ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    عقیدہ ء توحید:برکات وثمرات





     بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عقیدہ ء توحید:برکات وثمرات

    مرتب: حافظ عبدالتواب محمدی ( فاضل جامعہ محمدیہ منصورہ، مالیگاؤں )

    نظر ثانی : مولانا ابو رضوان محمدی ( استاد جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    تمام ہی انبیاء ورُسُل علیھم الصلاۃ والسلام کی دعوت کانقطہء آغاز’’عقیدہء توحید‘‘ہی تھا۔اللہ فرماتاہے:(وَلَقَدْ بَعَثْنَافِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًااَنِ اعْبُدُواللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ)’’اورہم نے ہرامّت میں رسول بھیجاکہ(لوگو!)صرف اللہ کی عبادت کرواوراُس کے سواتمام معبودوں سے بچو۔‘‘(سورہ نحل:۳۶)اوریہی تخلیقِ اِنس وجنّ کا مقصد بھی ہے ۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے:(وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ)’’اورمَیں نے جنّات اورانسانوں کومحض اِسی لیے پیداکیاہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔ ‘‘(سورہ ذاریات:۵۶)

    توحیدکامطلب ہے ’’ایک ماننا‘‘اوردین کی اصطلاح میں’’ اللہ تعالیٰ کوعبادت میں‘خالق ومالک ہونے اورحاکم ہونے میں اوراُس کی ذات وصفات میں اکیلاوبے مثل ماننا۔‘‘اہل علم حضرات اِن باتوں کی وضاحت کیلئے بالعموم عقیدہء توحیدکی تین قسم بیان کرتے ہیں:(۱)توحیدربوبیت(۲) توحیداُلوہیت(۳)توحیداسماء وصفات۔

    (۱)توحیدربوبیت:’’اللہ ہی ہرچیزکاخالق ومالک ہے اورہرشئی پراُسی کی حکمرانی ہے۔‘‘اللہ فرماتا ہے:(اَ لَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) ’’ یادرکھواللہ ہی کیلئے خاص ہے خالق ہونااورحاکم ہونا‘بڑی خوبیوں سے بھراہواہے اللہ جوتمام عالم کاپروردگارہے۔‘‘(سورہ اعراف:۵۴)

    (۲)توحیداُلوہیت:اِسے ’’توحیدعبادت‘‘ بھی کہتے ہیںیعنی ’’ہرطرح کی عبادت اللہ کیلئے خالص کرنا۔‘‘اللہ فرماتاہے:(قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ)’’آپ فرمادیجئے کہ بالیقین میری نمازاورمیری ساری عبادت اورمیراجینااورمیرامرنایہ سب خالص اللہ ہی کیلئے ہے جوسارے جہان کامالک ہے ۔ ‘‘ (سورہ انعام :۱۶۲)

    *معلوم یہ ہواکہ عبادت سے موسوم جوبھی چیز ہوگی اُسے خالص اللہ ہی کیلئے اداکیاجائے گا۔اب اگرکسی نے کسی بھی عبادت کواللہ کے علاوہ کسی اورکیلئے اداکیاتواُسے ’’شرک‘‘سے تعبیرکیاجائے گا۔یہ وہ گناہِ عظیم ہے جوساری کی ہوئی نیکیوں کوبرباد کرنے کے ساتھ ’’اللہ کی مغفرت‘‘سے روک دیتاہے۔یہی معاملہ توحیدکی سب قسموں کے ساتھ ہے ۔ اللہ کافرمان ہے:(وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مَنَ الْخٰسِرِیْنَ)’’یقیناًتیری طرف بھی اورتجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں)کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگرتونے شرک کیاتوبلاشبہ تیراعمل ضائع ہوجائے گااوربالیقین توزیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔‘‘(سورہ زُمر : ۶۵ ) دوسری جگہ اللہ ارشادفرماتاہے:(اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُاَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُمَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ) ’’اُسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گاکہ اُس کے ساتھ شریک مقررکیاجائے ‘ ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرمادیتاہے اوراللہ کے ساتھ شریک کرنے والابہت دورکی گمراہی میں جاپڑا۔‘‘(سورہ نساء:۱۱۶)

    (۳)توحیداسماء وصفات:’’اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں اکیلاوبے مثل ہے۔‘‘اللہ فرماتاہے:(لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَّھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ)’’اُس جیسی کوئی چیزنہیں وہ سُننے اوردیکھنے والاہے۔‘‘(سورہ شوریٰ:۱۱)یعنی جس طرح وہ دیکھتااورسنتاہے اُس طرح کوئی بھی نہیں دیکھ اورسُن سکتا ہے۔قرآن واحادیث میں اللہ کیلئے بہت سے اسماء حُسنٰی (بہترین نام )رحمٰن،رحیم اورذاتی وفعلی اعلیٰ صفات مذکورہیں ’’یدیعنی ہاتھ۔وجہ یعنی چہرہ اوررِجل یعنی پَیر‘‘کابھی ذکر ہے۔اِس ضمن میں حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے بہترین وضاحت کی ہے جس سے سلف صالحین کے عقیدے کی ترجمانی ہوتی ہے۔’’حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے ایک شخص نے اللہ کے’’ مستوی علی العرش‘‘ سے متعلق سوال کیاکہ اللہ کس اندازمیں’’ مستوی علی العرش‘‘ ہے؟امام صاحب نے جواباًکہاکہ’’استواء معلوم ہے‘کیفیت مجہول ہے اوراِس بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘اُس کے بعد اُس سوال کرنے والے شخص کواپنی مجلس سے نکال باہرکردیا۔‘‘(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز)یہی سلف صالحین کاعقیدہ ہے کہ قرآن واحادیث میں اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے جوالفاظ استعمال ہوئے ہیں‘اُس کی کیفیت پربحث نہ کی جائے۔نہ ہی اُس کی تشبیہ بیان کی جائے اورنہ ہی اُس سے اللہ کی ذات کو معطل کیاجائے‘اِس لئے کہ اللہ نے خود کہاکہ اُس کی طرح کوئی نہیں۔لہٰذااہلسنت وسلف اللہ کے اِن ناموں اورصفات کوجوں کاتوں مانتے ہیں نہ اُس کی کیفیت بیان کرتے ہیں،نہ مثال دیتے ہیں اورنہ ہی اُن کی تحریف وتاویل یاانکارکرتے ہیں۔

    برکات وثمرات

    (۱)نبی کی شفاعت:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’قیامت کے روزمیری سفارش سے فیض یاب ہونے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے سچے دل سے یا(آپ نے فرمایا)جی جان سے ’’لااِلٰہ اِلّااللّٰہ‘‘کااقرارکیاہے۔‘‘(بخاری:۹۹)

    (۲) جنّت میں داخلہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’جوشخص اِس حال میں مرے کہ اُسے ’’لااِلٰہ اِلّااللّٰہ ‘‘ (اللہ کے سواعبادت کے لائق کوئی نہیں)کاعلم(یقین)ہو(یعنی اُس عقیدے پرعمل کرنے والاہو)تووہ جنّت میں جائے گا۔‘‘(مسلم:۱۴۵)

    (۳) امن اورہدایت کاذریعہ :اللہ فرماتاہے:(اَلَّذِیْنَ آمَنُوْاوَلَمْ یَلْبِسُوْااِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓءِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ)’’جولوگ ایمان رکھتے ہیں اوراپنے ایمان کوشرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ‘ایسوں ہی کیلئے امن ہے اوروہی راہ راست پرچل رہے ہیں۔‘‘(سورہ انعام:۸۲)اِس آیت کی تفسیرمیں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ’’احسن البیان‘‘میں لکھتے ہیں کہ:’’آیت میں یہاں ظلم سے مرادشرک ہے جیساکہ ترجمہ سے واضح ہے۔حدیث میں آتاہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنھم نے ظلم کاعام مطلب (کوتاہی‘غلطی‘گناہ‘زیادتی وغیرہ)سمجھا‘جس سے وہ پریشان ہوگئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکرکہنے لگے اَیُّنَالَمْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جس نے اپنے اوپرظلم نہ کیاہو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اِس سے وہ ظلم مرادنہیں ہے جوتم سمجھ رہے ہوبلکہ اِس سے مرادشرک ہے۔ جس طرح حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کوکہاتھا(اِنَّ الشّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ)(لقمان:۱۳)یقیناًشرک ظلم عظیم ہے۔‘‘(صحیح بخاری‘تفسیرسورۃ الانعام)

    (احسن البیان‘ص:۳۷۰)

    اِس آیت میں چنداہم باتیں بیان کی گئی ہیں:(۱)ایمان سے مرادعقیدہء توحیدہے،جیساکہ تفسیرمیں وضاحت ہے۔(۲)اللہ کے یہاں ایمان خالص ہی نجات کا ذریعہ بنے گا۔ اگرشرک کی ملاوٹ ہے توپھرامن اورہدایت کی امیدبے معنیٰ ہے۔(۳)امن،اہل توحیدکیلئے ہی ہے۔*یہاں ایک شبہ یہ پیداہوتاہے کہ انبیاء ورُسل علیھم السلام اور اصحاب کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جوایمان خالص کے سچے علمبردارتھے،آخراُن کی زندگیاں مختلف قسم کی آزمائشوں اورمشکلات سے کیوں گھری ہوئی تھیں؟اِس کاجواب یہ ہے کہ دراصل امن کامطلب دل کاسکون وقرار ہے،جوالحمدللہ ہراہل ایمان کونصیب ہوتاہے۔اللہ نے انسانوں کوجودل عطاکیاہے وہ اپنے معبودِحقیقی کی تلاش میں رہتا ہے۔ جب تک اُسے اللہ نہیں مل جاتابیقرار رہتاہے۔اُن نومسلموں سے پوچھئے جنھیں اللہ نے اسلام کی ہدایت سے مالامال کیاہے،اب آپ کوکیسامحسوس ہوتاہے؟وہ یہی جواب دیں گے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد جوبے چینی اور بیقراری تھی،وہ ختم ہوگئی۔رہامسئلہ مشکلاتِ زندگی کاتویہ بات سمجھنابہت ہی آسان ہے۔دنیامیں ہم دیکھتے ہیں کہ جس شخص کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہے توچوراُچکوں کی نگاہِ بداُس کے پیچھے لگی ہوتی ہے کہ کب موقع ملے اوراُس کی دولت کولوٹ لیاجائے۔یہ توظاہری مال ومتاع کامعاملہ ہے۔روحانی دنیا میں عقیدہء توحیداورایمان خالص سے بڑھ کرکوئی نعمت نہیں ،اِس لئے کہ اِسی نعمت کے ذریعے آخرت کی حقیقی کامیابی اوراللہ کی بخشش حاصل کی جائے گی۔ انبیاء ورُسل علیھم السلام اور اہل ایمان کے دل اِس نعمت سے معمورہوتے ہیں،لہٰذاانسانوں اور جنّات میں رہنے والے شیاطین اِس عظیم نعمت کولوٹنے کیلئے ہمہ وقت تاک میں لگے رہتے ہیں۔جبکہ اہل ایمان اِ س نعمت کے تحفظ کیلئے ہرقسم کی تکالیف برداشت توکرسکتے ہیں،لیکن کبھی ایمان کاسودانہیں کرتے۔اورقرآنی صراحت کے مطابق راہِ حق میں پیش آنے والی مصیبتیں ایمان کے اخلاص کاامتحان ہوتی ہیں اوربلندیء درجات کاذریعہ بھی۔(۴)عقیدہء توحیدکے حاملین کی جماعت ہی اصل ہدایت یافتہ ہے،اِس لئے کہ اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط عقیدے کاصحیح ہوناہے۔قرآن مجیدمیں کئی مقامات پر’’عمل صالح‘‘سے قبل ’’ایمان‘‘کاتذکرہ ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ عمل اُسی وقت صالح ہوگاجب ایمان صحیح ہوگا۔(اِلِّاالَّذِیْنَ آمَنُواوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ)(سورہ عصر:۳)

    (۴)عالمِ برزخ کی سلامتی:حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے جنازے میں نکلے ۔ہم قبرتک پہنچے جوکہ ابھی تیارنہیں ہوئی تھی۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اورہم بھی آپ کے اِردگرداِس اندازمیں بیٹھ گئے گویاکہ ہمارے سروں پرپرندے بیٹھے ہوں(کہ ذراسی حرکت سے اُڑجائیں ،یعنی بغیرکوئی حرکت کے خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے)۔آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے زمین کُریدرہے تھے ،اُسی دوران آپ نے اپناسراُٹھایااورکہا:’’قبرکے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔‘‘دومرتبہ یاتین مرتبہ کہا۔(جریرکی روایت میںیہاں اِتنازیادہ ہے کہ)آپ نے فرمایا:اوروہ(مُردہ)جب اُسے لوگ دفناکرواپس جانے لگتے ہیں تواُن کے جوتوں کی آہٹ کوسنتاہے،اُس وقت اُس سے پوچھاجاتاہے:تیرارب کون ہے؟تیرادین کیاہے؟اورتیرانبی کون ہے؟ ہنّاد (حدیث کے ایک راوی)کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:اُس کے پاس دوفرشتے(مُنکراورنکیر)آتے ہیں اوراُسے بٹھاتے ہیں،اُس سے پوچھتے ہیں:تیرارب کون ہے؟وہ کہتا ہے: میر ا رب اللہ ہے۔پھراُس سے پوچھتے ہیں:تیرادین کیاہے؟وہ کہتاہے:میرادین اسلام ہے۔پھراُس سے پوچھتے ہیں :اُس شخص کے بارے میں کیاکہتے ہوجوتمھارے درمیان بھیجا گیا تھا؟وہ کہتا ہے:وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اُس کے بعدپھراُس سے سوال کیاجاتاہے:(یہ سب )تجھے کیسے معلوم ہوا؟وہ کہتا ہے:میں نے قرآن پڑھا،اُس پر ایمان لایااوراُس کی تصدیق کی۔جریر(راوی حدیث)کی حدیث میں اِتنازیادہ ہے کہ:اِسی بارے میں اللہ کافرمان ہے(یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْابِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاوَفِی الاٰخِرَۃِ )ترجمہ:’’ایمان والوں کواللہ تعالیٰ پکّی بات کے ساتھ مضبوط رکھتاہے،دنیاکی زندگی میں بھی اورآخرت میں بھی۔‘‘(سورہ ابراہیم:۲۷)(یعنی قول ثابت مطلب ’’لاالٰہ الّا اللّٰہ‘‘کے ذریعے آخرت میں مطلب قبریابرزخ میں ثابت قدمی اورصحیح جواب کی توفیق ملتی ہے)اِس کے بعد سے دونوں راوی(ہنّاداورجریرکے الفاظ ) ایک ہی ہیں کہ آپ نے فرمایا:پس آسمان سے ایک ندالگانے والاآوازدیتاہے:میرے بندے نے سچ کہا،اُس کیلئے جنّت کابستربچھادیجئے ،جنّت کا ایک دروازہ اُس کیلئے کھول دیا جائے اوراُسے جنّتی لباس بھی پہنادیا جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ:پس اُس (دروازے )سے جنّت کی مہک اورخوشبواُس تک آتے رہتی ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ:(جنّت کا دروازہ ) اُس کی حدِنگاہ تک کھول دیاجاتا ہے۔آپ نے کافرکی موت کاذکرکرتے ہوئے کہا:اُس کی روح اُس کے جسم میں لوٹادی جاتی ہے اوروہی دونوں فرشتے اُس کے پاس آتے ہیں،اُسے بٹھاکرپوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟وہ کہتاہے:ہائے افسوس!میں نہیں جانتا۔اُس سے پوچھتے ہیں:تیرادین کیاہے؟وہ کہتاہے:ہائے افسوس!میں نہیں جانتا۔ پھر اُس سے پوچھتے ہیں:جونبی تمھارے درمیان بھیجاگیا تھااُس کے بارے میں کیاخیال ہے؟وہ کہتاہے:ہائے افسوس!میں کچھ نہیں جانتا۔پس آسمان سے ندادینے والاایک آواز دیتا ہے کہ:اُس نے جھوٹ کہا،اُس کیلئے جہنّم کابسترلگادیاجائے اورجہنّم کی طرف سے ایک دروازہ کھول دیاجائے۔آپ نے فرمایا:پس جہنّم کی تپش اورگرم ہوااُس تک پہنچنے لگتی ہے۔ آپ نے یہ بھی کہاکہ:اُس پرقبرکو اِتناتنگ کردیاجاتاہے کہ اُدھرکی پسلی اِدھراوراِدھرکی اُدھرہوجاتی ہے۔۔۔جریرکی حدیث میں اِتنی زیادتی ہے کہ۔۔۔آپ نے فرمایا: پھر ایک اندھااورگونگا(فرشتہ)مسلط کردیا جاتاہے،اُس کے پاس لوہے کاایساہتھوڑاہوتاہے کہ اگراُس سے پہاڑپرایک ضرب لگادی جائے تووہ مٹی ہوجائے۔آپ نے آگے بیان فرمایا کہ:پس وہ(فرشتہ)اُس ہتھوڑے سے اُسے ایسی مارمارتاہے کہ اُس کی چیخ مشرق اورمغرب کے درمیان سوائے جنّ واِنس کے ہرکوئی سنتا ہے،پس وہ(اُس مارسے)مٹی ہوجاتا ہے۔آپ نے کہاکہ:پھراُس کی روح کولوٹایاجاتاہے(اوراِسی طرح یہ عذاب جاری رہتاہے۔)(سُنن ابوداؤد:۴۷۵۵)

    مرنے کے بعدسے قیامت تک کے وقفے کو’’برزخ‘‘ سے تعبیرکیاجاتاہے۔(وَمِنْ وَّرَآءِھِمْ بَرْزَخٌ اِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ)(سورہ مؤمنون:۱۰۰)اِس وقفے میں نجات کا سب سے اہم ذریعہ عقیدہء توحید ہی ہے۔اِس مرحلہ میں ایمان اوراعمال صالحہ کی دولت ہی سفینہء نجات بنتی ہے۔رشتے دارواقرباء،دوست واحباب اوردنیاوی مال ومتاع سب ساتھ چھوڑجاتے ہیں۔اگرایمان واعمال صالحہ سے تہی دامن ہیں توپھراِس حدیث میں بیان کئے گئے عذاب کے بارے میں سوچئے!کیااُسے برداشت کرنے کی طاقت ہے؟کیااُسے سہاجاسکتاہے؟نہیں ۔۔۔یقیناًنہیں ۔۔ توپھرابھی موقع ہے۔اُس عذاب سے بچنے کی بہترتیاری کیجیئے۔

    ایک مرتبہ منماڑمیں ایک گورکن(قبرکھودنے والا)میرے پاس آیااورسوال کرنے لگاکہ لوگ اُس سے قبرکھودتے وقت مطالبہ کرتے ہیں کہ قبراِتنی گہری کھودوکہ آدمی باآسانی اُس میں کھڑاہوسکے۔ مَیں نے پوچھا:کس لئے؟کہنے لگاکہ:لوگ ایسامانتے ہیں کہ جب مُردے کوقبرمیں لٹایاجاتاہے تواُس کے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا جاتاہے،اُن کودیکھ کرمُردہ اُٹھ کھڑاہوتاہے۔اِس لئے قبرکواِتنی گہری کھودو کہ آدمی کھڑاہوسکے۔تب مَیں نے اِسی حدیث کے حوالے سے کہاکہ مُنکراورنکیرمُردے کوبٹھاتے ہیں ، کھڑانہیں کرتے۔رہامسئلہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کووہاں پیش کیاجاتاہے،تویہ ایک باطل عقیدہ ہے،جس کی کوئی واضح دلیل نہیں۔تبھی توجواباً وہ کہتاہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اگرسامنے ہوتے توکہتاکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

    (۴)جب نامہء اعمال تولا جائے گا: حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنھماکہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے میری امت کے ایک آدمی کو لائے گااوراُس کے سامنے (گناہوں)کے ننانوے رجسٹررکھ دئے جائیں گے ،ہررجسٹرتاحدنگاہ پھیلا ہوگا۔پھراللہ تعالیٰ اُس آدمی سے پوچھے گا:تواپنے اِن اعمال میں سے کسی کاانکارکرتاہے؟کیا(نامہء اعمال تیارکرنے والے)میرے کاتبوں نے تجھ پرظلم کیا؟وہ کہے گا: اے میرے رب!نہیں۔پھراللہ تعالیٰ پوچھے گا:(اِن گناہوں کے بارے میں)تیرے پاس کوئی عذرہے؟وہ کہے گا:اے میرے رب!نہیں۔تب اللہ تعالیٰ کہے گا:اچھاٹھہرو! ہمارے پاس تمھاری ایک نیکی بھی ہے اورآج تم پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔چنانچہ ایک پرچی یا کارڈلایاجائے گاجس میں ’’اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلّاَاللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ‘‘لکھا ہوگااللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا:نامہء اعمال وزن ہونے کی جگہ چلے جاؤ۔وہ کہے گا:اے اللہ!اِس کارڈکی ننانوے رجسٹروں کے مقابلے میں کیااہمیت؟اللہ کہے گا:(میرے بندے ) آج تجھ پرکوئی ظلم نہیں ہوگا۔(یعنی ہرچھوٹے بڑے عمل کاحساب ہوگا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گناہوں سے بھرے ہوئے ننانوے رجسٹروں کوایک پلڑے میں رکھ دیاجائے گااور(کلمہ کے)کارڈیاپرچی کودوسرے پلڑے میں۔گناہوں کے رجسٹرہلکے پڑجائیں گے اور(کلمہ کا)کارڈبھاری پڑجائے گا۔(پھرآپ نے ارشاد فرمایا : ) اللہ تعالیٰ کے نام سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔(سُنن ترمذی:۲۶۳۹)

    یہ حدیث’’حدیث بطاقہ(کارڈ)‘‘سے مشہورہے۔قیامت کے روزجب بندوں کے اعمال کاوزن کیاجائے گا،یہ مرحلہ ہرشخص پربڑابھاری ہوگا۔اُس مرحلہ پرجبکہ سارے رشتے ناطے بیگانے ہوچکے ہوں گے،عقیدہء توحید(اللہ سے وفاداری)ہی کام آئے گی۔علاوہ ازیں اِس حدیث میں مومن کی صاف گوئی کی مثال موجودہے کہ سزا وعقاب اورروزِمحشرکی ہولناکیوں کے باوجودرب العٰلمین کے سامنے اپنے ہرگناہ کااعتراف کرے گا۔جھوٹ بیانی یابہانے بازی سے کام نہیں لے گا۔یقینایہ اُنھیں لوگوں کا نصیبہ ہے جنھوں نے دنیاوی زندگی میں بھی صاف گوئی کی صفت سے اپنے آپ کومتصف رکھاہوگا۔

     

    *ملاحظہ:یہاں ایک نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ شہادتین کی پرچی یاکارڈننانوے رجسٹروں کے مقابل بھاری ہوگی،لیکن پھربھی بہت سے ’’لا اِلٰہ اِلّااللّٰہ‘‘کہنے والے ( نمازی وغیرہ)جہنّم میں جائیں گے جیساکہ احادیث میں ہے کہ جہنّم میں وہ اعضاء نہیں جلیں گے جوسجدے میں ٹکے ہوتے ہیں۔(مسلم:۴۶۹)اِس سے معلوم ہواکہ بعض لوگوں کو کلمہ کی شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا۔لہٰذاکلمہ کامعنیٰ ومفہوم کوسمجھنااوراُس کے تقاضوں کوصحیح طورپراداکرنانہایت ضروری ہے،تاکہ عذابِ جہنّم سے سلامت رہا جاسکے ۔

    (۵)اللہ سے ملاقات کے وقت:حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناہے کہ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے:اے ابن آدم!توجب تک صرف مجھے پکارتارہے گااورمجھ سے ہی بخشش کی امیدرکھے گا،مَیں تجھ سے سرزدہونے والے ہرگناہ کوبخشتارہوں گا،اورمجھے کوئی فکر نہیں ہے ۔اے ابن آدم! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں اورتومجھ سے بخشش طلب کرے تومَیں تجھے بخش دوں گا۔اے ابن آدم!مجھے کوئی پرواہ نہیں اگرتوروئے زمین کے برابرگناہ لے ک کرآئے اورمجھ سے اِس حال میں ملے کہ کسی کومیرے ساتھ شریک نہ کیاہوتومَیں روئے زمین کے برابرہی تجھے مغفرت عطاکروں گا(یعنی سارے گناہ بخش دوں گا) (سُنن ترمذی:۳۵۴۰)

    دعائیں پُرامیداندازمیں کرنی چاہئے،تبھی یہ اپنااثردکھائیں گی۔اللہ تعالیٰ لاپرواہی اورغفلت کے اندازمیں کی جانے والی دعاؤں کوقبول نہیں کرتا۔علاوہ ازیں معلوم یہ ہواکہ اللہ سے ملاقات کے وقت بخشش کاسب سے مضبوط سہاراعقیدہء توحیدہی ہے۔انسان یہ سوچتاہے کہ اتنے سارے گناہوں کوکیسے بخشاجاسکتاہے؟اُسی کاجواب اِس حدیث میں دیاگیاہے کہ وہ تو(صمد)بے نیازہے،وہ کچھ بھی کرے ،اُسے کون روک ٹوک سکتاہے؟اُسے کسی بات کی کوئی فکرنہیں ۔فکرصرف بندے کواِس بات کی کرنی چاہئے کہ عقیدہء توحیدپامال نہ ہونے پائے۔اللہ سے وفاداری کاصلہ یقیناًاُس کی مغفرت اورجنّت کی شکل میں مل کررہے گا۔اِن شاء اللہ۔یہاں یہ بھی معلوم ہواکہ توحیدگناہوں کے کفارے کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔

    (۶)ایک اہم ترین وضاحت: حقوق کی دوقسمیں ہیں:(۱)حقوق اللہ(۲)حقوق العباد۔مذکورہ تمام احادیث کاتعلق ’’حقوق اللہ‘‘سے ہے۔رہامسئلہ حقوق العباد کاتواُسے بندوں کے حوالے کردیا جائے گا،ہرکوئی جانتاہے کہ جوبندہ دنیامیں کسی کو بخشنے کیلئے جلدی تیارنہیں ہوتاوہ آخرت میں اپناحق کیونکرچھوڑے گا؟اِس ضمن کی اہم حدیث کوہمیشہ ملحوظِ خاطررکھاجائے تاکہ دونوں طرح کے حقوق کی صحیح طورپرادائیگی کرکے آخرت کی نجات کی بہترتیاری کی جاسکے۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:کیاتمھیں خبربھی ہے کہ مفلس کون ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کہا:ہم میں مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس روپے پیسے نہ ہوں۔تب آپ نے ارشادفرمایا:میری امت کامفلس بروزقیامت اِس حال میں آئے گاکہ اُس کے پاس نماز،روزہ اورزکوٰۃ (کی نیکیاں) ہوں گی (لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسا بھی ہوگاکہ)وہ کسی کوگالی دیاہوگا،کسی پربہتان لگایاہوگا،کسی کامال(ناجائزطورپر)کھایاہوگا،کسی کاخون بہایاہوگااورکسی کوماراہوگا۔پس(اِن سارے مظلوموں)کواُس کی نیکیاں دی جانے لگے گیں،پھراگرفیصلہ ہونے سے پہلے ہی اُس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تواُن(مظلوموں کی )خطائیں اِس پرلاددی جائیں گی اور پھر اُسے ذلّت کے ساتھ جہنّم میں پھینک دیاجائے۔(مسلم:۶۷۴۴)

    *ذکرکردہ توحیدکے ثمرات،توحیدکوسب سے اہم اوربڑی نعمت،سب سے فضیلت والی چیزثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔جبکہ کتاب وسنّت میں اِس کے اوربھی ثمرات وبرکات اورفوئدبتائے گئے ہیں جن کیلئے ایک دفتردرکارہے۔