ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    صلاۃ (نماز) : اہمیت،فضیلت اورکیفیت





    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

     صلاۃ   ( نماز ) :اہمیت،فضیلت اورکیفیت

    مرتب : حافظ عبدالتواب محمدی ( فاضل جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    نظر ثانی : دکتور طارق صفی الرحمن مبارکپوری ( نائب مفتی جامعہ محمدیہ منصورہ ، مالیگاؤں )

    تمام قسم کی تعریفات اللہ رب العٰلمین وحدہٗ لاشریک کیلئے لائق وزیباہیں جوساری کائنات کاتنہاخالق ومالک ہے۔اوربے شماردروٗدوسلام ہواللہ کے آخری نبی جناب کریم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ پر۔

    انس وجن کی پیدائش کامقصدصرف اورصرف اللہ کی عبادت کرناہے۔اللہ فرماتاہے:(وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ)(سورہ ذاریات:۵۶) ترجمہ : ’’ میں نے جنات اورانسانوں کومحض اِسی لئے پیداکیاہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں۔‘‘

     صلاۃ وہ عبادت ہے جواسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی بنیادپانچ (باتوں)پررکھی گئی ہے(۱)اِس بات کی گواہی دیناکہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں اوریہ کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اوراُس کے رسول ہیں (۲)  صلاۃ  قائم کرنا (۳)زکوٰۃ اداکرنا(۴)حج اداکرنااور(۵)رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘(مسلم:۱۲۲)

    یقینا صلاۃ ایک مکمل عبادت ہے جوبدنی،قولی اورقلبی عبادات کاحسین امتزاج ہے۔بدنی کامطلب یہ ہے کہ اِس عبادت کوبدن کے حرکات وسکنات کے ذریعے ادا کیا جاتا ہے۔ قولی کامطلب یہ ہے کہ اِس میں قرآن کی تلاوت اوردیگراذکارکوزبان سے پڑھاجاتاہے اورقلبی کایہ مطلب ہے کہ  صلاۃ  کے اداکرتے وقت دل پوری طرح سے اللہ کی طرف متوجہ رہناچاہئے۔یہ ساری عبادات بیک وقت  صلاۃ میں جمع ہوجاتی ہیں۔

    *  صلاۃ  کی اہمیت :  صلاۃ  کی اہمیت کونمایاں کرنے کیلئے اِتناہی ذکرکردیناکافی ہے کہ اِسے فرض ہونے سے پہلے بھی اداکیاجاتاتھالیکن جب فرضیت کی بات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوزمین سے آسمان پربلایاگیااورپھراِسے عطاکیاگیا۔’’حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں تین چیزیں عطا کی گئیں ۔ پانچ وقت کی  صلاۃ یں،سورہ بقرہ کی اخیرکی(۳) آیات اورآپ کی امت کے ہراُس شخص کی بخشش کی جائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو۔ ( مسلم : ۴۴۹ )

    ’’حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایمان اورکفرکے درمیان فرق، صلاۃ کاچھوڑدیناہے۔‘‘(مسلم: ۲۵۴)اِس حدیث کو آسانی کے ساتھ یوں سمجھاجاسکتاہے کہ اذان ہورہی ہے،ایک شخص کاروباریادنیاوی معاملات میں مصروف ہے،وہ فوراًاُسے چھوڑکر  صلاۃ کیلئے روانہ ہوجاتاہے،یہ طرزعمل اُس کے مسلمان ہونے کاثبوت فراہم کرتاہے۔لیکن دوسراشخص اذان کواہمیت نہیں دیتااورآخرت کے مقابلے میں دنیا کوترجیح دیتاہے،یہ طرزعمل اُس کے کفرکااعلان کرتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اصحاب کرام رضی اللہ عنھم سوائے  صلاۃ کے ترک کے کسی اورعمل کوکفرسے تعبیرنہیں کرتے تھے۔’’حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اعمال میں سے کسی چیزکے ترک کوکفرنہیں سمجھتے تھے سوائے  صلاۃ کے۔ ‘‘(ترمذی: ۲۸۳۱)

    * صلاۃ کامقصد: صلاۃ کے مقصدکوبڑے ہی جامع اندازمیں اللہ رب العزت نے بیان فرمایاہے:(اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ)(سورہ عنکبوت : ۴۵ ) ترجمہ:’’یقینا صلاۃ بے حیائی اوربرائی سے روکتی ہے۔‘‘اب اگرکوئی شخص  صلاۃ اداکرنے کے بعدبھی بے حیائی اوربرائی سے بازنہیں آتاتواِس کاواضح مفہوم یہی ہے کہ اُس نے وہ  صلاۃ اداہی نہیں کی جو اُسے گناہوں سے روک سکے۔خطا صلاۃ میں نہیں بلکہ  صلاۃ ی میں ہے۔

    *کون سے  صلاۃ ی کامیاب ہونگے؟:کیاہر صلاۃ ی کامیاب ہوگا؟یہ ایک اہم سوال ہے،جس کاجواب جاننے کی ہرشخص کوتڑپ ہونی چاہئے۔اِس کاجواب خودقرآن نے ہی دے دیا ہے۔اللہ فرماتاہے:(قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ*الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ)(سورہ مومنون:۲-۱)ترجمہ: ’’یقیناایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی  صلاۃ میں خشوع کرتے ہیں۔‘‘اِن آیات کی تفسیرمیں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:’’خُشُوعٌ سے مراد،قلب وجوارح کی یکسوئی اورانہماک ہے۔قلبی یکسوئی یہ ہے کہ  صلاۃ کی حالت میں بہ قصدخیالات ووساوس کے ہجوم سے دل کومحفوظ رکھے اوراللہ کی عظمت وجلالت کانقش اپنے دل پربٹھانے کی سعی کرے۔اعضاء و جوارح کی یکسوئی یہ ہے کہ اِدھراُدھرنہ دیکھے،کھیل کودنہ کرے۔بالوں اور کپڑوں کوسنوارنے میں نہ لگارہے۔بلکہ خوف وخشیت اورعاجزی وفروتنی کی ایسی کیفیت طاری ہو،جیسے عام طورپربادشاہ یاکسی بڑے شخص کے سامنے ہوتی ہے۔‘‘(احسن البیان:۹۳۹)عام طورپرلوگ رسمی  صلاۃ اداکرتے ہیں،انقلابی نہیں۔تبھی تواِس قدر صلاۃ کی ادائیگی کے بعدبھی نہ گناہ چھوٹتے ہیں اورنہ ہی بے حیائی۔نہ مشرکانہ مزاج میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اورنہ ہی حلال وحرام سے دوری۔علامہ اقبال نے سچ کہاتھا.....’’تیرادل توہے صنم آشنا تجھے کیاملے گا صلاۃ میں‘‘

    انقلابی  صلاۃ وہ ہوتی ہے جومسلمان کومسلمان بناتی ہے،بے حیائی سے روک دیتی ہے،برائی کے قریب نہیں جانے دیتی اورنیتوں میں اخلاص پیدا کرتی ہے۔جبکہ رسمی طور پر  صلاۃ اداکرنے سے یہ سارے فوائدحاصل نہیں ہوتے۔ صلاۃ کے پڑھنے والے کوبس اِتنی تسلی ہوجاتی ہے کہ اُس نے ایک رسم تھی جسے اداکردیا۔اب کوئی اُس پربے  صلاۃ ی کالیبل چسپاں نہیں کرسکتا۔

    *ایک اہم تنبیہ:شیطان کے گمراہ کرنے کے ہتھکنڈے بڑے خطرناک اورمکرسے آراستہ ہوتے ہیں۔وہ مسلمانوں کونیکی کے راستے سے آسانی کے ساتھ گمراہ کردیتا ہے اورلوگوں کوپتہ بھی نہیں چل پاتا۔وہ اِس طرح کہ  صلاۃ یوں کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈالتاہے کہ وہ بے  صلاۃ یوں کوحقیرسمجھنے لگتے ہیں اور اُن کی غیبتیں کرکے اپنی  صلاۃ وں کے اجر کو ضائع کردیتے ہیں۔کچھ  صلاۃ ی توایسے ہوتے ہیں جو صلاۃ کے اداکرنے کے بعدمسجدکے باہراپنی نیکیوں کوضائع کرنے والی محفلیں سجاتے ہیں۔کسی کی غیبت کرکے توکسی کی چغلی کرکے ۔اصحاب کرام رضی اللہ عنھم ہرلمحہ اللہ کی اطاعت وعبادت کرکے بھی فکرمندرہتے کہ پتہ نہیں ہماری نیکیاں قبول ہوئی بھی کہ نہیں۔اورہم تھوڑی نیکی کرکے بھرپورقبولیت کی امید کے ساتھ،کثیراجرکے متمنی۔اُس نیکی کارعب دوسروں پرجھاڑنے والے، دوسروں کی اصلاح کی بجائے تنقیدکے دلدادے اورنیکیاں کرنے کے بعدفکرمندہونے کی بجائے لاپرواہی کامظاہرہ کرنے والے۔

    * صلاۃ وں کے چور:روپے،پیسے اورمال کی چوری کاعلم توہرکسی کوہے۔اورایسے چوروں کوسماج میں ذلت ورسوائی کاسامنابھی کرناپڑتاہے۔کوئی بھی شخص اِن چوروں کو عزت نہیں دیتا۔کیوں؟اِس لئے کہ یہ لوگوں کے مال چوری کرتے ہیں۔اِن سے بڑابھی ایک چورہوتاہے،لیکن سماج کامعیاراِتنا پست ہے کہ وہ اُس کو باعزت سمجھتا ہے۔ وہ چورکون ہے؟وہ ہے  صلاۃ میں چوری کرنے والا۔ صلاۃ میں کیسے چوری کی جاسکتی ہے؟آئیے!اُس چوری کی حقیقت کوسمجھ لیاجائے۔ ’’حضرت نعمان بن مُرّہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اصحاب کرام سے)ایک سوال کیا:شراب کے پینے والے،چوری کرنے والے اورزانی کے بارے میں آپ لوگوں کی کیارائے ہے ؟ یہ اُس وقت کی بات ہے جب اِن سب کے بارے میں احکامات نازل نہیں ہوئے تھے۔تو اُنھوں نے کہا:اللہ اوراُس کے رسول بہترجانتے ہیں۔تب آپ نے کہا:یہ بے حیائی کے کام ہیں اوراُن پرسزائیں ہیں۔اورسب سے برا چور وہ ہے جو صلاۃ  میں چوری کرے۔اُنھوں نے پوچھا:اللہ کے رسول! صلاۃ میں (کوئی)کیسے چوری کرسکتاہے؟آپ نے فرمایا : اُس ( صلاۃ )کے رکوع اورسجدوں کومکمل طورپر(ادانہ کرنے والا صلاۃ میں اِس طرح چوری کرتاہے۔)(مؤطاامام مالک:۷۲)

    * صلاۃ کی فضیلت:یوں تو صلاۃ کی فضیلت میں بہت ساری احادیث مروی ہیں،یہاں اختصارکی وجہ سے صرف ایک ہی حدیث پراکتفاء کیاجارہا ہے۔’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پانچ  صلاۃ یں،اُن گناہوں کوجواِن  صلاۃ وں کے درمیان ہوئے، مٹادیتی ہیں اور (اِسی طرح)ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کومٹادیتاہے،جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیاگیاہو۔‘‘(مسلم:۵۷۲)

    * صلاۃ باجماعت:اسلام،اجتماعیت کوپسندکرنے اوراُس کوفروغ دینے والامذہب ہے۔اِس کے واضح دلائل  صلاۃ ،روزہ،حج اورزکوٰۃ کی تعمیل میں مل جائیں گے۔ اِن میں سے کوئی عبادت ایسی نہیں کہ اُس کے تنہاء اداکرنے کوپسندکیاگیاہو۔ صلاۃ ،روزہ،حج ہویازکوٰۃ۔ہرکسی کواجتماعی شکل میں اداکیا جاتاہے۔اگرصرف پانچ وقت کی  صلاۃ اداکرناہی مقصود ہوتاتوپھریہ حکم ہوتاکہ جب اورجہاں مناسب ہوایک ساتھ یااپنی سہولیت سے پڑھ لی جائیں،لیکن ایسانہیں ہے بلکہ  صلاۃ متعین وقت پرباجماعت فرض کی گئی ہے۔اللہ فرماتا ہے : (اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباًمَوْقُوْتاً)(سورہ نساء:۱۰۳) ترجمہ: ’’یقینا صلاۃ مومنوں پرمقررہ وقتوں پرفرض ہے۔‘‘مسجدکے قیام کاایک اہم مقصد  صلاۃ  باجماعت کااہتمام کرناہے۔مسلمانوں کے باہمی رابطے کی مضبوطی کیلئے  صلاۃ باجماعت کی ادائیگی سب سے بہتر ذریعہ ہے۔آج کے ٹیکنالوجی کے دورمیں ہزاروں کلومیٹردورلوگوں سے ربط تورکھاجاتاہے ،لیکن افسوس !گھرکے افراد،پڑوسی اوررشتے داروں سے نہیں۔ مسلمان اگرحقیقی طورپرپنج وقتہ  صلاۃ ی بن جائیں توپھرکسی اورخارجی سہارے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔  صلاۃ باجماعت کااداکرناہی اُن کے باہمی رابطے کا سب سے مؤثرذریعہ ہوگا۔مسجدکی ملاقات،دیگرجگہوں کی ملاقات سے بہتراوراثردارہوتی ہے۔یہاں کا ملاقاتی نہ تو بذات خوددل میں شررکھتاہے اورنہ ہی ملنے والے سے اُس کی امیدوابستہ کرتاہے۔یہ ملاقات آپسی محبت کوفروغ دیتی ہے،کدورتوں کونہیں۔ اِنہیں باتوں کے پیشِ نظررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  صلاۃ باجماعت اداکرنے کوسختی کے ساتھ نافذکیا۔اِس ضمن کی چنداحادیث سے مذکورہ مسئلہ کی نزاکت کاپتہ چلتاہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے،اُن ہدایت کے طریقوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ:’’اُس مسجدمیں  صلاۃ اداکی جائے جس میں اذان دی جاتی ہے۔(اورایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)اگرتم  صلاۃ اپنے اپنے گھروں میں پڑھوگے جیسے(جماعت سے)پیچھے رہنے والایہ شخص اپنے گھرمیں پڑھ لیتاہے توتم اپنے نبی کی سنّت چھوڑدو گے اوراگرنبی کی سنّت چھوڑدوگے توگمراہ ہوجاؤگے اور(یہ بات بھی شامل ہے کہ)جب کوئی شخص اچھاوضوکرکے مسجد جائے تواللہ تعالیٰ ہرقدم کے بدلے ایک نیکی لکھتاہے،ایک درجہ بلندکرتاہے اورایک برائی مٹادیتاہے۔جماعت سے سوائے منافق کے کوئی اورپیچھے نہیں رہتا۔بیماربھی دوآدمیوں کے سہارے  صلاۃ  کیلئے آتاتھا۔‘‘(مسلم:۱۵۲۰-۱۵۱۹)’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اکیلے شخص کی  صلاۃ  سے، جماعت کے ساتھ  صلاۃ ادا کرناستائیس درجے زیادہ(ثواب)رکھتاہے۔‘‘(بخاری:۶۴۵)’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،بے شک میں نے ارادہ کیاکہ لکڑیاں جمع کرنے کاحکم دوں،پھر اذان کہلواؤں اورکسی شخص کوامامت کیلئے کہوں،پھراُن لوگوں کے گھرجلادوں جو صلاۃ  (باجماعت)حاضرنہیں ہوتے۔‘‘(بخاری:۵۴۴)’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابیناصحابی(حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورکہا:اے اللہ کے رسول! مجھے مسجدتک لانے والاکوئی نہیں ہے،توکیامجھے اجازت ہے کہ میں اپنے گھرپرہی  صلاۃ پڑھ لیاکروں؟توآپ نے رخصت دے دی،پس جب وہ پلٹ کر جانے لگے توآپ نے اُن کوبلایااورکہا:کیاتم  صلاۃ کیلئے ہونے والی اذان سنتے ہو؟اُنھوں نے کہا:ہاں۔تب آپ نے کہا:توپھر صلاۃ  میں حاضر ہو۔‘‘(مسلم: ۱۵۱۸)سوچنے کی بات ہے جب ایک ایسے نابیناشخص کوگھرمیں  صلاۃ اداکرنے کی رخصت نہیں ملی جس کومسجدتک لانے والاکوئی نہیں تھاآنکھوں والے جو اذان سن کر بھی مسجدمیں نہیں آتے،ہوٹلوں یاگھروں میں بیٹھے رہ جاتے ہیں،قیامت کے دن اُن کاکیاحال ہوگا؟

    *بے  صلاۃ ی کاانجام:اگرکوئی مسلمان  صلاۃ کی فرضیت کاسرے سے منکرہوتواُس کوتوبہ کروائی جائے گی۔اُس کے بعدبھی نہ مانے تواِس بات پر علمائے امت کااتفاق ہے کہ وہ دائرۂ اسلام سے باہرنکل گیااوراگراسلامی حکومت ہوتواُس کی سزاقتل ہے۔لیکن اگرکوئی شخص  صلاۃ کی فرضیت کاتوقائل ہے،مگر اُس کی ادائیگی میں کوتاہی برتتاہے تویہ بھی سنگین جرم ہے،گرچہ ایساشخص اسلام کے باہرنہیں ہوگا۔

    جہنم میں جانے کاایک سبب  صلاۃ نہ پڑھنابھی ہے۔جہنم میں جانے کے بعدجہنمیوں نے سے ایک سوال ہوگا:(مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ*قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ) (سورہ مدثر:۴۳-۴۲)ترجمہ:’’تمھیں جہنم میں کس چیزنے ڈالا؟وہ جواب دیں گے کہ ہم  صلاۃ ی نہیں تھے۔‘‘’’حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایمان ،شرک اورکفرکے درمیان فرق، صلاۃ کاچھوڑدیناہے۔‘‘ (مسلم:۲۵۶)اِس کاواضح مفہوم یہی ہے کہ  صلاۃ ،اسلام اورکفرکے درمیان دیوارکی طرح حائل ہے۔جواُس کواداکرتاہے وہ اسلام کی آغوش میں آجاتاہے اورجو ادانہیں کرتاوہ کفرکی سرحدمیں داخل ہوجاتاہے۔آسان لفظوں میں یہ کہ  صلاۃ کاچھوڑنامسلمان کو کفر تک پہنچادیتاہے۔’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھماروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کی  صلاۃ عصرفوت ہوجائے توگویاکہ اُس کاگھراورمال لوٗٹ لیاگیا۔‘‘(بخاری:۵۵۲)’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے  صلاۃ عصرچھوڑدی،پس اُس کے اعمال باطل ہوگئے ۔ ‘‘(بخاری:۵۵۳)

    *تکبیراولیٰ سے سلام تک:اوّلاًیہ بات ذہن نشین رہے کہ وہی  صلاۃ رب کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرے گی جوخالصۃً لوجہ اللہ اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اداکی گئی ہو۔دونوں میں سے کوئی ایک بھی شرط مفقودہوئی تووہ  صلاۃ مردودہوجائے گی۔کوئی شخص اِس لئے  صلاۃ پڑھتاہے کہ لوگ اُس کو صلاۃ ی کہیں گے یا ریاکاری کیلئے اداکرتاہے تووہ  صلاۃ ہی باطل ہے۔’’حضرت ابوسعیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپس میں دجال کاتذکرہ کررہے تھے۔پس آپ نے فرمایا:کیامیں تمھیں اِس بات کی خبرنہ دوں جومیرے نزدیک دجال سے کہیں زیادہ تمھارے متعلق مجھے خوفزدہ کئے ہوئے ہے؟(راوئ حدیث حضرت ابوسعید )کہتے ہیں ،ہم نے کہا:کیوں نہیں(ضروربتلائیے)۔تب آپ نے کہا:(وہ خوفزدہ کرنے والی بات)’’شرک خفی‘‘(چھپاہواشرک)ہے۔یہ کہ آدمی کھڑاہوکرخوب شاندار  صلاۃ  لوگوں کودکھلانے کیلئے اداکرتاہے۔‘‘(سُنن ابن ماجہ:۴۳۴۴)بھلابتائیے!جس عبادت پرشرک کی چھاپ پڑجائے،کیاوہ بارگاہِ رب العزت میں مقبول ہوسکتی ہے؟

    ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدمیں تشریف لائے(اُسی دوران )ایک صحابی بھی تشریف لائے،  صلاۃ پڑھی اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا۔آپ نے جواب دے کراُس سے کہا:جاؤ صلاۃ پڑھو!اِس لئے کہ تم نے  صلاۃ نہیں پڑھی۔وہ (چپ چاپ)گئے اورجیسے پہلے  صلاۃ پڑھی تھی ویسے ہی دوبارہ پڑھ کرآئے۔سلام کیا،آپ نے اُس کے سلام کاجواب دے کرکے کہا:جاؤ صلاۃ پڑھو!اِس لئے کہ تم نے  صلاۃ نہیں پڑھی۔ایساتین مرتبہ ہوا۔تیسری مرتبہ کے بعداُس صحابی نے کہا:قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجاہے!میں اِس سے بہتر  صلاۃ پڑھنانہیں جانتاجومیں نے ابھی اداکی ہے۔برائے مہربانی!آپ مجھے  صلاۃ  کا طریقہ سکھائیے۔تب آپ نے اُسے پوری  صلاۃ کاطریقہ بتلایا۔۔۔ الآخر‘‘(ابوداؤد:۸۵۶)اِن شاء اللہ اِس حدیث کی تفصیل آگے آئے گی۔حدیث کے اِتنے حصے کوپیش کرنے کا مقصدیہ ہے کہ اگر صلاۃ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق ادانہیں کیاگیاتواُسے دنیامیں ہی ردکردیاجائے گا۔آخرت میں اُس پرثواب کی کوئی امیدوابستہ نہ کی جائے۔  صلاۃ وہی اداکیجئے جو’’ صلاۃ محمدی‘‘ ہے ۔کسی اورکے طریقے پر صلاۃ پڑھ کراپنی  صلاۃ کوضائع مت ہونے دیجئے۔

    طریقۂ  صلاۃ

    *نیت اورقیام:وضوکرنے کے بعدصف میں قبلہ روٗہوکرکھڑے ہوں۔دل میں خالص اللہ کیلئے  صلاۃ اداکرنے کی نیت کریں(یادرہے کہ زبان سے مادری زبان میں نیت کرنا بدعت ہے،اگریہ سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتی توعربی زبان میں ہوتی،جیساکہ  صلاۃ کے سارے اعمال عربی زبان میں ہی اداکئے جاتے ہیں ۔نیت،دراصل دل کے ارادے کانام ہے جوصرف اللہ اوربندے کے ہی علم میں رہناچاہئے۔کسی تیسرے کواُس کاعلم نہ ہو) اور ’’ تکبیرتحریمہ‘‘(اَللّٰہُ اَکْبَرُ)کہیں۔ (بخاری:۷۳۸)(ممکن ہوتو)کھڑے ہوکر  صلاۃ اداکرو،اگرطاقت نہ ہوتوبیٹھ کر،اگربیٹھ کرطاقت نہ ہوتولیٹ کر۔ (بخاری :۱۱۱۷) (کسی عذرکے بغیربیٹھ کر صلاۃ اداکرنے والوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : )بیٹھ کر صلاۃ اداکرنے والے کوکھڑے ہوکر صلاۃ  ادا کرنے والوں کی نسبت نصف(آدھا)ثواب ملے گا۔(ابن ماجہ:۱۲۸۷)تکبیرتحریمہ کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک یاکانوں تک اٹھائیں ۔ (بخاری: ۷۳۵،مسلم:۸۹۱)ہاتھ اٹھاتے وقت انگلیاں(نارمل طریقے پر)کھلی رکھیں،انگلیوں کے درمیان زیادہ کریں اورنہ ہی انگلیاں ملائیں ۔ (ابوداؤد: ۷۵۳)*یادرہے کہ ہرمرتبہ رفع الیدین کرتے وقت اِسی طرح ہاتھ کی کیفیت ہوگی۔ *شیخ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:’’(رفع الیدین کرتے وقت)ہاتھوں سے کانوں کوچھونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔اِن کاچھونابدعت ہے یا وسوسہ۔مسنون طریقہ ہتھیلیاں کندھوں یاکانوں تک اٹھانا ہے۔ہاتھ اٹھانے کے مقام میں مرداورعورت دونوں برابرہیں۔ایسی کوئی صحیح حدیث موجودنہیں جس میں یہ تفریق ہوکہ مردکانوں تک اورعورتیں کندھوں تک ہاتھ بلندکریں۔*سینے پرہاتھ باندھنا : ( تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد) دایاں ہاتھ،بائیں ہاتھ پررکھ کرسینے پرباندھ لیں۔(صحیح ابن خزیمہ:۴۷۹،مسنداحمد: ۲۱۹۶۷)*بات سیدھی سی ہے کہ جب نیت دل سے کی جاتی ہے تو ہاتھ کونیت کیلئے اُسی جگہ باندھاجائے گاجہاں سے نیت کی گئی ہے۔یہ کیابات ہوئی کہ نیت تودل سے کی جائے،لیکن ہاتھ نیت کیلئے کہیں اورباندھاجائے؟یہ بات بطورطنزنہیں بلکہ غورکیلئے پیش کی جارہی ہے کہ ’’زیرِناف‘‘کی جگہ شرم گاہ میں شمارکی جاتی ہے،اللہ کے سامنے کھڑے ہوں اورہماراہاتھ ایسی جگہ پرہو؟رہی بات اُس روایت کی جسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سُنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ ’’سنّت یہ ہے کہ ہتھیلی کوہتھیلی پرزیرِناف رکھا جائے۔‘‘تواِسے امام بیھقی اورحافظ ابن حجرنے ضعیف قرار دیا ہے اورامام نووی فرماتے ہیں کہ اِس کے ضعف پرسب کااتفاق ہے۔*عورت اورمردکی  صلاۃ میں کوئی فرق نہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلاۃ اُسی طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔(بخاری:۶۳۱)یادرہے کہ تکبیر تحریمہ سے لے کرسلام پھیرنے تک عورتوں اورمردوں کیلئے  صلاۃ کی ایک ہی کیفیت رہے گی۔سب کا قیام، رکوع، قومہ،سجدہ،جلسۂ استراحت،قعدہ اورہرہر مقام پرپڑھنے کی دعائیں یکساں رہے گی۔اِ س لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرداورعورت کی  صلاۃ میں کوئی فرق نہیں کیا ہے کہ مردزیرِناف ہاتھ باندھے اورعورت سینے پر۔*سینے پرہاتھ باندھنے کے بعدیہ دعاپڑھیں:’’اَللّٰھُمَّ بَاعِدْبَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَابَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اَللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَایَاکَمَایُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ،اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ‘‘(بخاری:۷۴۴)ترجمہ:’’اے اللہ ! میرے اورمیرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے جیسے تونے مشرق اورمغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔اے اللہ!مجھے گناہوں سے اِس طرح پاک کرجیساکہ سفید کپڑا مَیل سے پاک کیاجاتاہے۔اے اللہ!میرے گناہ( اپنی بخشش سے)پانی،برف اور اُولوں سے دھوڈال۔‘‘

    *گناہ چھوڑنے کیلئے سب سے پہلے اُس سے دوری اختیارکرناضروری ہے،اِسی لئے اِس دعاکاپہلے حصہ میں گناہوں سے دوررہنے کامطالبہ کیا گیاہے۔جب تک بندہ گناہ سے دورنہیں ہوگاتواُسے چھوڑے گاکیسے؟دوری بھی اِتنی ہونی چاہئے کہ اُس تک پہنچنامشکل ہوجائے،اِسی لئے دعاکی جارہی ہے کہ گناہ سے اُتنادورکردے جتناکہ مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ہے۔صحیح مسلم کی ایک مشہورروایت،جس میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کاتذکرہ ہے جس نے سو(۱۰۰)لوگوں کوقتل کردیاتھا۔اُسے ایک عالم نے یہی مشورہ دیاتھاکہ برے لوگوں کی بستی کوچھوڑکرنیک لوگوں کی بستی میں چلے جاؤتاکہ گناہوں سے دورہو سکو۔ اُس کے بعدکامرحلہ ہے،گناہ کی صفائی۔کپڑوں میں سب سے بہتر سفید رنگ کالباس ہوتاہے۔اُس کی صفائی پردیگرلباس کے بالمقابل زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اُسی کی مثال دیتے ہوئے اللہ سے یہ دعاکی جارہی ہے کہ ہمارے گناہوں کوسفید لباس کی طرح پاک وصاف کردے۔گناہ کی تاثیرگرم ہوتی ہے۔تبھی توگناہ کرنے کے بعدآدمی کوپسینہ نکل آتاہے،(بشرطیکہ دل میں ایمان کی رمق باقی ہو۔ورنہ دل مکمل طورپرسیاہ ہوچکا ہو تو ایسے شخص کوگناہ آلودزندگی میں ہی مزہ آتاہے۔)اُس گرمی کومٹانے کیلئے پانی،برف اوراُولے سے دھونے کی دعاکی جارہی ہے۔سب سے پہلے پانی کاذکرہے ،اِس لئے کہ عام طورپریہ برف سے ٹھنڈک میں کم ہوتاہے اوراُس کے بعدبرف کاذکرہے۔اوراُس کے بعداُولے کاجوکہ برف سے زیادہ ٹھنڈہوتاہے۔ اِس دعاکی افادیت و جامعیت بتلانے کیلئے یہ مختصرتشریح کردی گئی ہے،تاکہ دعاکرتے وقت بندے کے دل میں معنیٰ کے سمجھنے کی وجہ سے کیفیت بہترہو۔

    *یایہ دعاتکبیرتحریمہ کے بعدپڑھیں:’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَااِلٰہَ غَیْرُکَ‘‘ ( ترمذی : ۲۴۴ ) ترجمہ : ’’ اے اللہ!توپاک ہے،(ہم)تیری تعریف کے ساتھ(تیری پاکی بیان کرتے ہیں)تیرانام(بڑاہی)بابرکت ہے،تیری بزرگی بلند ہے،تیرے سواکوئی معبودنہیں۔‘‘

    *پھر یہ دعاپڑھیں:’’اَعُوْذُبِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ‘‘(ابوداؤد:۷۷۵)ترجمہ:’’اللہ کی پناہ مانگتاہوں جو ( ہر آواز کو )سننے ولا(اورہرچیزکو)جاننے والاہے،مردودشیطان(کے شر)سے،اُس کے خطرے سے،اُس کی پھونکوں سے اوراُس کے وسوسے سے۔‘‘

    *سورہ فاتحہ اوراُس کے بعدکوئی دوسری سورہ یاقرآن جتنامیسرہوپڑھے:حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے پیچھے  صلاۃ پڑھی وہ بلندآوازسے’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘نہیں پڑھتے تھے۔(صحیح ابن خزیمہ:۴۹۵) اِس کا مطلب یہ ہے کہ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ‘‘سراً(یعنی آہستہ)پڑھاجائے۔*حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکراورعمررضی اللہ عنھماقراء ت ’’الحمدللہ رب العٰلمین ‘‘سے شروع کرتے۔‘‘(بخاری:۷۴۳)*سورہ فاتحہ کاپڑھناامام اورمقتدی دونوں کیلئے ضروری ہے:’’جس شخص نے ( صلاۃ میں)سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اُس کی  صلاۃ  نہیں۔ ‘‘(بخاری:۷۵۶)’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم  صلاۃ فجرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے،آپ نے قرآن پڑھا،پس آپ پر پڑھنا بھاری ہوگیا۔جب  صلاۃ سے فارغ ہوئے توفرمایا:شایدتم اپنے امام کے پیچھے پڑھاکرتے ہو؟ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول!ہاں۔آپ نے فرمایا:سوائے سورہ فاتحہ کے اور کچھ نہ پڑھاکرو، کیونکہ اُس شخص کی  صلاۃ نہیں ہوتی جوسورہ فاتحہ نہ پڑھے۔‘‘(ابوداؤد:۸۲۳)اِس حدیث سے دواہم مسائل معلوم ہوتے ہیں(۱)امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے،گرچہ وہ جہری  صلاۃ ہو(جن  صلاۃ وں میں بلندآوازسے تلاوت کی جاتی ہے اُنھیں جہری  صلاۃ کہتے ہیں۔)(۲) مقتدی جہری  صلاۃ وں میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے گا،اُس کے علاوہ کوئی اورسورہ نہیں پڑھے گا۔البتہ سرّی  صلاۃ وں(ظہراورعصر)میں سورہ فاتحہ کے بعددیگرسورتوں کی تلاوت کرسکتے ہیں۔’’حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  صلاۃ ظہرکی شروع کی دورکعتوں میں تیس(۳۰)آیتوں کے برابرتلاوت کرتے اوراُس کے بعدکی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر ۔ اورعصرکی شروعاتی دورکعتوں میں پندرہ آیات کے برابر۔اوراخیرکی دو رکعتوں میں سات آیات۔‘‘(مسلم:۱۰۴۳)ظاہرسی بات ہے کہ آپ کی  صلاۃ ظہروعصرکی تلاوت کا اندازہ بغیرقرآن کی تلاوت کے ممکن نہیں ہے۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ  صلاۃ ظہروعصرمیں مقتدی سورہ فاتحہ کے بعدبھی تلاوت کرسکتاہے۔

     

    *آمین کامسئلہ:اکیلے  صلاۃ اداکرنے والاہر صلاۃ میںآمین،آہستہ کہے گا۔اورظہروعصرکی  صلاۃ میں امام کے پیچھے آمین،آہستہ کہی جائے گی۔اِس لئے کہ اِن  صلاۃ وں میں بلندآوازسے آمین کہنے کاثبوت نہیں ملتا۔البتہ جہری  صلاۃ میں امام کے پیچھے ہوں توجس وقت امام (ولاالضآلین)کہے توامام اور مقتدی دونوں کواونچی آوازسے آمین کہنا چاہئے۔ ’’حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(غیرالمغضوب علیھم ولاالضآلین)پڑھا،پھرآپ نے بلندآوازسے آمین کہا ۔ ‘‘ ( ترمذی :۲۴۹)*’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب امام آمین کہے توتم بھی آمین کہو ۔جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تواُس کے پہلے کے (صغیرہ ) گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔‘‘(بخاری:۷۸۰)صغیرہ گناہ کی وضاحت اِس لئے کردی گئی ہے کہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کیلئے توبہ واستغفارکاخصوصی اہتمام کرناضروری ہے۔ امام خزیمہ رحمہ اللہ نے اِس حدیث کی شرح میں بہت اہم بات ارشادفرمائی ہے،وہ کہتے ہیں کہ:’’اِ س حدیث سے ثابت ہواکہ امام اونچی آوازسے آمین کہے،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کوامام کی آمین کے ساتھ آمین کہنے کاحکم اُسی صورت میں دے سکتے ہیں جب مقتدی کومعلوم ہوکہ امام آمین کہہ رہاہے۔کوئی عالم تصورنہیں کرسکتاکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کوامام کی آمین کے ساتھ آمین کہنے کاحکم دیں جبکہ وہ اپنے امام کی آمین کوسن نہ سکے۔‘‘(صحیح ابن خزیمہ:۱-۲۸۶)*’’حضرت عطابن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:میں نے دوسو(۲۰۰)صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کواِس مسجدمیں دیکھاکہ جب امام(ولاالضآلین)کہتاتوسب بلندآوازسے آمین کہتے ۔‘‘(السُنن الکبریٰ للبیہقی:۲۴۵۵)*’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہودی جس قدرسلام اورآمین سے چڑتے ہیں اُتناکسی اورچیزسے نہیں چڑتے ۔ ‘‘ (ابن ماجہ:۹۰۵)

    *رکوع کابیان:سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعدکسی اور سورہ یاقرآن کے کچھ حصہ کی تلاوت کرلیں تورکوع کی جائے گی۔رکوع کاطریقہ درج ذیل ہے:*رکوع میں جاتے وقت اَللّٰہُ اِکْبَرُکہہ کردونوں ہاتھ کندھوں یاکانوں تک اٹھائیں۔(بخاری:۷۳۵،مسلم:۸۹۱)*رکوع میں پیٹھ بالکل سیدھی رکھیں اورسرکوپیٹھ کے برابریعنی سرنہ اونچا ہو اورنہ نیچا۔دونوں ہاتھوں کی انگلیاں گٹھنوں پررکھیں۔(مسلم:۱۱۳۸)*دونوں کوتان کررکھیں،ذراخم نہ ہو۔انگلیوں کے درمیان فاصلہ ہو(یعنی انگلیوں کوایکدوسرے سے ملا کر نہ رکھیں) اورگھٹنوں کومضبوطی سے تھامیں۔(ابوداؤد:۷۳۱)*رکوع کی حالت میں اپنی کُہنیوں کوپہلوؤں سے دوررکھیں۔(ترمذی:۲۶۱)

    *رکوع کی دعائیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے رکوع میں تین مرتبہ(سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم)ترجمہ:’’میراعظیم رب (ہر عیب سے)پاک ہے۔ ‘‘ کہا،اُس کارکوع پوراہوگیا۔(ابن ماجہ:۹۴۰)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تین مرتبہ(سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ) ترجمہ:’’اللہ(ہرعیب سے)پاک ہے(ہم)اُس کی تعریف کے ساتھ(اُس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)‘‘پڑھتے تھے۔(ابوداؤد:۸۸۵)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اورسجدوں میں یہ پڑھاکرتے تھے ( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَاوَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ)ترجمہ:’’اے ہمارے پروردگار اللہ!تو پاک ہے،ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔یاالٰہی!مجھے بخش دے۔ ‘‘ ( بخاری : ۷۹۴ )*اِن کے علاوہ بھی کئی دعائیں رکوع اورسجودکی احادیث سے ثابت ہیں ،اُن میں سے کسی بھی ایک دعاکوپڑھ لیں توکافی ہوجائے گا۔ایک بات کادھیان رہے کہ جو دعا پہلی رکعت کے رکوع اورسجدوں میں پڑھی اُسی کو پوری  صلاۃ میں پڑھاجائے۔ایسانہیں کہ پہلی رکعت میں کوئی دعاپڑھیں،پھردوسری رکعت میں کوئی اور۔علاوہ ازیں مسنون دعاؤں میں سے کوئی ایک ہی پڑھیں،ایک رکوع یاسجدہ میں کئی دعائیں نہیں پڑھی جاسکتی ہیں،اِس لئے کہ ایساکرنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔اِس مسئلے کی وضاحت شیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’صفۃ صلوٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘میں کی ہے۔

    *قومے کابیان:(رکوع کے بعدکھڑے رہنے کوقومہ کہتے ہیں)رکوع سے سراُٹھاکرسیدھے کھڑے ہوکر(سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)کہیں،رفع الیدین کریں اوریہ دعا پڑھیں (رَبَّنَاوَلَکَ الْحَمْدُحَمْداًکَثِیْراًطَیِّباًمُّبَارَکاًفِیْْہِ)۔(بخاری:۷۳۵-۷۹۹)ترجمہ:’’اے ہمارے رب!تیرے ہی واسطے تعریف ہے،بہت زیادہ،پاکیزہ اور بابرکت تعریف۔‘‘

    *سجدے کابیان:’’اَللّٰہُ اَکْبَرَُ‘‘کہتے ہوئے سجدہ میں جائیں۔(بخاری:۸۰۳)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تواُونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔‘‘(ابوداؤد:۸۴۰)*سجدے میں ناک اورپیشانی زمین پرٹکائیں۔ (بخاری:۸۱۲)*دونوں ہاتھوں کوکندھوں کے برابررکھیں۔(ابوداؤد:۷۳۴)*کانوں کے برابربھی رکھ سکتے ہیں۔(ابوداؤد:۷۲۶)* ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملاکررکھیں اوراُنھیں قبلہ رُخ رکھیں۔ ( حاکم :۸۲۶)*دونوں ہتھیلیاں اورگھٹنے اچھی طرح زمین پرٹکائیں۔(ابوداؤد :۸۵۹) *اُس شخص کی  صلاۃ نہیں ہوتی جس کی ناک،پیشانی کی طرح زمین پرنہیں ٹکتی۔ ( دارقطنی : ۱۳۱۷ )*پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلے کی طرف مڑے ہوئے رکھیں اورقدم بھی دونوں کھڑے رکھیں۔(بخاری:۸۲۸)*سینہ،پیٹ اوررانیں زمین سے اونچی رکھیں۔ پیٹ کورانوں سے اوررانوں کو پنڈلیوں سے جدارکھیں اوردونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھیں۔(ابوداؤد:۷۳۴-۷۳۰)*کہنیوں کونہ توزمین پرٹکائیں اورنہ کروٹوں سے ملائیں،بلکہ زمین سے اونچی،کروٹوں سے الگ اور کشادہ رکھیں۔(بخاری:۸۲۸)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں اپنی کلائیوں کوزمین پر نہیں لگاتے تھے،بلکہ اٹھاکررکھتے اورپہلوؤں سے دور رکھتے یہاں تک کہ پچھلی جانب سے دونوں بغلوں کی سفیدی نظرآتی تھی۔(مسلم: ۱۱۳۴)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : مجھے حکم دیاگیاہے کہ سات ہڈیوں پرسجدہ کروں پیشانی،دونوں ہاتھ،دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے پنجوں پراور(یہ کہ ہم  صلاۃ میں)اپنے کپڑوں اوربالوں کونہ سنواریں ۔ (بخاری:۸۱۲)*عورتیں بازونہ بچھائیں:بہت سی عورتیں سجدہ میں بازوبچھالیتی ہیں اورپیٹ کورانوں سے ملاکررکھتی ہیں۔اوردونوں قدموں کوبھی زمین پرکھڑانہیں کرتیں۔یہ عمل سنت رسول کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی(مردہویاعورت)اپنے بازوسجدے میں اِس طرح نہ بچھائے جس طرح کتّا بچھاتا ہے۔ ( بخاری :۸۲۲)*رکوع یاسجدے میں قرآن کی تلاوت منع ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خبردار!مجھے رکوع اورسجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے۔ (مسلم : ۱۱۱۰ )

    *سجدہ کی دعائیں:’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ترجمہ:’’میرابلندپروردگار(ہرعیب سے)پاک ہے۔‘‘جس نے سجدے میں تین مرتبہ پڑھا اُس کاسجدہ پوراہوگیا۔( ابن ماجہ :۹۴۰)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ پڑھاکرتے تھے:’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ‘‘ترجمہ:’’اے ہمارے پروردگار!تو(ہرعیب سے)پاک ہے،ہم تیری تعریف اورپاکی بیان کرتے ہیں۔اے اللہ!مجھے بخش دے۔‘‘(بخاری:۷۹۴)*احادیث میں اِن کے علاوہ بھی دعاؤں کاذکرہے،جنھیں پڑھاجاسکتاہے۔اختصارکی وجہ سے یہاں چنددعائیں ذکرکی گئی ہیں۔

    *درمیانہ جلسہ(دوسجدوں کے درمیان بیٹھنا):’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہہ کرسجدے سے اٹھیں،بایاں پیرموڑکراطمینان کے ساتھ کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر آ جائے،اُس پربیٹھ جائیں، ذیل کی دعاپڑھیں اورپھردوسراسجدہ کریں،ٹھیک اُسی طرح جیساکہ پہلاسجدہ کیاتھا۔(ابوداؤد:۷۳۰)*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامعمول تھاکہ (دوسجدوں کے درمیان بیٹھتے وقت)اپنادایاں پیرکھڑاکرلیتے۔(بخاری:۸۲۸)*دونوں پیرکی انگلیاں قبلہ رخ کرتے۔(نسائی: ۱۱۶۶) *کبھی کبھی اپنے قدموں اورایڑیوں پر بیٹھتے۔ (مسلم : ۱۱۲۶ )

    *جلسہ کی دعائیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعاپڑھتے تھے(اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِ نِیْ وَارْزُقْنِیْ ) ترجمہ : ’’ اے اللہ!مجھے بخش دے،مجھ پررحم فرما،مجھے ہدایت دے،مجھے عافیت سے رکھ اورمجھے روزی عطافرما۔‘‘(ابوداؤد:۸۵۰) *یایہ دعا پڑھیں(رَبِّ اغْفِرْلِیْ،رَبِّ اغْفِرْلِیْ) ترجمہ :’’اے میرے رب!مجھے معاف فرما،اے میرے رب!مجھے معاف فرما۔‘‘(ابوداؤد:۸۷۴)

    *دوسراسجدہ:’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہہ کردوسراسجدہ کریں،ٹھیک اُسی طرح جیسے پہلاسجدہ کیاتھا۔اُس کے بعد’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہہ کرسجدے سے اٹھیں ۔(ابوداؤد:۷۳۰)

    *جلسۂ استراحت:دوسراسجدہ کرنے کے بعدایک رکعت مکمل ہوگئی،اب دوسری رکعت کیلئے اٹھیں۔لیکن اٹھنے سے قبل’’جلسۂ استراحت‘‘میں ذرابیٹھ کر اٹھیں۔ دوسرا سجدہ کرنے کے فوراًبعدہی کھڑے نہ ہوجائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی  صلاۃ کی طاق(پہلی اورتیسری)رکعت کے بعدکھڑے ہونے سے قبل اچھی طرح بیٹھتے تھے۔ (بخاری : ۸۲۳)*جلسۂ استراحت سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پرٹیک کراٹھیں۔(بخاری:۸۲۴)

    *دوسری رکعت:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کیلئے کھڑے ہوتے تو(دعائے افتتاح کیلئے رکے)بغیرسورہ فاتحہ کی قرأت شروع کردیتے تھے(یعنی دعائے افتتاح صرف پہلی رکعت میں ہی پڑھاکرتے تھے۔)(مسلم:۱۳۸۴)جس طرح پہلی رکعت اداکی گئی اُسی طرح  صلاۃ کی سبھی رکعتیں اداکی جائیں گی۔فرق صرف سورہ فاتحہ کے بعدکسی اورسورہ کے پڑھنے یانہ پڑھنے اورقرأت کے طویل یامختصرکاہے۔

    *تشہد:دوسری رکعت کے دوسرے سجدے کی ادائیگی کے بعدبایاں پیربچھاکراُس پربیٹھ جائیں اوردایاں پیرکھڑارکھیں(اِ س قعدہ اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ ) ( بخاری : ۸۲۸ )*دائیں ہاتھ کواپنے دائیں اوربائیں ہاتھ کواپنے بائیں گھٹنے پررکھیں۔(مسلم:۱۳۳۵)*یاگھٹنوں کی بجائے رانوں پررکھیں۔ (مسلم:۱۳۳۶)*پہلے تشہدمیں درود شریف پڑھناچاہئے۔(تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو:تفسیراحسن البیان:۱۱۹۱-۱۱۹۰)*مسئلۂ رفع سبابہ(انگشت شہادت کاحرکت دینا):حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دوسرے سجدے سے اٹھ کرقعدہ میں)بیٹھے،دوانگلیوں کوبندکیا (انگوٹھے اوردرمیان کی انگلی سے حلقہ بنایا)اورانگشت شہادت(کلمے کی انگلی)سے اشارہ کیا۔(ابوداؤد:۷۲۶)دوسری روایت میں ہے کہ ’’انگلی اٹھائی اور اُسے ہلاتے ہوئے دعاکرر ہے تھے۔‘‘(نسائی: ۸۹۷)*تشہدمیں انگلی میں تھوڑاساخم ہونا چاہئے۔ ( ابوداؤد :۹۹۳)*(تشہدمیں نگاہ انگلی کے) اشارے پرٹکی رہنی چاہئے۔( نسائی:۹۹۲)*تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہوں تو(اَللّٰہُ اَکْبَرُ)کہتے ہوئے اٹھیں اوررفع الیدین کریں۔ ( بخاری:۷۳۹) *اب آپ تیسری یاچوتھی رکعت بدستورپڑھ کربیٹھ جائیں۔

    *تشہدکی دعائیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم  صلاۃ میں(تشہدکیلئے)بیٹھوتویہ دعاپڑھو:(اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ،اَالسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اَلسَّلَامُ عَلَیْنَاوَعَلٰی عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ)ترجمہ:’’(میری ساری) قولی،بدنی اورمالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے خاص ہیں۔اے نبی!آپ پراللہ کی رحمت،سلامتی اوربرکتیں ہوں اورہم پراوراللہ کے(دوسرے)نیک بندوں پر ( بھی ) سلامتی ہو۔میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی(سچا)معبودنہیں اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے بندے اوررسول ہیں۔‘‘*تشہدکے بعددرودشریف پڑھیں : (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمّدٍکَمَاصَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ،اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمّدٍ کَمَابَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ)ترجمہ:’’یاالٰہی!رحمت فرمامحمدصلی اللہ علیہ وسلم اورآل محمدپر،جس طرح تونے رحمت فرمائی ابراہیم علیہ السلام اورآل ابراہیم پر،بے شک توتعریف والااوربزرگی والاہے۔یاالٰہی!برکت فرمامحمدصلی اللہ علیہ وسلم پراورآل محمدپر،جس طرح تونے برکت فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اورآل ابراہیم پر۔بے شک توتعریف والااوربزرگی والاہے۔‘‘(بخاری:۳۳۷۰)

    *آخری قعدہ(تشہد):جب وہ سجدہ آتاجس کے بعدسلام ہے(یعنی آخری رکعت کادوسراسجدہ کرنے کے بعدبیٹھتے)تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنابایاں پیر ( دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر)نکالتے اوراپنی بائیں جانب کے کولہوپربیٹھتے،پھر(تشہد،دروداوردعاپڑھ کر)سلام پھیرتے۔(ابوداؤد: ۷۳۰)اِس طرح بیٹھنے کو’’تورُّک‘‘کہتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ عورتیں تواِس سنّت پرعمل کریں لیکن مردحضرات نہیں؟جبکہ یہ سنّت مردوعورت دونوں کیلئے ہے۔*دوسرے قعدہ میں ’’التحیات اوردرود‘‘کے بعدیہ دعائیں پڑھیں:(اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْماًکَثِیْراًوَّلَایِغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّااَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) ترجمہ : ’’ یاالٰہی!بلاشبہ میں نے اپنی جان پربہت زیادہ ظلم کیاہے اورتیرے سوا گناہوں کوکوئی نہیں بخش سکتا،پس اپنی مغفرت سے مجھے بخش دے اورمجھ پررحم کر،بے شک توہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(بخاری:۸۳۴)*(اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِوَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْےَاوَالْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)ترجمہ:’’یاالٰہی!میں تیری پناہ میں آتاہوں عذاب قبرسے اورتیری پناہ میں آتاہوں دجال کے فتنے سے اورتیری پناہ میں آتاہوں زندگی وموت کے فتنے سے،یاالٰہی!میں گناہ سے اورقرض سے تیری پناہ مانگتاہوں۔‘‘(بخاری:۸۳۲)

    * صلاۃ کااختتام:حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں طرف سلام پھیرتے(توکہتے):’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘‘اوربائیں طرف سلام پھیرتے(توکہتے):’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘‘(ابوداؤد:۹۹۸)

    یہ  صلاۃ کی اہمیت،فضیلت اورکیفیت پرلکھاگیاایک مختصررسالہ ہے جوعام مسلمانوں کو صلاۃ کی ترغیب اورطریقہ بتانے کی غرض سے تیارکیاگیاہے۔  صلاۃ سے متعلق تفصیل جاننے کیلئے اردوزبان میں ہی قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔اللہ رب العزت سے دعاہے کہ اِس رسالہ کومرتب،معاونین اورعام مسلمین کے حق میں نافع بنائے۔بالخصوص مرتب اورمعاونین کیلئے صدقۂ جاریہ اورنجات اخروی کاذریعہ بنائے۔آمین۔