ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔     ایک صاحب ایمان کو موت کے بعد جن اعمال سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک علم کی نشر واشاعت ہے۔ علم کی نشر واشاعت میں حصہ لیجئے۔    
  • پڑھنے میں دشواری؟
     
    تعداد زائرین
    hitwebcounter webcounter
     
    Flag Counter
     

    اہل سنت : ایک تعارف





    التعريف بأهل السنة والجماعة

     

    اہل سنت : ایک تعارف

     

     

    اعداد:

    عبدالہادی عبدالخالق مدنی

    داعی احساء اسلامک سینٹر ،سعودی عرب

     

     

    اہل سنت : ایک تعارف

    امت اسلامیہ کے اندر فرقہ بندی کی پیشین گوئی اور اہل حق کی نشان دہی :

    متعدد احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی مذکور ہے کہ آپ کی امت اختلاف، فرقہ بندی اور گروہ بندی کا شکار ہوگی ۔ چنانچہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول  ہے: "افترقت اليهود على إحدى او ثنتين وسبعين فرقة، ‏‏‏‏‏‏وتفرقت النصارى على إحدى او ثنتين وسبعين فرقة، ‏‏‏‏‏‏وتفترق امتي على ثلاث وسبعين فرقة"([1]).

    ترجمہ: ”یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی “۔

    ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا  مزید ارشاد ہے: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً - يَعْنِي: الْأَهْوَاءَ -، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ،([2])"

    ترجمہ: ” یہود و نصاری اپنے دین میں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے  اور یہ  امت  (بدعات کی بنا پر) تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی، تمام جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ  جماعت ہے “۔

    ایک حدیث میں یہ الفاظ وارد ہیں : «كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً, قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي([3])».

    ترجمہ: ”  ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے“۔

    مذکورہ احادیث پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلاف کے ذکر کے بعد حق پر قائم رہنے والوں کی نشاندہی بھی فرما دی  البتہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کوئی نام بتانے کے بجائے وصف کا ذکر فرمایا کیونکہ نجات کے معاملہ میں وصف و کردار ہی کی اصل اہمیت ہے۔

    آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول سے یہ بات عیاں اور بیاں ہوجاتی ہے کہ فرقۂ  ناجیہ وہ فرقہ ہوگا جو اپنے قول و عمل میں، ایمان و اعتقاد میں، اخلاق و معاملات میں غرضیکہ دین و شریعت کے تمام امور میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے صحابہ کے منہج  پر  کاربند  ہوگا۔ یہ فرقہ ہرطرح کے زیغ  و ضلال سے محفوظ اور سلامت رہے گا۔

    یاد رہے کہ تہتر فرقوں میں صرف یہی ایک فرقہ  بلکہ جماعت "ناجیہ" ہےیعنی صرف اسے ہی جہنم سے نجات ملنے والی ہے ۔  اسے مختصر لفظوں میں اس کے اوصاف کی بنا پر "اہل سنت وجماعت" بھی کہا جاسکتا ہے۔

    اہل سنت و جماعت کا تعارف :

    اہل سنت وجماعت کی اصطلاح سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان وعمل ہر اعتبار سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ تعالی کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور  ہرطرح کی بدعات  و خرافات سے محفوظ رہ کر خالص اسلام پر قائم اور حق کی راہ پر متفق و متحد ہیں۔  

    سنت کا لغوی معنی :

    لغوی اعتبار سے سنت طریقہ اور راستہ کا نام ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں آیا ہے: " من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها ‏‏‏‏‏‏بعده ، كتب له مثل اجر من عمل بها، ‏‏‏‏‏‏ولا ينقص من اجورهم شيء، ‏‏‏‏‏‏ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها ‏‏‏‏‏‏بعده ،  كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ‏‏‏‏‏‏ولا ينقص من اوزارهم شيء ([4])".

    ترجمہ:”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔“

    سنت کا اصطلاحی معنی:

    اہل علم نے اپنی اپنی اصطلاح کے اعتبار سے سنت کو مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے۔ جب محدثین سنت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ جو بھی قول وفعل وتقریر یا سیرت واخلاق یا جسمانی اوصاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق منقول ہیں خواہ آپ کی بعثت ونبوت سے پہلے کی بات ہو یا بعد کی سب کا شمار محدثین کی اصطلاح میں سنت میں ہوگا اور اسی کو حدیث بھی کہا جاتا ہے۔

    جب علماء اصول فقہ سنت کا لفظ بولتے ہیں تو ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وہ باتیں ہوتی ہیں جو قرآن عزیز میں موجود نہ ہوں خواہ قرآن کا بیان  اور تفسیری وضاحت ہوں یا ازسرنو مستقل احکام ہوں۔

    جب علماء عقیدہ لفظ سنت  استعمال کرتے ہیں تو ان کی مراد پورا دین ہوتی ہے اور یہ لفظ اس وقت بدعت کی ضد اور بدعت کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام عقائد اور اعمال واقوال جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفاء راشدین اور آپ کے صحابہ تھے۔

    لہٰذا   علماء عقیدہ کی اصطلاح میں اہل سنت وہ لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی احادیث وآثار کے پیروکار ہیں  کیونکہ اس وقت بدعتوں کا وجود نہیں تھا ، ان کا مبارک دور بدعات سے پاک تھا، بدعتیں بعد کے دور کی پیداوار ہیں۔

    امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بہتر بدعتوں کی اصل چار بدعتیں ہیں۔ (۱) قدریہ (۲) مرجئہ (۳) شیعہ (۴) خوارج  ۔ جو شخص ابوبکر  وعمر و عثمان وعلی  رضی اللہ عنہم کو بقیہ صحابہ سے مقدم جانے اور بقیہ کا بھی ذکر خیر کرے اور انھیں دعا دے وہ ہمہ قسم کی تشیع کی بدعت سے محفوظ ہے ،اور  جو اقرار کرے کہ ایمان قول وعمل کا نام ہے اور گھٹتا بڑھتا ہے وہ ہمہ قسم کی ارجاء کی بدعت سے محفوظ ہے ،  اور جو عقیدہ رکھے کہ ہر نیک وبد کے پیچھے صلاۃ کی ادائیگی جائز ہے ، ہر خلیفہ کے ساتھ مل کر جہاد کرنا درست ہے،  مسلمان حاکم وقت سے بغاوت کرنا جائز نہیں بلکہ ان کے لئے دعائے خیر کرنی چاہئے، وہ خوارج کی تمام قسم کی بدعتوں سے بچ جاتا ہے اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ ہرقسم کی بھلی اور بری تقدیر اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تو وہ قدریہ کی بدعت سے باہر آجاتا ہے ۔ واضح رہے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والے ہی اہل سنت ہیں۔

    آپ عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے اس قول میں محسوس کریں گے کہ اس کے اندر اہل سنت کی ایک خاص پہچان اور نشانی یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ ہرقسم کی بدعتوں سے اپنی براءت اور لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں اور خالص سنت پر جمے رہتے ہیں۔

    اہل سنت کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور شخصیت کی طرف اپنی نسبت نہیں کرتے خواہ وہ کتنی ہی عظیم شخصیت ہو۔ امام ابن بطہ نے الابانہ میں اور امام لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنہ میں ایک واقعہ ذکر کیا ہے جس سے اس کی وضاحت ہوتی ہے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ علی رضی اللہ عنہ کی ملت پہ ہیں؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں اور نہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ کی ملت پہ ہوں بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پہ ہوں۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ اپنے دین کی حفاظت اور فتنوں سے دوری کے کتنے حریص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت تک  نہیں کیا کرتے تھے۔  چنانچہ بعد کے زمانوں میں بھی علماء اہل سنت سلف کے اسی طریقہ پر قائم رہ کر دیگر نسبتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «امت کے درمیان فرقہ بندی اور ان کی جانچ ان ناموں سے کرنا جن کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا ہے درست نہیں ہے۔ مثلا کوئی سوال کرے کہ تم شکیلی ہو یا قرفندی ہو؟ یہ وہ باطل نام ہیں جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں کی ہے ، اس کی کوئی دلیل کتاب وسنت اور آثار سلف میں نہیں ہے ، نہ شکیلی کی دلیل ہے اور نہ قرفندی کی۔ ایک مسلمان سے جب اس طرح کا سوال کیا جائے تو اسے یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نہ شکیلی ہوں نہ قرفندی بلکہ میں مسلمان ہوں، کتاب وسنت کا متبع اور پیروکار ہوں، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ہمارا نام مسلم ومومن وعباد اللہ رکھا ہے، اللہ کے ان رکھے ہوئے ناموں کو چھوڑ کر ہم وہ نام ہرگز اختیار نہیں کرسکتے جو لوگوں کے خودساختہ ہیں اور اللہ نے جن کی کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے([5])»۔

    یہ بات پوری طرح واضح اور عیاں ہوگئی کہ اہل سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور شخصیت کی طرف اپنی نسبت نہیں کرتے اور کتاب وسنت کے سوا کسی اور منہج وطریقہ کو اختیار نہیں کرتے۔

    اہل سنت کے القاب:

    جب گمراہ فرقے مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوگئے اور بظاہر اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہوئے اپنی بدعتوں کی تبلیغ کرنے لگے تو اہل حق کی پہچان کے لئے اور اہل بدعت سے ان کے امتیاز کے لئے انھیں بھی اسلام سے ماخوذ شرعی نام  یا لقب کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ چنانچہ ان کے چند القاب یہ ہیں:

    اہل سنت ، الجماعت، فرقہ ناجیہ ، طائفہ منصورہ ، السلف ، اہل الحدیث ، اہل الاثر

    واضح رہے کہ یہ تمام نام یا القاب اسلام پر دلالت کررہے ہیں ، نہ اس میں کسی شخصیت کی طرف نسبت ہے اور نہ ہی کسی مخصوص بدعت کی طرف جیسا کہ اہل بدعت کے ناموں میں ہوتا ہے۔

    اہل بدعت اپنے نام اور لقب میں یا تو کسی شخصیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں یا اپنی بدعت کی طرف ۔

    شخصیت کی طرف نسبت کی مثالیں: مثلاً : جہمیہ جہم بن صفوان کی طرف ، زیدیہ زید بن علی بن حسین  کی طرف ، کلابیہ عبد اللہ بن کلاب کی طرف ، اشعریہ  ابو الحسن اشعری کی طرف  منسوب ہیں۔

    بدعت  کی طرف نسبت کی مثالیں:  مثلاً رافضہ زید بن علی کے رفض وانکار کی بنا پر ، نواصب اہل بیت کی عداوت کو نصب العین بنانے کی بنا پر، قدریہ تقدیر کے انکار کی بنا پر، صوفیہ صوف یعنی اون کا لباس پہننے کی بنا پر، باطنیہ نصوص میں ظاہر وباطن کا عقیدہ رکھنے کی بنا پر، خوارج علی رضی اللہ عنہ سے خروج اور بغاوت کرنے کی بنا پر۔

    اہل سنت کے القاب کی تشریح :

    ۱۔ اہل سنت :

    سنت کا لفظ پورے اسلام کو شامل ہے جیسا کہ عرباض بن ساریہ  رضی اللہ عنہ   کی روایت سے معلوم ہوتا ہے آپ بیان کرتے ہیں  کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ہم کو صلاة فجر پڑھائی،پھر ہم کو ایک بلیغ نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل دہل گئے۔ کسی نے کہا : اے اللہ کے رسول !گویا یہ رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے لہذا آپ ہمیں وصیت فرمایئے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا،وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ([6]۔

     «میں تمھیں الله  کے تقوی اور سمع وطاعت کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے جومیرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف دیکھے گا، لہذا تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اسے دانتوں سے مضبوط جکڑلو، اور اپنے آپ کو نئی ایجادشدہ چیزوں سے بچاؤ،اس لئے کہ ہر ایجاد شدہ چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے»۔

              نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنی اور اپنے خلفاء راشدین کی سنت کے مقابلے میں بدعت کا ذکر کیا ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ جو چیز بھی آپ اور آپ کے خلفاء کی سنت سے خارج ہو وہ بدعت ہے ، اگر اسلام کی کوئی چیز آپ اور آپ کے خلفاء کی سنت کو شامل نہ ہوتی تو اس کے باہر کی تمام چیزوں کو بدعت نہ قرار دیتے، اس سے معلوم ہوا کہ سنت پورے اسلام کو شامل ہے۔

              اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ مسلمان کہلانا اور اہل سنت کہلانا ایک ہی بات ہے۔

    ۲۔ الجماعت :

     یہ وہ نام ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔

    عن معاوية بن ابي سفيان رضي الله عنه، ‏‏‏‏‏‏إنه قام فينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ ألا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فينا، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ "ألا إن من قبلكم من أهل الكتاب افترقوا على ثنتين وسبعين ملة، ‏‏‏‏‏‏وإن هذه الملة ستفترق على ثلاث وسبعين:‏‏‏‏ ثنتان وسبعون في النار، ‏‏‏‏‏‏وواحدة في الجنة وهي الجماعة، ‏‏‏‏‏‏زاد ابن يحيى، ‏‏‏‏‏‏وعمرو في حديثيهما:‏‏‏‏ وإنه سيخرج من أمتي أقوام تجارى بهم تلك الأهواء كما يتجارى الكلب لصاحبه، ‏‏‏‏‏‏وقال عمرو:‏‏‏‏ الكلب بصاحبه لا يبقى منه عرق ولا مفصل إلا دخله"([7]).

    معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا: سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”سنو! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے، بہتر) ۷۲ (فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی »الجماعة« ہے“۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا: ”اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو۔ اور عمرو کی روایت میں »لصاحبه«  کے بجائے »بصاحبه «ہے اس میں یہ بھی ہے: کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔

    اس حدیث میں جماعت سے مراد اہل سنت ہیں کیونکہ وہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی راہ پر قائم ہیں  اور وہی مسلمانوں کی جماعت ہیں۔ اہل بدعت اس جماعت سے نکل نکل کر فرقے بناتے رہے ہیں۔

    ۳۔ فرقہ ناجیہ:

    یہ لقب اختلاف امت والی مذکورہ حدیث کے مفہوم سے ماخوذ ہے ، یہ وہ لقب ہے جس کے مستحق صرف اہل سنت ہی ہیں کیونکہ فرقہ ناجیہ کی جو  صفات احادیث میں وارد ہیں وہ اہل سنت کے اندر ہی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر حدیث میں ہے کہ  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» (جس راہ پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں ) یہ سنن ترمذی کی حسن درجہ کی حدیث ہے۔ یعنی فرقہ ناجیہ میں وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریق پر ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ اہل سنت کے سوا کوئی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ٹھیک ٹھیک قائم نہیں ہے ۔ اہل سنت ہی وہ لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی احادیث کو پڑھتے پڑھاتے اور سیکھتے سکھاتے ہیں  اسی لئے یہ اہل حدیث کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

    ۴۔ طائفہ منصورہ :

    یہ وہ نام ہے جو معاویہ بن قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ  کی حدیث سے ماخوذ ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة "([8])،    ”میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“۔

    اور صحیحین میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے : "لا يزال طائفة من أمتي ظاهرين حتى يأتيهم أمر الله وهم ظاهرون"([9]).    «میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا (اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے»۔ 

    اہل علم نے صراحت کی ہے کہ اس حدیث میں مذکور طائفہ منصورہ سے مراد اہل سنت ہی ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں:    «قال البخاری : هم أهل العلم، وقال احمد بن حنبل : إن لم يكونوا أهل الحديث فلا أدري من هم , وقال القاضي عياض:  إنما أراد أحمد أهل السنة والجماعة  ومن يعتقد مذهب أهل الحديث([10])»۔

    تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اہل سنت وجماعت ہی طائفہ منصورہ ہیں ، جب جب دین کے نشانات مٹنے لگےتب تب اللہ تعالی نے امت کے ایمان وعقیدے کی اصلاح کے لئے ائمہ حدیث کو پیدا فرمایا اور انھوں نے دین کی تجدید کی۔

    جب دوسری صدی کے نصف آخر اور تیسری صدی کی ابتدا میں انکار صفات باری اور خلق قرآن کا فتنہ اٹھا تو اللہ تعالی نے  امام احمد بن حنبل ، امام بخاری، اور امام عثمان بن سعید دارمی جیسے علماء سلف کو پیدا فرمایا جنھوں نے اس فتنہ کا قلع قمع کیا ۔

    اور جب ساتویں صدی ہجری میں یونانی فلسفے، علم کلام اور گمراہ صوفیاء کا زور ہوا تو اللہ تعالی نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اور دیگر علماء سلف کے ذریعے ان فتنوں کا زور توڑا اور صحیح عقیدہ کی وضاحت فرمائی۔

    اور جب بارہویں صدی ہجری میں لوگوں میں جہالت اور شرک پھیل گیا ، قبرپرستی عام ہوگئی ، مردوں کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا جانے لگا تو اللہ عز وجل نے شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کو پیدا فرمایا جنھوں نے توحید خالص کی وضاحت کی  اور اللہ کی توفیق ونصرت سے شرک اور قبر پرستی کا زور توڑا۔

    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی دعوت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم صاف ستھرے عقیدہ کی نعمت سے بہرہ ور ہیں۔

    مذکورہ تاریخی دلائل اس بات پر گواہ ہیں کہ کہ اہل سنت ہی طائفہ منصورہ ہیں۔

    ۵۔ السلفیون :

    اہل سنت کو سلفی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ سلف صالح کی روش پر گامزن ہیں۔ سلف صالح سے مراد صحابہ وتابعین اور خیر وہدایت کے ساتھ ان کے متبعین ہیں۔ اہل بدعت سے امتیاز کے لئے اہل سنت اس نام کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریق کو جوں کا توں اپنا رکھا ہے۔

    اہل سنت وجماعت کی  بعض اہم خصوصیات:

    ۱۔ اہل سنت کی نگاہوں کے سامنے ہمیشہ  ان کا مقصد حیات ہوتا ہے، وہ اپنی ہردعوت اور اپنی ہرگفتگو میں توحید وشرک کی وضاحت کو اولیت دیتے ہیں۔

    ۲۔ اہل سنت حق کی معرفت کے لئے وحی آسمانی یعنی کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ وہ دین کے مکمل ہونے پر قطعی یقین رکھتے ہیں اسی لئے  ان کا ماننا ہے کہ   ذہنی افکار وآراء اورقیاسات وتجربات یا الہامات ومنامات سے حق نہیں حاصل کیا جائے گا۔

    ۳۔ اہل سنت کبھی اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہیں  بڑھتے۔ نہ عقل وفلسفہ کے نام پر،  نہ ذوق ووجد کے نام پر، نہ حکمت وسیاست کے نام پر، نہ تصوف وسلوک کے نام پر ، نہ ظاہر وباطن کے نام پر ، نہ شریعت وحقیقت کے نام پر  اور نہ ہی  کسی شیخ ، مرشد،  مجدد، پیر یا امام کے نام پر بلکہ کتاب وسنت کے  اعتصام وتمسک پر  سداقائم رہتے ہیں۔

    ۴۔ اہل سنت حق پر قائم رہتے ہوئے اتحاد واجتماع امت کی دعوت وکوشش میں لگے رہتے ہیں۔

    ۵۔ اہل سنت لوگوں پر حکم لگانے میں عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

    ۶۔ اہل سنت مطمئن وپرسکون ہوتے ہیں  کیونکہ انھیں قرآن وحدیث کے دلائل کی بنیاد پر بصیرت حاصل ہوتی ہے۔

    ۷۔ اہل سنت  مسلمان فرقوں کے درمیان اسی طرح اعتدال وتوسط پر قائم ہوتے ہیں جس طرح اہل اسلام بقیہ تمام مذاہب کے درمیان اعتدال ووسطیت پر قائم ہوتے ہیں۔

    اہل اسلام کے توسط واعتدال کی چند مثالیں:

    ۱۔ انبیاء ورسل اور اولیاء وصالحین کے بارے میں نہ ہی نصاری کا غلو ہے کہ انھیں رب اور معبود بنالیں اور نہ ہی یہود کی جفا ہے کہ انھیں قتل کرڈالیں بلکہ اہل اسلام  اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لاتے اور ان کی تعظیم وتوقیر اور محبت واطاعت کرتے ہیں۔

    ۲۔ عیسی علیہ السلام کے تعلق سے نہ ہی نصاری کا غلو ہے کہ انھیں اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین کا تیسرا کہیں اور نہ ہی یہود کی طرح تقصیر ہے کہ ان کی والدہ پر بہتان باندھیں  اور ان کی نبوت کا انکار کریں بلکہ انھیں اللہ کا بندہ ورسول اور کلمہ وروح مانتے ہیں۔

    ۳۔ نہ ہی یہود کی طرح اللہ کے اوپر احکام کو منسوخ کرنا حرام قرار دیتے ہیں اور نہ ہی نصاری کی طرح اپنے علماء اور اکابرین کو اللہ کے دین میں تبدیلی کا حق دیتے ہیں۔

    ۴۔ نہ ہی یہود کی طرح اللہ کو مخلوق کی صفات سے متصف کرتے ہیں  جیسے قول یہود (ید اللہ مغلولۃ) یا (ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء) یا  )تعب من الخلق فاستراح یوم السبت)  اور نہ ہی یہود کی طرح  مخلوق کو خالق کی صفات سے متصف کرتے ہیں کہ مخلوق (مثلاً عیسی علیہ السلام)  ہی مغفرت ورحمت اور عذاب وثواب کے مالک ہیں۔

    ۵۔ نہ ہی یہود کی طرح محرمات ونجاسات میں شدت ہے جیسے اونٹ اور بطخ ان پر حرام ہے یا جیسے حائضہ عورت کے ساتھ رہنا اور کھانا پینا ان کے یہاں منع ہے  اور نہ ہی نصاری کی طرح وسعت ہے کہ ہرخبیث اور ہرحرام چیز حلال اور ہرنجاست پاک ہے۔

    اہل سنت کے توسط واعتدال کی چند مثالیں:

    ۱۔ اللہ کے اسماء وصفات کے معاملہ میں نہ ہی انکار کرتے ہیں اور نہ ہی مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں بلکہ تحریف وتعطیل اور تکییف وتمثیل  نیز بے جا تاویل کے بغیر ان کو ثابت مان کر ان پر ایمان لاتے ہیں۔

    ۲۔ تقدیر کے معاملہ میں نہ ہی وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ قدریہ نے کیا  اور نہ ہی بندہ کو مجبور محض مانتے ہیں  جیسا کہ جبریہ کا عقیدہ ہے بلکہ ان کا ایمان ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ، بندوں کو ہدایت سے نوازتا اور دل پلٹتا ہے، جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، اس کی سلطنت میں اس کی چاہت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ، وہ تمام اعیان وصفات وحرکات کا خالق ہے ۔ ساتھ ہی اہل سنت کا یہ بھی ایمان ہے کہ بندہ بااختیار ہے اسے مجبور نہیں کہا جاسکتا ، اللہ نے ہی اسے بااختیار بنایا ہے ، اللہ اس کا اور اس کے اختیار دونوں کا خالق ہے اور یہ ایک بے مثال چیز ہے کیونکہ اللہ  تعالی خود بھی  بے مثال ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنے صفات وافعال میں بھی۔

    ۳۔ وعید کے معاملہ میں نہ ہی وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو ایمان سے خارج قرار دے کر ہمیشہ کا جہنمی قرار دیتے ہیں   جیسا کہ خوارج کا طریقہ ہے اور نہ ہی  وہ مرجئہ کی طرح ایمان کے بعد ہرطرح کے گناہ کو بے ضرر سمجھتے ہوئے مرتکب کبیرہ کے ایمان کو مثل ایمان انبیاء مانتے ہیں بلکہ اہل سنت کا ایمان ہے کہ فاسق مسلمان کے پاس اصل ایمان اور ایمان کا کچھ حصہ ہوتا ہے  البتہ ان کے پاس ایمان کامل نہیں ہوتا ، وہ اپنے اصل ایمان کی بنا پر کبھی نہ کبھی جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کئے جائیں گے اور ان کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔

    ۴۔ صحابہ کے معاملہ میں یہ نہ ہی غلو کرتے ہیں جیسے کچھ لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کو ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہما سے افضل اور امام معصوم بلکہ کچھ لوگوں نے تو نبی اور معبود مان رکھا ہے اور نہ ہی تقصیر کرتے ہیں جیسے کچھ لوگوں نے علی وعثمان رضی اللہ عنہما کو گالی دینا مستحب سمجھ رکھا ہے بلکہ انھیں کافر تک سمجھتے ہیں معاذ اللہ۔

    ۵۔ اتباع سنت کے معاملہ میں یہ نہ ہی تمام احادیث کو رد کرتے ہیں اور نہ ہی یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن کافی ہے اور نہ ہی حدیث کے نام پر جو کچھ ملے  خواہ صحیح ہو یا ضعیف وموضوع سب کو قبول کرلیتے ہیں بلکہ صحیح احادیث کو قبول کرتے اور ضعیف وموضوع احادیث کو رد کرتے ہیں۔

    اہل بدعت کی پہچان

              حقیقت یہ ہے کہ اہل بدعت کی پہچان بتائے بغیر اہل سنت کا تعارف نامکمل ہے  کیونکہ جاہلیت کا علم رکھنے والا اسلام کی قدر وقیمت بہتر سمجھتا ہے، اندھیرے روشنی کی اور بیماریاں صحت وعافیت کی اہمیت سمجھنے میں بہت معاون ہیں اسی لئے عربی کا مشہور مقولہ ہے: وبضدها تتبين الأشياء۔

    ۱۔  اہل بدعت  اپنی بدعت کے ثبوت کے لئے ضعیف اور موضوع احادیث پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ ایسی احادیث کو محدثین نے قبول کرنے کے بجائے رد کردیا ہے۔

    ۲۔ اہل بدعت اپنی بدعت کے خلاف وارد صحیح احادیث کو اس دعوی کے ساتھ رد کردیا کرتے ہیں  کہ یہ احادیث خلاف عقل یا خلاف قیاس ہیں۔

    ۳۔  اہل بدعت عربی زبان  میں مہارت تو بڑی بات ہے ایک طالب علم جتنی شدبد نہ ہونے کے باوجود قرآن وسنت کی من مانی تفسیر کرتے اور آیات واحادیث کو خود ساختہ معنی پہناتے ہیں۔

    ۴۔  اہل بدعت محکم آیات اور واضح اصولوں کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ (دیکھئے سورہ آل عمران آیت/۷)

    ۵۔ اہل بدعت دلائل کو اس کے حقیقی مقام سے پھیر کر غلط استدلال کرتے ہیں  مثال کے طور پر دعا کی عمومی  فضیلت واہمیت بیان کرکے صلاۃ کے بعد کی خصوصی اجتماعی دعا ثابت کرنے کی ناروا کوشش کرتے ہیں۔

    ۶۔ اہل بدعت قرآنی  آیات کو باہم متعارض ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور احادیث کے ساتھ بھی ان کا یہی رویہ ہوتا ہے بلکہ قرآن وحدیث کو ایک دوسرے سے ٹکراتا ہوا بتلاکر صحیح احادیث کو رد کردیتے ہیں۔  مثال کے طور پر قرآنی آیت (قوموا لله قانتين) کو رفع یدین کی صحیح احادیث سے متعارض  دکھلاکر ان احادیث کا انکار کردیتے ہیں۔  ایسے ہی وجوب قراءت فاتحہ کی احادیث کو اس آیت (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا)سے ٹکراتا ہوا ظاہر کرکے انکار  کردیتے ہیں۔

    ۷۔  اہل بدعت کتاب وسنت کے نصوص میں ظاہر وباطن اور شریعت وحقیقت کی تقسیم کرکے دین میں من مانی کرتے ہیں۔

    ۸۔ اہل بدعت  علماء ومشائخ ، اکابرین اور بزرگوں میں غلو کرکے  ان کو ان کے حقیقی مقام ومرتبے سے آگے بڑھاکر  حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

    ۹۔ اہل بدعت صحیح دلائل سے محرومی کی بنا پر  منامات وحکایات ، قصے کہانیوں اور خوابوں کو دلیل بنایا کرتے ہیں۔

    اس مقالہ  کے اختتام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایسی کتابوں کا ذکر کردیا جائے جہاں سے اس مضمون سے متعلق تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس حوالہ سے امام شاطبی  کی کتاب  "الاعتصام" ، عمر سلیمان اشقر کی کتاب "أهل السنة والجماعة أصحاب المنهج الأصيل والصراط المستقيم"  اور ڈاکٹر ابراہیم الرحیلی کی کتاب  "موقف أهل السنة والجماعة من أهل الأهواء والبدع"   وغیرہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
              اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کی بصیرت عطا فرمائے، اس کی معرفت اور اس پر استقامت کی توفیق ارزانی کرے۔ آمين والحمد لله رب العالمين۔

     



    ([1]) تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۰۲۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الإیمان ۱۸ (۲۶۴۰)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۷ (۳۹۹۱)، مسند احمد (۲/۳۳۲) (حسن صحیح)

    ([2])مسند احمد  ط الرسالۃ (۱۶۹۳۷)  اسنادہ صحیح

    ([3])سنن الترمذي -طبعة بشار -ومعها حواشي (4/ 323)2641-

    ([4]) صحيح مسلم- (2/ 704) 69 - ( 1017 )

    ([5])(فتاوی ۳/۴۱۵)

    ([6]) رواه أحمد (17145) وأبوداود (4607) والترمذي (2676) وصححه الألباني۔

    ([7]) (تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 11425)، وقد أخرجه أحمد في مسنده (4/102)، وهو حديث حسن)

    ([8])سنن ترمذی/ 2192، سنن ابن ماجه/المقدمة 1 (4) (تحفة الأشراف: 11081)، و مسند احمد (5/34-35) (صحیح)

    ([9]) أخرجه البخاري (3441) ومسلم (3/1523) 171 -(1921).

    ([10]) شرح مسلم للنووي 13/67 .