اس کے داہنی طرف ہوتا ہے،زکاۃ اس کے بائیں طرف اورصدقہ و دعا، بھلائیاں ، معروف اورلوگوں کے ساتھ احسان سارے خیر اور بھلائی کے کام اس کے دونوں پیروں کے پاس ہوں گے ۔چنانچہ اس کے سر کی طرف سے کوئی آنا چاہے تو نماز کہے گی میری طرف سے اس کے پاس جانے کے لئے کوئی راستہ نہیں پھر داہنی طرف سے آیا جائے گاتو روزہ کہے گا میری طرف سے کوئی راستہ نہیں، پھر اس میت کے بائیں جانب سے آیا جائے گاتو زکاۃ بھی راستہ نہیں دے گی ، پھر پیروں کی جانب سے آیا جائے گا تو صدقہ، معروف اور لوگوں کے ساتھ احسان وبھلائیاںیہ سارے خیر کے کام روکیں گے کہ میری جانب سے داخل ہونے کی جگہ نہیں، پھر اس سے کہا جائے گا بیٹھو‘ تو وہ بیٹھ جائے گا، سورج کے مثل اس پر پیش کیا جائے گا جب کہ اس وقت مغرب کا وقت نزدیک ہوگا، اس سے دریافت کیا جائے گا کہ تم سے پہلے اِس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ پوچھا جائے گا اس کے بارے میں کیا شہادت دیتے ہو؟وہ کہے گا: مجھے چھوڑ دو تاکہ نماز ادا کر لوں، تو فرشتے کہیں گے: ابھی ادا کرلینا، ہم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب دیجئے،مذکورہ سوال دہرایا جائے گا تو وہ مومن جواب دے گا: محمد[ﷺ] ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے پیغامِ حق لے کر آئے تھے، اس مومن سے کہا جائے گاتو اسی شہادت پر زندہ رہا اور اسی پر تیری موت واقع ہوئی اور ان شاء اللہ اسی اقرار پر دوبارہ اٹھایا جائے گا، پھر جنت کے دروازے کھول کر دکھائے جائیں گے۔۔۔ اوروہ آدمی جس کے پاس ایمان نہیں ہوگا جب اس کے سر کے پاس آئیں گے تو وہاں کچھ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے دائیں ، بائیں یا اس کے پیر وں کے پاس کوئی ہوگا جو روکے، اس سے کہا جائے گا :اُٹھ کر بیٹھ، وہ گھبرایا ، ڈرا، سہما اُٹھ بیٹھے گا، اور مذکورہ سوال کے جواب میں کہے گا :کون سا آدمی! کسی نے اُس کے نام کے بارے میں نہیں بتایا پھر اُسے نام بتایا جائے گا، کہے گا مجھے نہیں معلوم ، میں نے لوگوں کو جیسا کہتے ہوئے سنا،اسی طرح کہا کرتا تھا، اس سے کہا جائے گا کہ تو اسی پر زندہ رہا، اسی پر مرا اور ان شاء اللہ اسی کیفیت میں دوبارہ اٹھایا جائے گا پھرجہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا‘‘ ( صحیح الترغیب والترہیب: ۳۵۶۱، مع اختصار)  ’طبرانی کی روایت میں ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت اس کے سراہنے، صدقہ داہنی جانب اور مساجد کی طرف اس کا چلناپیروں کی جانب سے آنے والے کو روکے گا‘‘ (صحیح الترغیب والترہیب:۳۵۶۱) اسے پہلا وسیلہ شمار کیا جا سکتاہے۔

              دوسراوسیلہ:ہر رات سورۃ الملک کی تلاوت کرنا اور سمجھ کر عمل کرنا: ’’یقینا قرآن میں ایک سورۃ نے: جس کی تیس آیتیں ہیں، ایک شخص کے حق میں سفارش کی یہاں تک کہ اُسے بخش دیا گیا۔ اور وہ یہی سورت {تَبَارَکَ الذِيْ بِیَدِہِ الْمُلْکِ} [یعنی سورۃ الملک] ہے۔ (صحیح الترغیب والترہیب:۱۴۷۴)

              آپ (ﷺ) بھی سورۃ السجدۃ اور سورۃ الملک پڑھ ہی کر سوتے تھے۔ (حسنہ الألباني في صحیح الترمذي:۲۸۹۲) اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ’’ جو شخص ہر رات سورۃ الملک کی تلاوت کرتا رہے اسے اللہ تعالیٰ عذاب قبر سے محفوظ رکھے گا۔ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کے زمانہ میں ہم صحابہ اس سورۃ الملک کو ’’الَمَانِعَۃ‘‘بچانے والی کہتے تھے۔‘‘(صحیح الترغیب والترہیب: ۱۴۷۵)  یعنی عذابِ قبر سے۔

              تیسرا وسیلہ:  ’’(اسلامی) سرحد( اللہ کے راستے) میں ایک دن اور ایک رات پہرہ دینا‘ ایک مہینہ کے روزوں اور اس کے قیام کرنے سے بہتر ہے۔ اور اگر وہ اسی حالت میں مرجائے تو اس کا وہ عمل جاری رہتا ہے جو وہ کیا کرتا تھا۔ اور اسی پر اس کا رزق جاری کردیا جاتاہے۔اور اُسے آزمائش میں ڈالنے والے (عذابِ قبر ) سے محفوظ کر دیاجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:۱۹۱۳)

              چوتھا وسیلہ: ’’ شہید کے لئے اللہ کے پاس چھ انعامات ہیں:(۱) پہلے قطرۂ خون پر مغفرت ہوجاتی ہے۔(۲)جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔(۳) عذابِ قبر سے بچا لیا جاتا ہے۔ (۴)اور وہ بڑی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ (۵)اور اس کے سر پر وقار وعزت کا تاج رکھا جاتا ہے، جس کا ایک موتی دنیا سے اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ (۶)بڑی آنکھوں والی بہتر حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی۔اس کے ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘  (صحح الألباني في سنن الترمذي:۱۶۶۳)

              لیکن یہ شہادت شرعی طریقہ پر ہونی چاہیے خودکشی یا معصوموں و بے گناہوں یا سڑکوں پر ہنگامہ سے شہادت حاصل نہیں ہوگی۔’’اگر کوئی طاعون یا پیٹ کی بیماری میں مرجائے،ڈوب کر مرجائے، دیوار یا گھر کے نیچے دبنے سے مرجائے،جسے اُس کے مال کے عوض قتل کردیا جائے شہید ہے‘‘۔ وغیرہ (بخاری: ۲۸۲۹، فیض القدیر:۷۶۲۱، مشکاۃ المصابیح:۳۵۲۹ وغیرہ)

              پانچواں وسیلہ: جو پیٹ کی بیماری سے مرے، آپ (ﷺ) نے فرمایا :’’جسے اس کی پیٹ کی بیماری ماردے، اُسے قبر میں عذاب ہر گز نہیں دیاجائے گا۔‘‘ (صحیح الألباني في سنن الترمذي:۱۰۶۴)

              چھٹا وسیلہ:  جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو انتقال کرجانا،’’جس مسلمان کی موت جمعہ کے دن یا رات کے وقت ہوتو اللہ تعالیٰ اُسے قبر کے عذاب سے بچا لیتا ہے۔‘‘ (حسنہ الألباني في سنن الترمذي:۱۰۷۴)

              ساتواں وسیلہ: اسی طرح اعمال کے ساتھ ساتھ َاوراد ووظائف کے ذریعہ اللہ رب العزت سے معاونت طلب کرتے رہنا چاہیے، ہر نماز میں سلام پھیرنے سے قبل آخری تشہد میں عذ۱بِ قبر سے بچنے کی دُعا آپ خود مانگا کرتے اورامت کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلقین فرمائی ہے۔ صحابیٔ رسول سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ کو جس طرح لکھنا سکھایاگیا اسی طرح پانچ باتیںسکھائیں: ’’ اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُبِکَ مِنَ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ‘‘۔(صحیح البخاری:۶۳۹۰)

    ترجمہ:’’اے اللہ، (۱)میں بُخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، (۲) بُزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، (۳)ارذل عمر (بدترین بُڑھاپے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، (۴) دنیا کے فتنہ یعنی دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں،(۵)قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔

              نیز یہ تعوّذ  صبح وشام کے اذکار میں بھی موجود ہے (صحیح مسلم:۷۰۸۴)  نیزآپ(ﷺ) پڑھتے: ’’ اللّٰہُمَّ  رَبَّ جِبْرائِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَرَبَّ إِسْرَافِیْلَ أَعُوذُبِکَ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ‘‘۔ ترجمہ:’’ اے اللہ، جبرائیل ومیکائیل کے رب اور اسرافیل کے رب میں [جہنم کی] آگ کی گرمی وتپش سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ (السلسلۃ الصحیحہ:۱۵۴۴،صحیح  النسائی:۵۵۱۹،صحیح الجامع الصغیر:۲۱۸۵)

              اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دعا مانگا کرتے:’’اللّہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مَنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّمَا مَالَمْ أَعْمَلْ‘‘ اے اللہ میں تیرے ہی ذریعہ ہر اس شر سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا اور اس سے جو میں نے نہیں کیا۔ (صحیح مسلم: ۲۷۱۶)

              لہٰذا، بندۂ مومن کو چاہئے کہ موت جو دنیاوی لذتوں کو توڑنے والی ہے، کثرت سے ذکر کرے اوراللہ کا تقوی اختیار کرے، اور مذکورہ وسائل کو سامنے رکھ کر الٰہی ونبوی طریقے کے ذریعے رب کی ناراضگی وسزا سے بچنے کی کوشش کرے، اس دن کی تیاری کے لئے کوشاں رہے، جس دن سوائے اللہ کے کسی کا سہارا نہیں ہوگا، اللہ ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے اور عذابِ قبر سے ہم سب کو محفوظ رکھے، آمین تقبل یا رب العالمین،

    وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین